شاہ غلام قادر آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم ہونگے
نئی حکومت کیلئے بڑا چیلنج ایکشن کمیٹی، کشمیریوں ،شرپسندوں میں فرق کرنا ہوگا
(تجزیہ:سلمان غنی)
مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کا مری اجلاس سے خطاب تو کشمیر کے حالات، انتخابات اور یہاں اپنی جماعت کی حکومت سازی کے عمل کے تناظر میں تھا لیکن اجلاس سے ان کے خطاب کو کشمیر میں ترقی و خوشحالی کے عمل کے ساتھ قومی سیاست ،مخالفین سے حسن سلوک ،ملک کی معاشی صورتحال میں تیزی اور خود اپنی حکومتی کارکردگی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں گلہ کیا کہ مجھے امید نہ تھی کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملے گا۔
انہوں نے کشمیر کی ترقی اور یہاں ڈیلیوری کی ذمہ داری وزیراعظم شہباز شریف پر ڈالی۔ مذکورہ اجلاس میں حکومت سازی کے عمل کے خدوخال طے ہوئے اور اطلاع یہی ہے کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر ہی آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم ہوں گے ۔نواز شریف نے اپنی جماعت کے ذمہ داران سے خطاب میں قومی سیاست کے ایک بڑے کے طور پر جہاں مرض کی درست نشاندہی کی وہیں اس کا علاج بھی نواز شریف کے پاس ہے ، علاج یہی ہے کہ سیاسی محاذ پر تلخیوں کو کم کیا جائے، اپنے اپنے طرز عمل سے عوام کے اندر سیاسی قوتوں پر اعتماد بحال کیا جائے۔
جہاں تک انہوں نے کشمیر کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا کہ اگر ڈیلیور نہ کیا تو لوگ ناراض ہوں گے ، تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف کو کشمیریوں کے سلگتے مسائل کا علم بھی ہے اور ان کی ناراضگیوں کا ادراک بھی، لہٰذا کشمیر جیسے حساس محاذ پر ناراض کشمیریوں کو ساتھ جوڑنے اور ان کی بات سننے کا موقع دیا جائے ۔ کشمیری محب وطن ہیں، پاکستان سے ان کی جذباتی وابستگی ہے ،کشمیریوں اور شرپسندوں میں واضح تفریق ہونی چاہئے اور جو کشمیر کاز پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں اور جو کشمیر کاز اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ان کے درمیان لکیر کھینچی جانی چاہئے اور یہ کام ن لیگ کی نئی حکومت کر سکتی ہے۔
نئی حکومت کیلئے بڑا چیلنج یہی ایکشن کمیٹی کا مسئلہ ہے جو حل ہو سکتا ہے مگر صرف اس صورت میں جب اسے امن و امان کا مسئلہ سمجھنے کی بجائے گورننس، وسائل کی تقسیم اور عوامی اعتماد کا مسئلہ سمجھا جائے ۔ مگر جو عناصر ریاست پاکستان کو ٹارگٹ کرتے نظر آتے ہیں ان کے گرد دائرہ لگا رہنا چاہئے ۔پیپلز پارٹی کے ایک ذمہ دار ذریعے کے مطابق کشمیر میں صرف انتخابی محاذ پر شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ اس کے سیاسی اثرات اسلام آباد پر بھی نظر آ رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments