مصدقہ سفری ریکارڈ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:سپریم کورٹ
بعد از وقوعہ تکمیلی بیان سے نامزدگی احتیاط سے جانچنا ضروری :دورکنی بینچ جمشید راشد قبل از گرفتاری ضمانت کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم
اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ضمانت کے مرحلے پر عدالتیں ایسے مصدقہ سفری ریکارڈ کو نظر انداز نہیں کر سکتیں جو استغاثہ کے مقدمے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہو، جبکہ وقوعہ کے بعد تکمیلی بیان کے ذریعے کسی شخص کو نامزد کرنے اور اس کی شناخت کے دعوے کو بھی احتیاط سے جانچنا ضروری ہے ۔رپورٹنگ کیلئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمشید راشد کی قبل از گرفتاری ضمانت سے متعلق اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا نام ابتدائی ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا بلکہ وقوعہ کے کئی روز بعد تکمیلی بیان کے ذریعے اسے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور جمشید راشد کی قبل از گرفتاری ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں اور اسی مالیت کے ایک ضامن کے عوض بحال کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ فیصلے میں کیے گئے مشاہدات ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ٹرائل کے دوران مقدمے کے حتمی فیصلے پر اثرانداز نہیں ہونگے۔