وقت پر بقایا رقم ادا نہ کرنے پر خریدار کو جائیداد منتقلی کا حق نہیں مل سکتا : سپریم کورٹ
معاہدہ میں واضح شرط تھی مقررہ تاریخ تک بقایا رقم ادا نہ ہونے پربیعانہ ضبط ہوگا ،سیالکوٹ کیس میں خریدارکی اپیلیں مسترد انسدادِ دہشتگردی ایکٹ اطلاق کیلئے جرم و دہشت پھیلانے کے مقصد کا تعلق ثابت ہونا ضروری:تہرے قتل میں سزائے موت برقرار
اسلام آباد (اے پی پی، کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بقایا رقم ادا نہ کرنے والے خریدار کو جائیداد منتقلی کا حق نہیں مل سکتا، جائیداد کی خریداری کے معاہدے میں مقررہ وقت پر بقایا رقم ادا نہ کرنے والا خریدار اس رعایت کا حقدار نہیں رہتا،جسٹس شکیل احمد اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر سول اپیلیں نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ سیالکوٹ کی 5 کنال 4 مرلہ اراضی کی خریداری کیلئے معاہدہ میں واضح شرط تھی کہ مقررہ تاریخ تک بقایا رقم ادا نہ ہونے کی صورت میں بیعانہ ضبط کیا جا سکتا ہے ۔ ایسی شرط وقت کو معاہدے کا بنیادی جزو بناتی ہے لہٰذا خریدار کیلئے مقررہ مدت میں ادائیگی ضروری تھی۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے خریدار کی اپیل مسترد کر دی۔مزیدبرآں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ محض سنگین یا سفاکانہ قتل کا ارتکاب کسی مقدمے کو خودبخود دہشتگردی کے زمرے میں نہیں لاتا بلکہ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے اطلاق کیلئے جرم اور دہشت پھیلانے کے مقصد کے درمیان قانونی تعلق ثابت ہونا ضروری ہے۔
تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جیل پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے تہرے قتل کے مجرم فتح شیرکی سزائے موت برقرار رکھی تاہم انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت سزا کالعدم قرار دے دی۔ عدالت کے مطابق 18 مئی 2008 کو خوشاب کے علاقے میٹھا ٹوانہ میں ملزمان نے گھر میں گھس کر صفیہ بی بی، اس کی بیٹی شاہین کوثر اور بیٹے ولی عہد شہزادہ کو قتل کر دیا تھا۔عدالت نے کہا دو خواتین کو انتہائی بے رحمی سے ذبح کیا گیا اورتین افراد کو ان کے اپنے گھر میں قتل کیا گیا جو جرم کی سنگینی اور سفاکیت کو ظاہر کرتا ہے ،اس لئے ملزم کسی رعایت یا تخفیفِ سزا کا مستحق نہیں تاہم عدالت نے غلام حسین بنام ریاست کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ذاتی دشمنی یا نجی تنازعہ کی بنیاد پر جرائم جب تک انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے مقاصد سے براہ راست تعلق ثابت نہ ہوں دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتے۔
چنانچہ ملزم کی دفعہ 7(اے )انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت سزا ختم کر دی گئی۔ سپریم کورٹ نے والد اور والدہ کے دوہرے قتل کے مجرم تیمور ستار کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے حکم دیا کہ دونوں عمر قید کی سزائیں بیک وقت نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے بھگتی جائیں گی۔تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر جیل پٹیشن مسترد کردی ،عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم نے 10 فروری 2010 کو جائیداد اپنے نام منتقل نہ کرنے پر ناراضگی کے باعث اپنے والد عبد الستار اور والدہ شمیم ستار کو گھر میں ہتھوڑے کے وار کرکے قتل کر دیا تھا۔ اپنے ہی بے دفاع والدین کو گھر کے اندر بے رحمی سے قتل کرنا انتہائی سنگین اور معاشرتی اقدار کے منافی جرم ہے جس کی سخت سزا ناگزیر ہے۔