ایف آئی اے ملازمین پر سول سرونٹس رولز لاگو نہیں ہوتے :سپریم کورٹ
اسلام آباد (اے پی پی،این این آئی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایف آئی اے ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی صرف 1978 کے خصوصی ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن قواعد کے تحت ہی کی جا سکتی ہے ، سول سرونٹس ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 2020 خود بخود ایف آئی اے پر لاگو نہیں ہوتے۔
عدالت نے واضح کیا کہ جنرل کلازز ایکٹ کی دفعہ 8 کے ذریعے خصوصی قواعد کو عمومی قواعد سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس منیب اختر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایف آئی اے کی جانب سے دائر 6 اپیلوں پر محفوظ فیصلہ جاری کیا۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ رضاکارانہ، سچا اور قانون کے مطابق ریکارڈ نہ کیا گیا اعترافی بیان کسی بھی ملزم کو سزا دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔جسٹس جمال خان مندو خیل کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے احمد سعید عرف بھرم عرف نگوری کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت کراچی کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور ملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔