ماحولیاتی تحفظ انصاف کا لازمی جزو ہے :وفاقی آئینی عدالت

ماحولیاتی تحفظ انصاف کا لازمی جزو ہے :وفاقی آئینی عدالت

عدالت ماحولیاتی انصاف، اس کے تمام پہلوؤں کے تحفظ کیلئے پرعزم:پریس ریلیز نئی نسل پر ماحول کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری:چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) وفاقی آئینی عدالت نے ارتھ آور 2026 میں اپنی شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا اس عالمی اقدام کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی اور ماحول کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے ۔ عدالت کی عمارت کی روشنیاں 28 مارچ کو رات ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے 9 بجے تک بند رکھی جائیں گی جو ماحولیاتی پائیداری کے لیے عدالت کے عزم کی علامتی عکاسی ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ماحولیاتی تحفظ، ماحولیاتی انصاف کے تصور سے گہرا تعلق رکھتا ہے جو قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا لازمی جزو ہے ۔ عدالت ماحولیاتی انصاف کے فروغ اور اس کے تمام پہلوؤں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا موجودہ نسل پر ماحول کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ عدالت نے ماحول کے تحفظ کے لیے خصوصی گرین بینچ قائم کر رکھا ہے ، ماحولیاتی تحفظ ٹریبونل اسلام آباد میں مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے سرگرم عمل ہے ۔ عدلیہ نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے تاریخی فیصلے دیئے ۔ عوام سے اپیل ہے کہ فضلہ کم کریں، درخت لگائیں، پانی محفوظ بنائیں اور پائیدار طرزِ زندگی اپنائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں