پختونخوا:غیرحاضری و کرپشن،589 سرکاری افسروں، اہلکاروں کو سزائیں

 پختونخوا:غیرحاضری و کرپشن،589 سرکاری افسروں، اہلکاروں کو سزائیں

احتساب سے کوئی بالاتر نہیں ،سرکاری نظام میں شفافیت اولین ترجیح :سہیل آفریدی کرپٹ عناصر کیلئے صوبے میں کوئی جگہ نہیں :وزیراعلیٰ پختونخوا کا اجلاس سے خطاب

پشاور (نیوز ایجنسیاں) وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت سرکاری افسران و اہلکاروں کے خلاف احتسابی کارروائیوں سے متعلق اہم اجلاس منعقد  ہوا جس میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2025 سے اب تک سرکاری افسران و اہلکاروں کے خلاف مجموعی طور پر 827 کیسز سامنے آئے ،629 کیسز کے فیصلے کیے جا چکے جبکہ 198 کیسز پر کارروائی جاری ہے ۔ 629 فیصلہ شدہ کیسز میں 589 افسران و اہلکاروں کو مختلف سزائیں دی گئیں ، 40 ملازمین کو الزامات سے بری کر دیا گیا۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ احتسابی کارروائیوں کے نتیجے میں 128 ملازمین کو سروس سے فارغ، 18 کو ڈس مس فرام سروس اور 6 کو جبری ریٹائر کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائیوں میں غیر مجاز غیر حاضری سب سے بڑا جرم رہا اور اس نوعیت کے 447 کیسز ، ڈیوٹی میں غفلت کے 120، کرپشن و مالی بے ضابطگیوں کے 75 اور نااہلی کے 75 کیسز رپورٹ ہوئے ۔ محکمہ جاتی اعتبار سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلعی دفاتر سے 305، اٹیچڈ محکموں و اداروں سے 263 اور مرکزی محکموں سے 259 کیسز سامنے آئے ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ احتساب سے کوئی بالاتر نہیں اور سرکاری نظام میں شفافیت اولین ترجیح ہے ،کرپٹ عناصر کے لیے پختونخوا میں کوئی جگہ نہیں ،عوام نے موجودہ حکومت کو شفاف، جوابدہ اور عوام دوست نظام کے قیام کی ذمہ داری سونپی ہے جسے ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...