جلد ٹرائل کا حق عوامی مفاد کیلئے ضروری : اسلام آباد ہائیکورٹ

 جلد ٹرائل کا حق عوامی مفاد کیلئے ضروری : اسلام آباد ہائیکورٹ

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کیخلاف درخواست خارج

اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں ملزم اور وکیل کی عدم موجودگی میں گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے خلاف دائر درخواست خارج کردی، جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کے خلاف ملزم عمر حیات کی درخواست خارج کرنے کا 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیا، جس میں عدالت کا کہناہے کہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی میں کوئی قانونی سقم، بے قاعدگی یا دائرہ اختیار کی غلطی نہیں پائی گئی،ملزم ویڈیو لنک کے ذریعے موجود تھا جو قانونی طور پر درست حاضری تصور ہوتی ہے ،عدالتی آرڈر شیٹس کو درست اور مستند تسلیم کیا جاتا ہے ،ٹرائل کورٹ پر مقدمات کے جلد فیصلے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی قانونی ذمہ داری ہے ،آرٹیکل 10 اے کے تحت جلد ٹرائل کا حق انصاف کے وسیع تر عوامی مفاد کے لیے ضروری ہے ،وکیل کی ذمہ داری ہے وہ ذاتی سہولت کے بجائے مقدمے کی پیش رفت کے لیے عدالت میں دستیاب رہے ،محض خدشات کی بنیاد پر کسی عدالتی افسر کے طرزِ عمل پر الزامات عائد کرنا درست نہیں،جج کی کارروائی کے ساتھ غیر جانبداری کا تصور جڑا ہوتا ہے ، فیصلہ میں عدالت نے یہ ہدایت بھی کی کہ مزید تاخیر کی صورت میں ملزم کو سرکاری خرچ پر وکیل فراہم کیا جائے ،وکیل مستقبل میں ٹرائل کورٹ کے خلاف غیر مصدقہ الزامات لگانے سے گریز کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں