چھوٹے کاروبار ، وزیر خزانہ کا ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان

چھوٹے کاروبار ، وزیر خزانہ کا ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان

نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں اضافے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت:اورنگزیب بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے جو کر سکتے تھے وہ کیا: بینکنگ سمٹ سے خطاب

کراچی(اے پی پی،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو مالی تعاون فراہم کرنے کیلئے ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں اضافے کے لیے پورے بینکاری شعبے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے جو کر سکتے تھے وہ کیا،زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً ساڑھے 18 ارب ڈالر ہیں، پانڈا بانڈ کا اجرا کردیا گیا ہے ،این ایف سی پر بات چیت جاری ہے ، صوبوں کے تعاون کے مشکور ہیں۔کراچی میں پاکستان بینکنگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹاسک فورس اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں کام کرے گی جس میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن ، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سمیڈا)، ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ نمائندے شامل ہوں گے ۔وزیر خزانہ نے پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال مضبوط بنیادوں پر اختتام پذیر ہوا، بنیادی مالیاتی سرپلس، حالیہ برسوں کا کم ترین مالیاتی خسارہ، قرضوں کے بہتر اشاریے۔

حسابات جاریہ کے کھاتوں کی مستحکم کارکردگی، ترسیلاتِ زر کی ریکارڈ آمد، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی(جن میں ملک کا پہلا پانڈا بانڈ بھی شامل ہے )اس مثبت پیش رفت کے نمایاں عوامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت خودمختار قرضوں کی ٹوکنائزیشن سمیت جدید مالیاتی ذرائع پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔انہوں نے پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے سائبر سکیورٹی اور سائبر لچک کو قومی سطح کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔دوسری جانب وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ حکومت جدید، شفاف اور مضبوط بینکاری نظام کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے ، مالیاتی شعبے میں اصلاحات سے کاروباری سرگرمیوں اور اقتصادی استحکام کو تقویت ملے گی۔

سمٹ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے سماجی تحفظ کے پروگراموں اور سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن پر بھی خصوصی توجہ دی ہے ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دی گئی ہیں،حکومت نے رواں سال کے اختتام تک تمام سرکاری ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کیش لیس پاکستان کے وژن پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کر رہی ہے ، یہ وزیراعظم شہباز شریف کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور وزیراعظم خود اس پورے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں ،وزیراعظم کی ہدایت پر ڈیجیٹائزیشن کے عمل کی نگرانی ایک آزاد تھرڈ پارٹی کے ذریعے بھی کرائی جا رہی ہے تاکہ شفافیت اور موثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں