سائبر حملے انسانی زندگی کیلئے بھی خطرناک:ماہرین
لاہور(نیٹ نیوز)سائبر سکیورٹی کے شعبے میں ایک اہم انتباہ سامنے آیا ہے جہاں ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر حملے اب محض بینک اکاؤنٹس یا ذاتی معلومات کی چوری تک محدود نہیں رہے ، بلکہ یہ براہِ راست انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
ڈیلائٹ جنوبی ایشیا کے سائبر لیڈر گورو شکلا کے مطابق جدید دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آپریشنل سسٹمز کے درمیان بڑھتا ہوا تعلق مختلف حساس شعبوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے ، جن میں صحت، ٹرانسپورٹ، بجلی اور ہوا بازی جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر آپ شاہراہ پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ‘کنیکٹڈ کار’ چلا رہے ہوں اور اچانک گاڑی کا سٹیرنگ آپ کے کنٹرول سے باہر ہو جائے تو اس وقت آپ کو اپنے بینک بیلنس کی نہیں بلکہ اپنی جان کی فکر ہوگی۔