اختیارات کی مرکزیت کے باعث صوبائی مسائل بڑھ رہے : احسن اقبال
18ویں ترمیم کے بعد 15 سال میں سماجی شعبوں میں قابلِ قدر پیش رفت نہیں ہوئی ذاتی رائے ہے ملک میں 160بااختیار ضلعی حکومتیں قائم ہونی چاہئیں:وزیرمنصوبہ بندی
اسلام آباد(دنیا نیوز)وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے کی سکیورٹی کے لیے کوششیں یکجا کر دیں۔ اپنے بیان میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج تک تھرڈ ٹئیر آف گورنمنٹ قائم نہیں ہو سکی، اختیارات کی مرکزیت کے باعث صوبائی سطح پر بھی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور میں بااختیار مقامی حکومتوں کی بات کی ہے ، تاہم اختیارات عوام کی دہلیز تک منتقل کرنے کے لیے بہتر انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا، صوبائی دارالحکومت سے پورے صوبے کو مؤثر انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔ 18ویں ترمیم کے بعد 15 سال میں سماجی شعبوں میں قابلِ قدر پیش رفت نظر نہیں آتی، تعلیم، صحت اور پاپولیشن سمیت سماجی شعبوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ ملک میں 160 بااختیار ضلعی حکومتیں قائم ہونی چاہئیں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو 12 سے 18 انتظامی یونٹس بنانے پر غور کیا جائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے ، اس لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی ضروری ہے ۔ مکہ معاہدے کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان معاہدہ تین اسلامی ممالک کے لیے تاریخی سنگ میل ہے ، مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے کی سکیورٹی کے لیے اپنی کوششیں یکجا کر دی ہیں، پاکستان ریجنل سیکیورٹی پرووائیڈر اور استحکام کے اینکر کے طور پر سامنے آ رہا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل آصف منیر کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر اہم مقام حاصل کیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments