3برسوں کے دوران معیشت بہتر ہوئی، گورنر سٹیٹ بینک
مکمل استحکام کے باوجود متعدد اندرونی وبیرونی چیلنجز اب بھی درپیش، جمیل احمد رواں سال معاشی اشاریے بہتر ہوئے ، کراچی چیمبر کے دورے کے دوران گفتگو
کراچی(کامرس رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس کا دورہ کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ تین برسوں کے دوران معیشت میں نمایاں بہتری آئی، تاہم مکمل استحکام کے باوجود متعدد اندرونی و بیرونی چیلنجز اب بھی درپیش ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2023ء کے بحران زدہ دور کے مقابلے میں 2026ء میں معاشی اشاریے بہتر ہوئے ، خصوصاً لیٹر آف کریڈٹ کے اجرا میں نمایاں بہتری آئی، اسٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت پاکستان کی ماہانہ درآمدات 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ تین سال قبل یہ حجم تقریبا3ً ارب ڈالر تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی اصلاحات کے نتیجے میں زرمبادلہ ذخائر 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ،جس سے قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حوالہ ہنڈی کیخلاف مؤثر کارروائیوں سے ترسیلات زر میں اضافہ ہوا، جو گزشتہ مالی سال 38 ارب ڈالر رہیں جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک یہ 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا۔ اسٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق مالی سال 2026ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 0 سے 1 فیصد کے درمیان محدود رہے گا، جو ایک مثبت پیشرفت ہے ، انہوں نے بیرونی قرضوں سے متعلق بتایا کہ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ تقریباً مستحکم رہا، اس وقت 103ارب ڈالر کے قریب ہے ۔ جبکہ 2022ء میں یہ 102 ارب ڈالر تھا۔