اسٹاک ایکسچینج:فروخت کا دباؤ ،158ارب ڈوب گئے

اسٹاک ایکسچینج:فروخت کا دباؤ ،158ارب ڈوب گئے

1612پوائنٹس کی کمی سے 100انڈیکس 1لاکھ 50ہزار 398پر بند ہوا معاشی غیر یقینی، مہنگائی اورآئی ایم ایف ڈو مور سے دباؤبرقراررہ سکتا ،ماہرین

کراچی(بزنس رپورٹر)پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے آخری روز شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں دن بھر فروخت کا دباؤ غالب رہا اور سرمایہ کاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2917 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 1 لاکھ 49 ہزار 93 پوائنٹس کی سطح پر کھلا۔کاروباری دن کے دوران شیئر مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی، جس کی بنیادی وجوہات میں عالمی سطح پر پٹرولیم قیمتوں میں مسلسل اضافہ، مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں کا تاریخی بلند سطح تک پہنچنا، مہنگائی میں تیز رفتار اضافہ، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور بیرونی سرمایہ کاری کا اسٹاک مارکیٹ سے بتدریج انخلاء شامل ہیں ۔ ماہرین کے مطابق ان عوامل نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیاجس کے باعث مارکیٹ مسلسل تنزلی کی طرف مائل رہی۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 1612 پوائنٹس کی کمی سے 1 لاکھ 50 ہزار 398 پوائنٹس پر بند ہوا۔اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 522 پوائنٹس کمی سے 45 ہزار 453 پوائنٹس اورآل شیئر انڈیکس 849 پوائنٹس کی کمی سے 90 ہزار 84 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مندی کے باعث سرمایہ کاروں کو  158 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن کم ہو کر 16 ہزار 725 ارب روپے کی سطح پر آگئی ۔ماہرین کے مطابق معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی میں اضافہ ، آئی ایم ایف کا ڈو مور کا مطالبہ، شرح سود میں ممکنہ اضافہ اور توانائی کی بڑھتی قیمتیں مستقبل قریب میں بھی مارکیٹ پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں