منی لانڈرنگ سنگین خطرہ، ادارہ جاتی تعاون ناگزیر : چیئرمین نیب

 منی لانڈرنگ سنگین خطرہ، ادارہ جاتی تعاون ناگزیر : چیئرمین نیب

نیب انسداد بدعنوانی کی کوششوں میں افسران کے ساتھ کھڑا ہے ،تقریب سے خطاب قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے میں عدلیہ کا کردار انتہائی اہم ہے :جسٹس اعظم خان

اسلام آباد(اے پی پی)چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ ملکی معیشت کے استحکام اور عوامی جوابدہی کے لئے سنگین خطرہ ہے جس سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے ،وہ پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (پاکا) کے زیر اہتمام اسلام آباد ضلعی عدلیہ کے ججوں کے لئے منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تفتیش، قانونی چارہ جوئی کے طریقہ کار اور عالمی فریم ورک کے موضوع پر چوتھی ایک روزہ تعارفی نشست سے خطاب کر رہے تھے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اعظم خان نے اختتامی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا پیچیدہ مالیاتی شواہد کا موثر جائزہ لینے اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے میں عدلیہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔

تقریب سے ڈپٹی چیئرمین نیب ناصر سہیل، ڈائریکٹر جنرل نیب محمد طاہر اور نور السحر نے بھی خطاب کیا ۔ڈائریکٹر جنرل پاکا غلام صفدر شاہ نے کہا پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی انسداد بدعنوانی کے شعبے میں ایک سینٹر آف ایکسی لینس کے طور پر اپنا کردار مسلسل مضبوط بنا رہی ہے ۔ تقریب کے اختتام پر شریک ججوں میں اسناد تقسیم کی گئیں۔علاوہ ازیں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے نیب ہیڈکوارٹرز میں سندھ کی صوبائی سول سروس کے تیسرے سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا بددیانتی اور بدعنوانی کو ہر سطح پر مسترد کیا جائے اور سرکاری اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ، نیب ملک میں انسداد بدعنوانی کی کوششوں میں تعاون کرنے والے افسران کے ساتھ کھڑا ہے ۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل آپریشنز امجد مجید اولکھ نے ادارے کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے بتایا کہ نیب نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 14.485 ٹریلین روپے جو تقریباً 51.73 ارب امریکی ڈالر کے مساوی ہیں، کی غیر معمولی ریکوریاں کی ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...