ایران جنگ میں نقصان، ٹرمپ کی دفاعی بجٹ بڑھانے کی تجویز
جنگ عظیم دوم کے بعد دفاع کیلئے سب سے زیادہ 1.5 ٹریلین ڈالر مانگ لیے رقم ایران جنگ میں استعمال اسلحہ ذخائر دوبارہ بھرنے پر خرچ کی جائے گی
واشنگٹن (اے ایف پی، مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے ساتھ جنگ میں ہونے والے نقصانات کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ مالی سال 2027 کیلئے دفاعی اخراجات بڑھا کر 1.5 ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز دے دی ہے ، جو امریکی تاریخ میں فوجی اخراجات کی سب سے بڑی تجاویز میں سے ایک اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہوگا۔ٹرمپ کی تجویز کے تحت دفاعی اخراجات میں تقریباً 42 فیصد اضافہ کیا جائے گا جبکہ دیگر حکومتی شعبوں کے بجٹ میں 73 ارب ڈالر کی کٹوتی کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔ بجٹ دستاویز کے مطابق نئی رقم کا بڑا حصہ میزائل دفاعی نظام، جنگی طیاروں، آبدوزوں، جدید ہتھیاروں، فوجی تنخواہوں اور ایران جنگ کے دوران استعمال ہونے والے اسلحے کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 350 ارب ڈالر ہتھیاروں کی پیداوار اور عسکری انفراسٹرکچر کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کی لاگت بعض دنوں میں 2 ارب ڈالر یومیہ تک پہنچ رہی ہے ، تاہم ماہرین کے مطابق اوسط لاگت 800 ملین سے 1 ارب ڈالر روزانہ کے درمیان رہ سکتی ہے ۔بجٹ میں ماحولیاتی منصوبوں، تعلیم، کم آمدنی والے خاندانوں کی رہائشی امداد، صحت اور دیگر سماجی پروگراموں میں کٹوتیوں کی تجویز شامل ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور بعض ذمہ داریاں ریاستی حکومتوں کو منتقل کرنے کیلئے ضروری ہیں۔اس مجوزہ بجٹ پر کانگریس میں شدید سیاسی بحث متوقع ہے ، ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے دفاعی اخراجات سے قومی قرض میں اضافہ ہوگا جبکہ صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔