پنجاب اسمبلی کا اجلاس ، بلوچستان کے شہداء کیلئے دعائے مغفرت
بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ممبران کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بسنت صدیوں پرانی روایت :ملک احمد ،تہوار محفوظ بنانے کیلئے کوشاں:عظمیٰ بخاری
لاہور(سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے 17 منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئرپرسن راجہ شوکت بھٹی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعے میں شہید ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔اجلاس کے دوران محکمہ اوقاف کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے گئے ۔ حکومتی رکن امجد علی جاوید نے وقف املاک پر قابضین کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ پارلیمانی سیکرٹری ملک وحید نے موقف اختیار کیا کہ بیشتر معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، تاہم چیئر پرسن نے معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ محکمہ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے ۔ بجٹ پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
اپوزیشن ارکان نے بجٹ رپورٹ میں تفصیلات کی کمی اور متعلقہ وزراء و افسر وں کی عدم موجودگی پر شدید اعتراض کیا۔ اپوزیشن رکن خالد نثار نے کہا کہ بجٹ میں صرف اربوں روپے کا ذکر ہے ، یہ نہیں بتایا گیا پیسہ کہاں خرچ ہوا ۔ احمر بھٹی نے کہا کہ وزیر اور سیکرٹریوں کی غیر موجودگی ایوان کے استحقاق کی خلاف ورزی ہے ،دوسری جانب حکومتی ارکان نے بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں کا دفاع کیا۔ چیف وہپ رانا ارشد نے کہا کہ صوبے میں تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ۔ حکومتی رکن رانا احمد شہریار نے کہا کہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب ترقی کی راہ پر گامزن ہے ، ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس آج صبح 11 بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ادھرسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے احاطہ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بسنت بہت پسند ہے تاہم ایسی ڈور جو انسانی جانوں کیلئے خطرہ بنے اس سے خوف آتا ہے ،بسنت لاہور اور پنجاب کی صدیوں پرانی روایت ہے ۔صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام روزمرہ کے دباؤ سے نکل کر خوشی کے لمحات گزارنا چاہتے ہیں ، حکومت اس تہوار کو محفوظ بنانے کیلئے کوشاں ہے ۔