نئے صوبوں کو اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنا غلط:شیر افضل مروت
خیبر پختونخوا میں ترقیاتی کام محض پشاور تک محدود ،ملتان میں پریس کانفرنس
ملتان (کرائم رپورٹر)شیر افضل مروت نے کہا کہ ملک کے دور دراز علاقوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے نئے صوبوں کے قیام سمیت اہم فیصلے کرنا ہوں گے ،نئے صوبوں کو اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنا غلط ہے ،نئے صوبوں کے قیام سے ہر صوبے کا اپنا ہائی کورٹ اور وزیراعلیٰ ہوگا جو علاقائی مسائل بہتر طور پر حل کرے گا، خیبر پختونخوا میں ترقیاتی کام محض پشاور تک محدود ہیں، ملتان میں سرائیکی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ سرائیکستان اور ہزارہ سمیت نئے صوبوں کا قیام اس لئے ضروری ہے کہ متعلقہ علاقوں کے وسائل وہیں خرچ ہوں اور عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لئے لاہور یا پشاور کا رخ نہ کرنا پڑے ۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کی ابتدائی تعلیم ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئی اور سرائیکی عوام سے ان کا پرانا تعلق ہے ۔ پاکستان کے قیام سے اب تک ملک میں چار صوبے ہیں جبکہ لاہور اور کراچی کے علاوہ دیگر علاقوں پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبہ بننے کی صورت میں ملتان آئندہ دس برس میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے ۔ روایتی سیاست نئے صوبوں کے قیام کے حق میں نہیں، تاہم وہ نئے صوبوں کے حامی ہیں اور ہزارہ کے عوام کی جانب سے الگ صوبے کے مطالبے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ دو تہائی اکثریت ملنے کی صورت میں ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دیا جائے گا۔ اگر ملک میں 14 صوبے بھی بن جائیں اور ان میں سے تین یا چار صوبے روایتی سیاسی خاندانوں کے پاس چلے جائیں تو بھی باقی صوبوں میں ترقیاتی کام بہتر انداز میں کئے جا سکیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ سمیت ملک کے کسی بھی حصے کی انتظامی تقسیم کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے حق میں ہونی چاہئے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments