افغانستان نے بچوں کا خون بہایا، اب برداشت نہیں:سلمان رفیق
دہشتگردوں کا تعاقب کرینگے ،پاکستان، سعودیہ مسائل کا حل نکال سکتے :طاہر اشرفی دشمن کا مقابلہ کرناہوگا: عبدالخبیر آزاد کا تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس سے خطاب
لاہور(سپیشل رپورٹر)پنجاب قرآن بورڈ محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام ہونیوالی تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس میں کہاگیا ہے کہ افغانستان نے ہمارے احسانات کے بدلے ہمارے بچوں کا خون بہایا، اب بہت ہوچکا، اب پاکستان میں خون خرابہ نہیں ہونے دیں گے ۔ ہر دن تحفظ ناموس رسالتؐ کا دن ہے ۔ کانفرنس کی صدارت چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے کی۔ جبکہ وزیراعظم کے مشیر حافظ طاہر محمود اشرفی، رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد، سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، مولانا حسین اکبر نے کلیدی خطاب کیا۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ہم خوش نصیب ہیں کہ نبی کریم ؐکی امت میں ہمیں پیدا کیا گیا، ہر دن تحفظ ناموس رسالتؐ کا دن ہے ۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ افغانستان کا ہم نے بہت لحاظ کرلیا، ہم نے ان کیلئے قربانیاں دیں لیکن انہوں نے ہمارے بچوں کا خون بہایا، مساجد، امام بارگاہ میں خون بہایا لیکن اب ہم برداشت نہیں کرسکتے ۔
قبل ازیں حافظ طاہر محمود اشرفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کا عالمی دن منظور کرایا، اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور سعودی عرب کو ایسی طاقت دی ہے کہ دونوں مسلمان ریاستیں ملکر امت کے مسائل کا حل نکال سکتی ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف اُمت کو متحد کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔افغانستان سے ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ دہشت گردوں کی سرپرستی بند کرے ، دہشت گردوں نے پاکستانیوں کا خون بہایا ہے ہم ان کا تعاقب کریں گے ۔سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیمی ادا روں کے بچوں کو ایسی کانفرنسز میں مدعو کریں گے تاکہ وہ علماکرام سے رہنمائی حاصل کریں۔ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ہمیں نبی کریم ؐ کا امتی بنانا ہے ۔ اسرائیل ذلیل ہورہا ہے ،اسرائیل کو ذلیل ہوتا دیکھیں گے ۔علامہ حسین اکبر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا اسلامو فوبیا کیخلاف اہم کردار ہے ، دشمن ایران اور امت پر حملہ آور ہے ، ہمیں مل کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہے ۔کانفرنس سے ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، مفتی انتخاب نوری، میر محمد آصف اکبر، ضیا ئاللہ شاہ بخاری، حافظ زبیر حسن،مولانا مختار احمد ندیم، مفتی عمران انور نظامی اور عبدالوارث گل نے بھی خطاب کیا۔