عمران کا علاج، ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

 عمران کا علاج، ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد ہائیکورٹ کا میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا وکالت نامے پر دستخط کے کیس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے جواب طلب

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے ، مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور ذاتی معالجین سے ملاقات کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کو میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور اس کی رپورٹ سے مشروط کیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان نے اپیل میں مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں حقائق کو مدنظر نہیں رکھا اور علاج کی سہولت فراہم کرنے کے بجائے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا۔

اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے اور ان سے ذاتی معالجین کی ملاقات کے احکامات جاری کیے جائیں۔دریں اثنا اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے جیل حکام کی جانب سے عمران خان کے وکالت نامے پر دستخط نہ کروانے کے خلاف کیس میں نوٹس جاری کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے جواب طلب کر لیا۔وکیل خالد یوسف کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ اس معاملے میں قانونی طریقہ کار کیا ہے؟

خالد یوسف نے مؤقف اختیار کیا کہ قانونی پراسس موجود ہے ، قیدی تک رسائی کے حوالے سے جیل رولز واضح ہیں جبکہ نیلسن منڈیلا رولز بھی بین الاقوامی سطح پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پانچ بار اڈیالہ جیل گئے لیکن ان سے دستاویزات وصول تک نہیں کی گئیں، جبکہ وکالت نامے بذریعہ کوریئر بھیجے گئے تو بتایا گیا کہ وہ موصول ہی نہیں ہوئے ۔عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 25 مئی تک ملتوی کر دی۔علاوہ ازیں بینکنگ کورٹ اسلام آباد کے جج عبدالغفور کاکڑ کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور دیگر ملزمان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں