صدر ،وزیراعظم ملاقات ، بیانات روکنے پر اتفاق ہوا :سیٹھی
بلاول کوجذبانی ہونے کے باعث سیاسی معاملات پر بات چیت کے دوران نہ بلایاگیا جنرل باجوہ علاج کے بعد دبئی سے واپس آجائیں گے :’’آج کی بات سیٹھی کیساتھ‘‘
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر زرداری کے درمیان ملاقات ہو گئی ہے ، میرا خیال ہے اب کچھ نہیں پک رہا۔ جب صدر زرداری لاہور آئے تھے تو اس وقت کچھ پکانے آئے تھے ۔ انکے استقبال کے لیے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان گئے ، اسی دوران انکی گپ شپ اور سیاسی گفتگو ہوئی۔ دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘آج کی بات سیٹھی کے ساتھ’’میں گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سپیکر نے یہی کہا ہوگا کہ بلاول اور دیگر رہنماؤں کے بیانات آ رہے ہیں، ہماری طرف سے رانا ثنا اور دیگر کے بیانات ہیں، یہ سب کچھ نظام کے لیے نقصان دہ ہے ، یہ سلسلہ ختم کیا جائے ۔ سپیکر نے صدر زرداری سے کہا کہ آپ بڑے ہیں، بلاول کو روکیں، ہم بھی اپنی طرف سے بیانات روکیں گے ، لوگ کہہ رہے ہیں کہ معاملات خراب ہو رہے ہیں، ایسے بیانات کی کیا ضرورت ہے۔
اس پر صدر زرداری نے کہا کہ تجویز اچھی ہے ، آپ سے اتفاق کرتا ہوں، پھر اس پر مزید بات کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے صرف اتنی بات ہوئی ۔ جب وزیراعظم شہباز شریف اور صدر زرداری کی ملاقات ہوئی تو اس میں سپیکر ملک احمد خان بھی موجود تھے ، کیونکہ انہیں صدر زرداری نے بلایا تھا۔ ملک احمد نے صدر زرداری سے معاملات حل کرنے کی بات کی تھی۔ ماضی میں بھی ملک احمد خان نے اس قسم کا کردار ادا کیا تھا۔ نواز شریف اور جنرل باجوہ کے معاملہ کے وقت بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا، ملاقات میں شیری رحمن کو بھی بلایا گیا تاکہ آمنے سامنے بات ہو سکے ۔ بلاول کو اس وجہ سے نہیں بلایا گیا کیونکہ وہ جذباتی ہو جاتے ہیں، پھر معاملات خراب ہو سکتے تھے ۔ سابق فوجی افسروں کے اعزاز میں فیلڈ مارشل نے جو استقبالیہ دیا، اس میں جنرل باجوہ شریک نہیں ہوئے کیونکہ انکی طبیعت ٹھیک نہیں ۔ وہ گر گئے تھے ،انکا علاج جاری ہے ، ابھی وہ دبئی میں ہیں۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ وہ شریک نہیں ہوئے ، اگر جنرل باجوہ یہاں ہوتے اور پھر شریک نہ ہوتے تو سوال بنتا۔ جب انکا علاج مکمل ہو جائے گا تو وہ پاکستان آ جائینگے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments