خاتون کی دوسری شادی کو بنیاد بنا کر بچے کی حوالگی تبدیل نہیں کی جاسکتی : وفاقی آئینی عدالت

 خاتون کی دوسری شادی کو بنیاد بنا کر بچے کی حوالگی تبدیل نہیں کی جاسکتی : وفاقی آئینی عدالت

لگتا ہے بچے کے مفاد کے بجائے پراپرٹی کو زیادہ اہمیت دی جا رہی،بچہ چچا یا پھوپھی کو دینے کی درخواست مسترد مقدمات ملتوی ہونیکی 90فی صد وجوہات وکلا خود،التوا مانگ کر باہر تقاریر کرتے ہیں ججز کام نہیں کرتے :ریمارکس

اسلام آباد(دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی آئینی عدالت نے بچے کی حوالگی چچا یا پھوپھی کو دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف خاتون کی دوسری شادی کو بنیاد بنا کر بچے کی حوالگی تبدیل نہیں کی جا سکتی۔وفاقی آئینی عدالت میں 9 سالہ بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ چچا اور پھوپھی بچے کی حوالگی کیوں چاہتے ہیں؟ کیا حوالگی مانگنے والوں نے کبھی پوچھا کہ بچے کی تعلیم کیسی چل رہی ہے ؟وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ماں نے دوسری شادی کر لی ہے ، اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دئیے کہ صرف خاتون کی دوسری شادی کو جواز بنا کر بچے کی حوالگی کیسے دی جا سکتی ہے ۔وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ماں نے بچے کو باپ سے ملنے والا حصہ فروخت کر دیا ہے ۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دئیے کہ کیا بچے کو اس کے باپ سے ملنے والا حصہ بھی واپس لینا چاہتے ہیں؟ ماں کے خلاف ایف آئی آر بھی کٹوائی گئی، جبکہ ماں جب عدت میں تھی اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ماں کے خلاف بغض اور عناد روا رکھا گیا، گارڈین کورٹ سے اجازت لے کر ہی ماں نے حصہ بیچا ہوگا۔ ویسے بھی عدالت کے سامنے کیس صرف حوالگی کا ہے ۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دئیے کہ لگتا ہے بچے کے مفاد کے بجائے پراپرٹی کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے ۔ وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ بچے کی ماں کو حوالگی سے متعلق تمام عدالتوں نے فیصلہ برقرار رکھا اور بچے کی ماں کو حوالگی قانون کے مطابق ہے ۔ عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ والد کی وفات کے بعد نو سالہ بچے کی حوالگی ماں کو دی گئی تھی۔دریں اثنا وفاقی آئینی عدالت نے التوا مانگنے والے وکلا کی روش پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ، مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار سلمان منصور کی سرزنش کی۔

سلمان منصور نے کہا کہ انکوائری رپورٹ اپیل کے ساتھ جمع کرانا چاہتا ہوں، مہلت دی جائے ۔جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ انکوائری رپورٹ اپیل کے ساتھ ہی کیوں نہیں جمع کرائی، یہ بنیادی کام نہیں کیا گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کسی دوسرے ملک میں ایسا کرتے تو آپ کو بھاری جرمانہ ہوتا، عدالت میں التوا مانگتے ہیں باہر تقاریر کرتے ہیں کہ ججز کام نہیں کرتے ۔ سلمان منصور نے جواب دیا کہ میں تقاریر نہیں کرتا۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جب سیاست آتی ہے تو سب ہی تقاریر کرتے ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ مقدمات ملتوی ہونے کی 90 فی صد وجوہات وکلا خود ہوتے ہیں۔ ہم ساری رات فائلیں پڑھتے ہیں، صبح التوا مانگ لیا جاتا ہے ۔ تمام متعلقہ دستاویزات اپیل کے ساتھ لگانا بنیادی کام تھا، جو نہیں کیا گیا۔عدالت نے اس معاملے پر وکلا کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں