وفاق فوری این ایف سی فارمولے پر نظرثانی کرے ،مزمل اسلم

وفاق فوری این ایف سی فارمولے پر نظرثانی کرے ،مزمل اسلم

گزشتہ آٹھ برسوں میں ضم اضلاع کے 964 ارب دیگر صوبوں کو منتقل ہوئے غیر آئینی فارمولے کے تحت وسائل کی تقسیم قابل قبول نہیں، مشیر خزانہ پختونخوا

پشاور (این این آئی) خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ صوبائی حکومت این ایف سی عمل، باہمی مشاورت اور وفاقی ہم آہنگی کے لیے پرعزم ہے ، تاہم غیر آئینی فارمولے کے تحت وسائل کی تقسیم قابل قبول نہیں، اس لیے وفاقی حکومت فوری طور پر فارمولے پر نظرثانی کرے ۔ ضم شدہ اضلاع کے مالی حقوق کے تحفظ اور پچیسویں آئینی ترمیم کے تقاضوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث صوبائی حکومت نے 11ویں قومی مالیاتی کمیشن کے سب گروپ VII کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کی آبادی اور رقبے میں اضافے کے باوجود آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 160 کے تحت این ایف سی فارمولے میں ضروری ترمیم نہیں کی گئی جس سے وسائل کی تقسیم پرانے حصص کے مطابق جاری رہی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران تقریباً 964 ارب روپے ضم شدہ اضلاع کے حصے کے باوجود دیگر صوبوں کو منتقل ہوتے رہے حالانکہ یہ وسائل ان علاقوں کی ترقی اور مغربی سرحدی علاقوں کے استحکام پر خرچ ہونا چاہیے تھے ۔ وزیر خزانہ کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت مسلسل این ایف سی فارمولے میں آئینی تقاضوں کے مطابق ترمیم کا مطالبہ کرتی رہی تاہم اس سلسلے میں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں