ساڑھے چار سو کا پٹرول یاد رہے گا 100 روپے گھٹانا نہیں

ساڑھے چار سو کا پٹرول یاد رہے گا 100 روپے گھٹانا نہیں

سیاستدان عوامی رائے سے متعلق حساس،بیوروکریٹس کو اس سے فرق نہیں پڑتا وزیراعظم مصروف، ہوسکتا فائل نہ دیکھی ہو،‘‘آج کی بات سیٹھی کیساتھ ’’میں تجزیہ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ شہبازشریف نے جو پٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہے ، ایسا پہلی بار نہیں ہوا، سولر پالیسی پر سب کو یاد ہو گا کہ ایک پالیسی آتی تھی پھر بیک ٹریکنگ ہوتی تھی،پھر پالیسی آتی تھی کچھ اور،اب اس بار بھی ایسا ہوا ہے ،دنیانیوزکے پروگرام  آج کی بات سیٹھی کے ساتھ   میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے بھی میں نے کہاتھا کہ اعلان بیوروکریٹس کررہے تھے ،وزیر اعظم نے پہلے اعلان نہیں کیا تھا، اس سے مجھے ایسا لگا کہ وزیر اعظم خوش نہیں ہیں، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے ایسی چیز نہیں کرنی، تم نے جو کرنا ہے ، کرلو،قیمت بڑھانے سے عوام اور میڈیا کا پریشر بڑھا ہے ، ہو سکتا ہے بڑے میاں کا پریشر ہو، کیونکہ اس قسم کی چیز پر وہ کڑی نظر رکھتے ہیں،انہوں نے سمجھا ہوگا کہ یہ ان کی طرف سے زیادتی ہوئی ہے ، یہ بیوروکریسی نے سارا کچھ سبوتاژکیا ہے ،سیاستدان عوامی رائے کے بارے میں حساس ہوتے ہیں، بیوروکریٹس بالکل حساس نہیں ہوتے ،انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کیا پالیسی آتی ہے۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم نے پہلے ایسے اعلان پر پوری بریفنگ نہیں لی ہوگی،اس کے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا،افسوس اس بات کا ہے کہ وزیر اعظم نے کیایہ بات پہلے دیکھی نہیں تھی،کیا انہیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ جو کررہے ہیں اس سے مسائل پیدا ہوں گے ، ہوسکتا ہے فائل نہیں دیکھی ہو گی کیونکہ آج کل ایران جنگ کی وجہ سے وزیر اعظم کی مصروفیات زیادہ ہیں،جب قیمتوں کا وزیروں نے اعلان کردیا تو میڈیا پر باتیں ہوئیں کہ ٹیکس زیادہ بڑھا دیا گیا ہے ، ممکن ہے یہ باتیں شہباز شریف کو نہ بتائی گئی ہونگی، یا انہوں نے دیکھی نہیں ہو نگی،یا دیکھا ہوگا خیال تھا کہ چلو اعلان کردیتے ہیں اگر شور پڑا تو واپس کردینگے ،سیاست میں اس قسم کی چیزیں چلتی ہیں،لیکن اچھا ہواپٹرول 80 روپے کم کردیا، اچھا ہوتا ایسا کرتے نا،میں ایک سیاسی بات کہنا چاہوں گا کہ سیاستدانوں کو یہ بات سمجھ آجانی چاہئے کہ جب ایک بری پالیسی کا اعلان ہو جاتا ہے جس کے تحت عوام کو تکلیف ہوتی ہے تو میڈیا اسکے خلاف جاتا ہے ۔جب اپ اس کو واپس لیتے ہیں تو اپ کو کوئی گُڈ وِل نہیں ملتی۔گالی جو اپ کو پڑگئی ہوتی ہے ، وہ پڑی رہتی ہے ذہنوں کے اندر کہ انہوں نے یہ کیا تھا۔۔لوگ یہ یاد رکھتے ہیں کہ  اینہاں نے تے ساڑھے چار سو پٹرول کر تا سی۔۔۔ ۔۔کوئی نہیں یاد رکھے گا کہ 100 روپے گھٹا دئیے تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں