ڈائر یکٹرز ، سی ای اوز کی تعیناتی حکومت نہیں کرتی تو بورڈ کرے: خزانہ کمیٹی کی ایس او ایز ایکٹ میں ترمیم کی ہدایت
ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک سمیت متعدد سرکاری اداروں میں سربراہاں کی نشستیں برسوں سے خالی ، وزارت خزانہ سے رپورٹ طلب الیکٹرک گاڑیوں،پرزہ جات کی درآمد پر دی جانیوالی کسٹمز ڈیوٹی رعایت میں 30جون تک توسیع ،کسٹمز ترمیمی بل 2026منظور
اسلام آباد(مدثر علی رانا)سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ڈائریکٹرز، بورڈز اور سی ای اوز کی تعیناتی کیلئے ایس او ایز ایکٹ میں ترامیم لانے کی ہدایت کر دی ۔ چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایس او ایز میں ڈائریکٹرز، بورڈز اور سی ای او کی تعیناتی 4 ماہ میں مکمل کرنے کیلئے دو ماہ تک ترمیم لائی جائے اور وزیرمملکت ترمیم کی منظوری کیلئے ساتھ دیں گے ۔ متعدد سرکاری ملکیتی اداروں میں ڈائریکٹرز، بورڈز، سی ای اوز کی نشستیں برسوں سے خالی ہیں۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ میں ایس او ایز میں ڈائریکٹرز، سی ای او کی خالی نشستوں پر وزارت خزانہ سے رپورٹ طلب کر لی گئی ۔سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں ایگزم بینک ترمیمی بل 2026 کی منظوری دی گئی۔ خزانہ کمیٹی اجلاس میں ڈائریکٹرز کی تعداد بڑھانے کیلئے ڈیٹ لیمیٹیشن ایکٹ ترمیمی بل کی بھی منظوری ہوئی۔ وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ ابھی ڈیٹ مینجمنٹ آفس میں تین ڈائریکٹرز تعینات ہیں جبکہ ڈائریکٹرز کی تعداد بڑھا کر 5 کرنے کی تجویز ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کی تقرری گزشتہ ڈیڑھ برس سے زائد عرصے سے خالی پڑی ہے۔ چیئرمین سینیٹ خزانہ کمیٹی نے کہا ایس او ایز ایکٹ میں ترمیم لائی جائے کہ اگر حکومت نے اداروں میں خالی نشستوں پر 4 ماہ میں تعیناتی نہ کی تو بورڈ کو اجازت ہو گی۔ ڈائریکٹر جنرل ڈیٹ آفس کی پوسٹ گزشتہ 4 ماہ سے خالی پڑی ہے ، حکومت کیوں تعیناتی نہیں کر رہی؟ایڈوائزر وزیرخزانہ ڈی جی ڈیٹ کی تعیناتی اور ٹائم لائن پر سینیٹ قائمہ کمیٹی کو تسلی بخش جواب نہ دے سکے ۔ ایگزم بینک حکام نے ایگزم بینک ترمیمی بل 2026 پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آزاد ڈائریکٹر کو ریزائن کیلئے دو ماہ پہلے نوٹس دینا ہو گا۔ مستعفی ڈائریکٹر کی جگہ فوری طور پر ایکٹنگ ڈائریکٹر تعینات کیا جائے گا۔ ڈائریکٹر کے ریزائن کرنے کے بعد نئے ڈائریکٹر کی تعیناتی کا عمل 4 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔سینیٹ کمیٹی نے کسٹمز ترمیمی بل 2026 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات اور مکمل تیار شدہ الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی کسٹمز ڈیوٹی رعایت میں 30 جون 2026 تک توسیع کر دی گئی ہے۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ، مقامی آٹو انڈسٹری کی ترقی اور الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔ یہ رعایت صرف ان گاڑیوں پر لاگو ہوگی جنہیں انجینئرنگ ڈیوiلپمنٹ بورڈ کی جانب سے ای وی پالیسی 2020 کے تحت منظور اور تصدیق شدہ قرار دیا گیا ہو۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ اس پالیسی پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا اور اگر کوئی کمپنی یا مینوفیکچرر قواعد کی خلاف ورزی کرے گا تو ای ڈی بی فوری طور پر ایف بی آر کو آگاہ کرے گا جس کے بعد متعلقہ ادارے کی رعایتی کسٹمز کلیئرنس روک دی جائے گی۔ سینیٹر عبدالقادر نے کمیٹی میٹنگ کے دوران کہا کہ ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کو ریلیف دینا ہوگا۔ حکومت کو سپر ٹیکس کو ختم کرنا چاہیے ۔ سڑکوں پر پہلے سے موجود 2 کروڑ سے زائد موٹر سائیکل کو ای وی پر منتقل کیا جائے ، پاکستان میں مقامی سطح پر چارجنگ بیٹریز کی تیاری پر کام شروع کیا جائے۔