مشرق وسطٰی میں جنگ بندی کیلئے پاکستان پر نظریں

مشرق وسطٰی میں جنگ بندی کیلئے پاکستان پر نظریں

سفارتی محاذ گرم ، فریقین سے رابطے ، دوستی نبھانے پر ایران شکرگزار

(جزیہ:سلمان غنی)

مسلسل جنگی کیفیت میں پاکستان کی جانب سے ایرانی قوم سے یکجہتی کے اظہار پر پاکستان کے شکریہ کا عمل جاری ہے ، جو پاکستان کی عالمی کشیدگی کے ماحول میں جرات اور مسلم ملک سے کمٹمنٹ کو ظاہر کرتا ہے ،حقیقت یہی ہے کہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ کی مذمت کی تھی اور باہمی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تھااور اب بھی پاکستان جنگ بندی کے حوالے سے سفارتی محاذ گرم کئے ہوئے ہے اورفریقین سے رابطے میں ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں پاکستانی کردار پر اسکی تعریف کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا ہے ، لہذا اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ ایران پاکستان کا اتنا مشکور کیوں ہے اورپاکستان نے یہ حکمت عملی کیونکر اختیار کی ؟،کیا مغرب اس پاکستانی کردار کو ہضم کر پائے گا؟ ۔

علاقائی صورتحال پر نظر دوڑائی جائے تو باوجود پاکستان سے ہمسائیگی کے ایران کی ترجیح بھارت رہا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ ایران کو برادر ہمسایہ ملک ہی قرار دیا۔ دو طرفہ تعلقات تو رہے مگر ان میں گرمجوشی نہ تھی۔ پاکستان پر بھارت کی حالیہ جارحیت کے عمل پر بھی ایران کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا بلکہ دس مئی کے وقت بھی ایرانی وزیر خارجہ بھارت کے دورہ پر تھے ، مگر دس مئی کو پاکستان کو ملنے والی بڑی جیت اور بھارت کو ہونے والی شکست نے پانسہ ہی بدل دیا اور پاکستان کو عالمی محاذ پر پذیرائی ملی۔پھر جب اسرائیل اور امریکا نے گزشتہ سال ایران پر جارحیت کی تو پاکستان نے کھل کر ایران کا ساتھ دیا ، جبکہ بھارت روایتی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جارح قوتوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا ،جس پر ایرانی لیڈر شپ کی آنکھیں کھلیں اور پھر ایران کو دوست اور دشمن کی پہچان ہوئی۔

اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ایرانی طرزعمل میں تبدیلی پاکستان کے مثبت طرز عمل سے آئی اور اب بھی پاکستان امریکا سے اچھے تعلقات ہونے کے باوجود ایران کا کیس پیش کرتا نظر آ رہا ہے ۔ بلا شبہ پاکستان نہیں چاہے گا کہ ایران میں کوئی ایسی تبدیلی ہو جو پاکستان کے مفاد میں نہ ہو ۔لیکن کہتے ہیں کہ دوست وہ جو مشکل وقت میں کام آئے اور ساتھ نبھائے ، لہذا ان حالات میں یہ پاکستان کا اعزاز ہے کہ وہ ایران پر جاری جارحیت کے خلاف آواز اٹھاتا نظر آتا ہے ۔جہاں تک جنگ بندی کا سوال ہے تو اب خود امریکا ایک مشکل صورتحال میں گھرا نظر آرہا ہے ۔اربوں ڈالرز روز کے نقصان کے باوجود امریکا کی فتح یقینی نہیں بن رہی جبکہ ایران جنگ بندی کی شرائط پیش کرتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اس کیفیت میں پاکستان کا کردار بڑھ رہا ہے ،خلیجی ممالک بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ،امریکا بھی جانتا ہے کہ پاکستان کا خطے کی سیاست میں بڑا کردار ہے ، لہذا کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان جنگ بندی میں کردار ادا کر سکتا ہے ۔ایران پاکستان کے اس کردار کو تسلیم کرے گا لیکن اس کے لئے پیش رفت امریکا کی طرف سے ہونی چاہیے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں