ایران پر امریکی حملہ:مقاصد کی تکمیل ہو پائے گی؟

ایران پر امریکی حملہ:مقاصد کی تکمیل ہو پائے گی؟

امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی وار سے خطہ میں تشویش کی لہر

(تجزیہ:سلمان غنی)

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملہ اور جواباً ایران کے اسرائیل پر حملہ سمیت بحرین کویت ریاض ابوظہبی اور قطر میں امریکی اڈوں پر وار نے خطہ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اس ضمن میں خطرات اور خدشات کا ایک سلسلہ ہے جو وسیع تر ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے ان کی میزائل انڈسٹری تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے ہمارا مقصد ایرانی حکومت سے آنے والے خطرات کو ختم اور امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے ۔ایرانی قیادت کا ردعمل بیان کی بجائے اقدام کی صورت میں آیا ہے اور لگتا یہی ہے وہ پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ لہٰذا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ایران پر حملہ سے امریکا اپنے اہداف حاصل کرلے گا اور یہ کہ ایرانی قیادت کیا امریکا کے سامنے سرنڈر کرے گی اور تصادم کا یہ سلسلہ کہاں تک بڑھے گا اس کے خطہ پر کیا اثرات ہوں گے۔

بلاشبہ ایران امریکا کی آنکھوں میں شروع سے کھٹکتا رہا ہے خصوصاً ایران کی جوہری طاقت امریکا کسی قیمت پر ہضم کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔امریکا نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے آپشن پر کام کیا اقدام کیا لیکن اسے کامیابی نصیب نہ ہوئی اور اب ان کی میزائل ٹیکنالوجی کا خاتمہ اس کی خواہش ہے ۔ امریکا ایران پر حملہ کے لئے ماحول تو کافی دنوں سے بنا رہا تھا لیکن بعد ازاں مذاکرات کا عمل اور خصوصاً ایران کی اپنے جوہری پروگرام کے حوالہ سے لچک نے یہ امکانات پیدا کئے تھے کہ مذاکرات سے حل نکل سکے ۔ مذاکراتی عمل کے بارے اچھی خبریں آ رہی تھیں۔یکدم اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا اور ساتھ ہی امریکا بھی اس جنگ میں کود آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا مذاکرات میں سنجیدہ نہیں اپنے اصل ایجنڈا پر گامزن تھا اور ایران کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنا کر اس نے اپنے اصل ایجنڈا پر عمل درآمد شروع کر دیا۔

امریکا کے اس جارحانہ اقدام سے سفارتی عمل سے تنازعات کے حل کی کوشش کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور مستقبل میں بھی یہ عمل متاثر ہوگا ۔امریکا کا اصل ایجنڈا تو ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ ہے جو ایران کے اندر سیاسی تبدیلی کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا اور اس دفعہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے عزائم کے حوالہ سے یکسو اور سنجیدہ نظر آ رہے تھے اور اپنے مقاصد یقینی بنانے بارے پرعزم تھے لیکن دوسری جانب ایرانی قیادت بھی پسپائی کے لئے تیار نظر نہیں آ رہی۔بڑا سوال یہی ہے کہ ایران کب تک جارحیت کے سامنے سینہ سپر رہے گا۔ ایرانی قوم کے اندر جذبہ اور ولولہ ہونے کے باوجود ایران امریکا کی جنگی طاقت کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ایران کے ردعمل کے بعد تنازع پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل سکتا ہے اور ایسی صورتحال میں خطہ عدم استحکام اور پراکسی جنگوں کا شکار ہو جائے گا سب سے اہم بات یہ کہ اس تنازعہ سے عالمی معیشت پر مضر اثرات ہوں گے تیل کی قیمتیں بڑھیں گی خلیج کی تجارت متاثر ہوگی اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام آئے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں