پنجاب اسمبلی :اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین کا واکہ آؤٹ
بجٹ پربحث ،حکومتی و اپوزیشن ارکان میں سخت جملوں کا تبادلہ، حکومتی نشستوں سے ایسا پہلی بار ہوا:معین ریاض ترقیاتی اقدامات پر فخر :وزیر مواصلات ، سرائیکی صوبہ دیں ،نام چاہے نواز یا شہباز رکھ لیں:پی پی رکن ممتاز چانگ
لاہور (سیاسی نمائندہ،این این آئی)پنجاب اسمبلی میں صوبائی بجٹ پر عام بحث کا آغاز ،حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں سخت جملوں کا تبادلہ، نعرے بازی اور احتجاج،غیر متوقع طو رپر حکومتی اراکین نے قائد حزب اختلاف کی تقریرکے دوران ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا جس پر ڈپٹی سپیکر نے انتہائی حیرانی کا اظہار کردیا ۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 1 گھنٹہ 10 منٹ تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی زیرصدارت شروع ہوا۔قائد حزب اختلاف معین ریاض قریشی نے بانی پی ٹی کی تصویر ڈائس پر رکھ کر اپنی تقریر شروع کی اور بانی پی ٹی آئی اور پارٹی رہنماؤں کے مقدمات اور رہائی کا معاملہ اٹھایا۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بجٹ میں عوامی فلاح کے منصوبوں کے بجائے حکمران خاندان کی تشہیر نمایاں ہے ،گزشتہ مالی سال کے بیشتر منصوبے تاحال نامکمل ہیں جبکہ نئی سکیموں کا اعلان کیا جا رہا ہے ، معین قریشی کی تقریر کے دوران وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن اور چند حکومتی ارکان احتجاجاً ایوان سے باہر چلے گئے جس پر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ فارم 47 والے سارے ہی لوگ ایوان سے بھاگ گئے ،پہلی بار حکومت کی نشستوں سے ایسا ہورہا ہے ۔
ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ حکومت کیوں بائیکاٹ کرگئی،بعدازاں حکومتی ارکان ایوان میں واپس آ ئے ۔ علاوہ ازیں صوبائی وزیر مواصلات صہیب بھرتھ کے خطاب کے دوران بھی ایوان میں شور شرابا جاری رہا۔ صہیب بھرتھ نے کہا کہ حکومت اپنے ترقیاتی اقدامات پر فخر کرتی ہے ۔ چیف وہپ رانا ارشد نے ایوان کو بتایا کہ صوبے کے تاریخی 5300 ارب روپے کے بجٹ میں 1059 ارب روپے کی ترقیاتی سرمایہ کاری رکھی گئی ، صحت کیلئے 500 ارب اور تعلیم کیلئے 750 ارب روپے مختص کئے گئے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن ممتاز چانگ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہمیں سرائیکی صوبہ دیا جائے ،آپ صوبے کا نام نواز شریف رکھ لیں یا شہباز شریف رکھ لیں ہمیں صوبہ دیں، کچے کے علاقے کے حالات فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مہربانی سے ٹھیک ہوئے ۔اس موقع پر پینل آف چیئر مین سید علی حیدر گیلانی نے کہا کہ کچے کے حالات بہتر کرنے میں حکومت کا بھی کردار ہے ۔ اپوزیشن ارکان آشفہ ریاض فتیانہ، رانا شہباز، داؤد جتوئی اور اسامہ گجر نے بھی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کیا۔