سرکاری امداد پر کمیشن لیناخیانت نہیں دھوکادہی کا جرم:ہائیکورٹ
ٹرائل کورٹ مقدمہ کا فیصلہ آزادانہ طور پر میرٹ پر کرے گی:جسٹس فرہادشاہ احساس کفالت پروگرام میں ایک ہزارکمیشن لینے والے 2ملزموں کی ضمانت منظور
لاہور (محمد اشفاق سے )لاہور ہائیکورٹ نے احساس کفالت پروگرام میں مستحقین سے ایک ہزار روپے کمیشن لینے کے الزام میں دو ملزموں کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ یہ معاملہ خیانت مجرمانہ کے بجائے دھوکا دہی کا بنتا ہے ، جو قابل ضمانت ہے ۔ جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے محمد اختر اور محمد انصر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمہ مزید تحقیقات کے زمرے میں آتا ہے اور ملزمان کا جرم میں کردار ٹرائل کورٹ شہادتیں ریکارڈ ہونے کے بعد طے کرے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کے مرحلے پر عدالت شواہد کا گہرا جائزہ لے کر ملزمان کی گناہگاری یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ تحریری فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کے خلاف ایف آئی اے تھانہ ڈیرہ غازی خان میں چار جولائی کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 409، 420 اور 109 شامل کی گئی تھیں۔ الزام تھا کہ ملزمان احساس کفالت پروگرام کے مستحقین سے ان کی رقوم جاری کرنے کے عوض مختلف رقوم وصول کرتے ، ایک ایچ بی ایل کنیکٹ بائیومیٹرک ڈیوائس اور موبائل فون استعمال کرتے جبکہ مستحقین کے شناختی کارڈ بھی اپنے پاس رکھتے تھے ۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر اور تفتیشی مواد سے ملزمان پر ایسی رقم کی امانت میں خیانت کا الزام ثابت نہیں ہوتا جو انہیں مستحقین کی جانب سے سپرد کی گئی ہو۔ عدالت نے ایف آئی آر کے متن کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ الزام بنیادی طور پر یہ ہے کہ ملزمان مستحقین کو احساس کفالت پروگرام کی رقم دیتے وقت ان میں سے ایک ہزار روپے وصول کر رہے تھے۔
استغاثہ کی جانب سے مقدمے میں شامل دفعات اور تفتیش کے دوران اکٹھے کیے گئے شواہد کی بنیاد پر ملزمان کی ضمانت کی مخالفت کی گئی، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مرحلے پر دستیاب مواد سے معاملہ مزید تحقیق کا متقاضی ہے ۔ جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے فیصلے میں اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیاکہ اگر کسی شخص کو کسی رقم کی امانت سپرد ہی نہ کی گئی ہو اور الزام صرف یہ ہو کہ اس نے کسی شخص کو اس کی رقم دیتے وقت اس میں سے کچھ رقم اپنے پاس رکھ لی، تو ایسے حقائق بادی النظر میں خیانتِ مجرمانہ کے بجائے دھوکا دہی کے جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ فیصلے میں دی گئی تمام آبزرویشنز صرف ضمانت کی درخواست تک محدود اور عارضی نوعیت کی ہیں اور ٹرائل کورٹ مقدمہ کا فیصلہ آزادانہ طور پر میرٹ پر کرے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments