بھارتی شہری کیسے پاکستان میں اپنا اٹارنی مقرر کر سکتا؟ہائیکورٹ
عالمی انسانی حقوق کنونشن کے تحت یہ ممکن :کرنیل سنگھ کے وکیل کاموقف پاکستانی شہری کو اٹارنی مقرر کرنے کے نکتے پر دلائل طلب ،سماعت ملتوی
لاہور (آئی این پی)لاہور ہائی کورٹ میں بھارتی شہری کرنیل سنگھ کی جانب سے اپنی اہلیہ سربجیت کور کے پاکستان میں نکاح کے خلاف دائر درخواست پر بطورِ اعتراض سماعت ہوئی۔ عدالت نے بھارتی شہری کی جانب سے پاکستانی شہری کو اٹارنی مقرر کرنے کے قانونی نکتے پر دلائل طلب کر لیے ۔جسٹس فاروق حیدر نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ نواز شیخ اور ایڈووکیٹ علی چنگیزی سندھو پیش ہوئے ۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کرنیل سنگھ نے سابق ایم پی اے مہندر پال سنگھ کو نمائندہ مقرر کر کے درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا کہ سربجیت کور 3 نومبر 2025 کو 10 روزہ یاتری ویزے پر پاکستان آئی تھیں۔ اہلیہ کو قابلِ اعتراض تصاویر کے ذریعے بلیک میل کر کے جبراً مسلمان کیا گیا، جبکہ ہندو میرج ایکٹ کے تحت مذہب کی تبدیلی سے پہلی شادی ختم نہیں ہوتی۔ رجسٹرار آفس نے سپیشل پاور آف اٹارنی کی محکمہ خارجہ سے تصدیق نہ ہونے پر اعتراض عائد کیا۔دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دئیے کہ بھارتی شہری کس طرح پاکستان میں اپنا اٹارنی مقرر کر سکتا ہے ، اس پر پاکستانی قوانین کے مطابق دلائل دئیے جائیں۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عالمی انسانی حقوق کنونشن کے تحت یہ ممکن ہے ، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اسے پاکستانی قوانین کے تناظر میں معاونت درکار ہے ۔عدالت نے سماعت 2 مارچ تک ملتوی کر دی۔