قانون بنانا آسان ،نافذ کرنا بہت ہی مشکل کام : نجم سیٹھی
کیا ہراسمنٹ قانون کے ہوتے کوئی مسئلہ حل ہوا ،حیران ہوں بل کیسے منظور ہوا کیا سارے سوالوں کے عدالتوں میں جواب ملیں گے ،آج کی بات سیٹھی کیساتھ
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ بیوی یہ پولیس کو رپورٹ کرے گی کہ خاوند نے گھور کر دیکھا ہے تو اس بات سے خاوند پر کیس ہوجائے گا ،پولیس خاوندکو بلالے گی اور کہے گی تم کیوں گھورتے ہو، خاوند کہے گا میں نے نہیں گھورا،یہ تو الزام ہے ،پولیس زیادہ اصرار کرے گی تو خاوند کہے گا ، میری بیوی کو بلاﺅ،بیوی سے پولیس پوچھے گی بیوی کہے گی،گھور کر دیکھا ہے ، خاوند کہے گا کوئی ثبوت دکھاﺅ،بیوی کہے گی میں نے جوکہا ہے سچ ہے ،پولیس کہے گی تمہارے کہنے پر کیس تو نہیں بن سکتا،تم کچھ بھی کہہ سکتی ہو،اگر خاوند کہے تم گھوررہی تھی تو ہم بھی تم پر کیس کردیں گے ،پھر پولیس پوچھے گی اس کا ثبوت دیں، کوئی گواہ پیش کرو،اگر کوئی عورت مرد کو گھورے تو اس پر بھی کیس بن جاتاہے ،بس ہم سارا دن ایک دوسرے کو گھورتے رہیں گے اور کیس بنتے جائیں گے ۔پروگرام آج کی بات سیٹھی کے ساتھ\'\' میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا پولیس ہم کو لے کرجائے گی، وکیلوں کی عیاشیاں ہو جائیں گی،ہر روز عدالت میں مجمع لگے گا مردوں، عورتوں کا آنا جانا عدالتوں میں لگا رہے گا۔
جو گھرتھوڑے بہت چل رہے ہیں وہ بھی لڑائی جھگڑے میں تباہ ہوجائیں گے ،میرے نزدیک بہت فضول قانون ہے ،قانون بناتے ہوئے یہ چیز دیکھنی چاہئے تھی اس کو کیسے ثابت کیا جائے گا، ہراسمنٹ کے اوپر قانون ہے ،ابھی یہی ہوتا ہے کہ الزام لگتے ہیں،بات یہ ہے کہ کیا ہراسمنٹ قانون کے ہوتے ہوئے کوئی مسئلہ حل ہوا ہے ،قانون بنانا آسان ہے اس کو نافذ کرنا بہت مشکل کام ہے ۔ انہوں نے کہا وہ قانون صحیح طریقے سے نافذ نہ ہوسکے تو وہ اور بھی نئے مسائل پیدا کرتا ہے ،اگر اس قانون کو غور سے دیکھا جائے اس میں جس قسم کی باتیں لکھی ہوئی ہیں اس میں کسی چیز کی وضاحت نہیں لکھی گئی تو پھر یہ کون فیصلہ کرے گا کہ یہ گھورنا صحیح ہے اور یہ گھورنا صحیح نہیں،یہ گالی ہے ،یہ گالی نہیں،یہ پیارکی گالی تھی یا غصہ کی گالی ہے ،اگر کوئی مرد غصہ کرے توکچھ دیر بعد اتر بھی جاتا ہے یہ بھی اگر کوئی غصہ میں کوئی بات کردے اس کی اہمیت نہیں ہوتی،کیونکہ غصہ میں انسان اپنے ہوش میں نہیں ہوتا،اس قانون میں کئی مسائل ہیں،میں حیران ہوں کہ بل کیسے منظور ہوگیا ،ہم کو بتایاجائے اس کی منطق کیا ہے ،سارے جوسوال کھڑے ہورہے ہیں اس کا جواب کون دے گا۔ کیا عدالتوں میں جاکر اس کے جواب ملیں گے ۔