لہر اتھارٹی کے 20 منصوبے فنڈز کی کمی اور سست روی کا شکار
انارکلی ایریا، تاریخی ٹریل اور مال روڈ کی بحالی سست منصوبوں میں شامل،صرف 2منصوبوں کو 100 فیصد فنڈ مل چکا ٹولنٹن مارکیٹ بیوٹیفکیشن کیلئے 200 ملین مختص،ایک روپیہ جاری نہ ہوا، منصوبے جلد مکمل ہونگے :سیکرٹری بلدیات
لاہور (عمران اکبر )لہر اتھارٹی (Lahore Authority for Heritage Revival)کے 22منصوبوں کی تفصیلات سامنے ا ٓگئیں ، منصوبے اندرونِ شہر لاہور سرکلر روڈ اور مال روڈ کے تاریخی ورثے کی بحالی کیلئے شروع کئے گئے ۔مزید تفصیلات کے مطابق 22منصوبوں میں سے نیلا گنبد اور موچی گیٹ کے منصوبوں کو 100 فیصد فنڈ مل چکا جبکہ باقی 20 منصوبے فنڈز کی کمی اور سست روی کا شکار ہیں۔سست ترین منصوبے انارکلی ایریا، تاریخی ٹریل، اور مال روڈ کی بحالی ہے جن کا فنڈ جاری ہوا مگر خرچ نہ ہونے کے برابرہے ، سپائس مارکیٹ دہلی گیٹ تا اکبری گیٹ کی بحالی ایک ارب 54لاکھ کی رقم سے کام سست روی سے جاری ہے ، اسی طرح شاہدرہ کمپلیکس کی بحالی 13 کروڑکے فنڈزسے کام سست روی سے جاری ہے ۔
لاہور قلعہ کے اضافی کاموں کی بحالی پر 10 کروڑ کے فنڈز ملنے کے باوجود کام کی رفتار سست ،پرانی قلعہ بند دیوار کی بحالی کے لئے 30کروڑ سے کام سست روی سے جاری،شالیمار باغ کی بحالی 20کروڑ کے فنڈز سے کام سست روی سے جاری، انارکلی، جین مندر، پان گلی، بخشی مارکیٹ کی بحالی پر 50کروڑ میں صرف ایک کروڑ ملنے کے بند کام تقریباً بند ہے ، فروغ کے لئے 80کروڑ کے فنڈ جاری نہیں ہوا۔ مال روڈ، نیلا گنبد، کنگ ایڈورڈ، پاک ٹی ہاؤس کی بحالی کے لئے 10کروڑ میں سے 3 کروڑ ملنے کے بعد کام بند ہے ،ناصر باغ، پنجاب یونیورسٹی، جی سی یو مال روڈ کے اطراف کی بہتری کیلئے 5کروڑ کے فنڈز بہت کم، کام سست ہے ، 4 پرانے دروازوں کی تعمیرِ نو،پرانی سٹیم پمپ ہاؤس کی بحالی (پانی والا تالاب) 6کروڑ کے فنڈز سے کام سست روی سے جاری ،ٹولنٹن مارکیٹ، مال روڈ کے پاس زیرِ زمین پارکنگ 20کروڑ کے فنڈ پر کام نہ ہونے کے برابر جاری، نیلا گنبد ایریا کی اپ لفٹنگ مع زیرِ زمین پلازہ کیلئے 1ارب 26کروڑ کے فنڈزسے کام تیزی سے جاری جبکہ دوسری طرف اندرونِ شہر میں زیرِ زمین بجلی و ٹیلی کام سسٹم90کروڑ میں سے 5کروڑ خرچ ہونے کے بعد کام سست ہے ، سیوریج، ڈرینج، واٹر سپلائی، سڑکوں کی بہتری کیلئے 80کروڑ کے فنڈز سے کام جاری نہ ہو سکا،تاریخی ٹریل پر عمارتوں کے فرنٹ کی بحالی کیلئے 50کروڑ میں سے پانچ کروڑ ملا اور تقریباًکام بند ہے ۔
تاریخی عمارتوں، حویلیوں کی بحالی ،ذکی، شاہ عالم، ٹکسالی، موچی گیٹ کیلئے 11کروڑ کے فنڈ زسے کام کی رفتار سست ہے ،مال روڈ اور تاریخی زونز کی بحالی میں وزیر خان بارہ دری، این سی اے ، میوزیم کیلئے 15کروڑ کے فنڈ زسے کام کی رفتار سست ہے ،موچی گیٹ کے پاس زیرِ زمین آرکیڈ مع پارکنگ 1ارب 15کروڑ کے فنڈز سے کام جاری ہے ،شیرانوالہ گیٹ کے پاس زیرِ زمین آرکیڈ مع پارکنگ کیلئے 90کروڑ کے فنڈ سے ،ٹکسالی گیٹ کے پاس 90کروڑ کے فنڈ سے اورناصر باغ میں زیرِ زمین پارکنگ 77کروڑ کے فنڈز سے کام جاری ہے ۔علاوہ ازیں ٹولنٹن مارکیٹ کی بیوٹیفکیشن کے تحت مجوزہ زیرِ زمین پارکنگ کے اوپر20کروڑ کا فنڈ جاری نہیں ہوا ،زیرو فنڈٹولنٹن مارکیٹ کی بیوٹیفکیشن کیلئے 200 ملین رکھے گئے لیکن 0 روپے جاری ہوئے ، یعنی کام شروع ہی نہیں ہوا۔لہر کے کل 22 منصوبوں میں سے زیرِ زمین آرکیڈپارکنگ کے 6 منصوبے سب سے زیادہ بجٹ لے رہے ہیں۔سیکرٹری بلدیات شکیل احمد میاں کا کہنا ہے کہ تعمیر و بحالی کے کام سست نہیں ٹیکنکل ہوتے ہیں اس لئے انکی رفتار سست نظر اتی ہے ،فنڈز کی تقسیم کا کوئی مسئلہ نہیں ،ہدف مکمل کر کے منصوبے جلد تعمیر کر لئے جائیں گے ۔