ایران کے ساتھ جنگ بندی حالت مرگ میں :ٹرمپ:تیل کی قیمتوں میں اضافہ
تہران نے فضول چیز بھیجی ،پڑھنا بھی مناسب نہیں سمجھا:امریکی صدر،آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی بحالی،خطے میں سلامتی فراخدلانہ پیشکش:ایران برینٹ تیل 104 ڈالر فی بیرل کے قریب،اوپیک کی تیل پیداوار دو دہائیوں کی کم ترین سطح پرآگئی،ایران پر اثر ورسوخ کے استعمال کیلئے ٹرمپ کا چین پر دباؤ
تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی حالتِ مرگ میں ہے ، وہ تہران کی جانب سے امریکا کی امن تجویز کے جواب کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں ۔ جنگ بندی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کہا میرے خیال میں اس وقت یہ بدترین حالت میں ہے ، خاص طور پر وہ فضول چیز پڑھنے کے بعد جو انہوں نے ہمیں بھیجی۔ میں نے تو اسے مکمل پڑھنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔پیر کے روز تہران نے اپنے مؤقف کا دفاع بھی کیا۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاکہ ہمارا مطالبہ جائز ہے ، جنگ کا خاتمہ، امریکی ناکہ بندی اور بحری قزاقی کا خاتمہ اور امریکی دباؤ کے باعث بینکوں میں ناجائز طور پر منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کی رہائی ہمارا حق ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی بحالی اور خطے خصوصاً لبنان میں سلامتی کا قیام بھی ایران کے مطالبات میں شامل ہے ، جنہیں ایک فراخدلانہ اور ذمہ دارانہ پیشکش سمجھا جانا چاہیے ۔
ادھر برینٹ خام تیل کے سودے تقریباً 2اعشاریہ 7 فیصد اضافے کے ساتھ 104 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئے ، کیونکہ تعطل برقرار رہنے سے آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند رہی۔ آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹ نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو برآمدات کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ پیر کے روز جاری ہونے والے رائٹرز کے سروے کے مطابق اوپیک کی تیل پیداوار اپریل میں مزید کم ہو کر دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔جنگ سے پہلے کے مقابلے میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت نہایت کم ہو چکی ہے ۔ شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنیوں کپلر اور ایل ایس ای جی کے مطابق گزشتہ ہفتے خام تیل سے بھرے صرف تین ٹینکر اس آبی گزرگاہ سے نکلے ، جبکہ ایرانی حملوں سے بچنے کیلئے ان کے ٹریکرز بند رکھے گئے تھے ۔اعداد و شمار کے مطابق قطر کا مائع قدرتی گیس (ایل این جی)لے جانے والا دوسرا جہاز بھی آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ پیش رفت اس واقعے کے چند روز بعد سامنے آئی جب اسی نوعیت کی پہلی کھیپ ایران اور پاکستان کے درمیان ایک انتظام کے تحت اس راستے سے گزری تھی۔آئندہ سفارتی یا عسکری اقدامات ابھی واضح نہیں ہیں۔ توقع ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچیں گے ، جہاں ایران بھی ان اہم موضوعات میں شامل ہوگا جن پر وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات کریں گے ۔ٹرمپ چین پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ تہران پر اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ وہ واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف آئے ۔