قائمہ کمیٹی کاتیل مہنگا کرنے پر اظہار تشویش، کمپنیوں کی تفصیل طلب
پٹرولیم ڈویژن حالیہ تیل قیمتوں کے تعین سے متعلق ریٹ اینالیسز دے ، ارکان کمیٹی ملک میں تیل کے ذخائر صرف 20 سے 25 دن کیلئے کافی تھے ، پٹرولیم ڈویژن حکام
اسلام آباد (سید قیصر شاہ )سینیٹ قائمہ کمیٹی اقتصادی امور نے پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مکمل تفصیلات اورپٹرولیم ڈویژن سے حالیہ تیل قیمتوں کے تعین سے متعلق ریٹ اینالیسز طلب کر لیا۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہوا ،ارکان کمیٹی نے تیل قیمتوں میں اضافے کی وجوہات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا بوجھ بالخصوص کم آمدنی والے طبقات پر پڑتا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ ملک میں تیل کی ذخیرہ اندوزی اور پیدا ہونے والی بے چینی کے باعث وفاقی حکومت نے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا جبکہ دستیاب ذخائر صرف 20 سے 25 دن کیلئے کافی تھے۔
چیئرمین کمیٹی نے پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ قیمتوں میں اضافے کا فائدہ حکومت کو ہوا یا او ایم سیز کو۔ انہوں نے پٹرولیم ڈویژن سے حالیہ تیل کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ریٹ اینالیسز بھی طلب کر لیا۔کمیٹی نے 200 ملین ڈالر کے نیچرل گیس ایفیشنسی پراجیکٹ کے قرضے کی منسوخی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ،منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی ایل نے بتایا کہ قرضے کی منسوخی سے متعلق تحریری شواہد محکمے کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور تفصیلات فراہم کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی، کمیٹی نے ہدایت کی کہ دو روز کے اندر مفصل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے ۔