عمران خان کی فیملی سے ملاقات ، بیٹوں سے آڈیو،ویڈیو گفتگو کرائی جائے: اسلام آباد ہائیکورٹ
نصرت بھٹو ، بیگم شمیم کیسز کے فیصلوں کے مطابق درخواستیں قابلِ سماعت ، عمران اور بشری ٰ کی ملاقات کی بھی ہدایت بانی پی ٹی آئی کو اخبارات،کتابیں، ٹی وی اور طبی سہولیات بھی فراہم کی جا ئیں،15دن میں عملدرآمدرپورٹ طلب جیل انتظامیہ،میڈیکل بورڈ کی رپورٹس خود بانی کے ذہنی و جسمانی تناؤ،غیر معمولی تنہائی کی تصدیق کرتی ہیں:تحریری فیصلہ
اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں قیدِ تنہائی غیرقانونی قرار دینے کے خلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جیل قوانین کے مطابق عمران خان کی فیملی سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو بھی کرائی جائے ،گذشتہ روز جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خان اور مبشرہ خاور مانیکا کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ پڑھ کرسنایا،اس موقع پر علیمہ اور نورین، بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چودھری اور دیگر بھی کمرہ عدالت موجود تھے ، فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہاکہ نصرت بھٹو کیس، بیگم شمیم آفریدی کیس کے فیصلوں کے مطابق درخواستیں قابلِ سماعت قرار دی جاتی ہیں، عدالت نے جیل حکام کو عمران خان سے بشریٰ بی بی کی ملاقات کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ بانی کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور کتابیں فراہم کریں، جیل رولز کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جائیں، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل یقینی بنائیں کہ بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں نہ رکھیں، سپرنٹنڈنٹ 15 دن میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرائیں، عدالت نے کہا کہ بانی کی بیٹوں سے گفتگو کی آڈیوز سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے پر یہ سہولت واپس لے لی جائے۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں،بعد ازاں عدالت نے تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا، جسٹس خادم حسین سومرو نے 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں عدالت نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کو عمران خان کی ان کی زوجہ اور اہلخانہ سے آئین و قانون کے مطابق ملاقاتوں کی ہدایت کی اوربانی کی بیٹوں سے واٹس ایپ اور آڈیو ،ویڈیو کالز کروانے کا حکم دیا ،عدالت نے کہاکہ سیاسی کمپین یا قید کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی صورت میں واٹس ایپ کال کی سہولت معطل کی جا سکے گی،عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے مطابق روزانہ ایک گھنٹہ واک کی اجازت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ سکیورٹی کو بنیاد بنا کر بانی پی ٹی آئی کو انسانی تعلق اور بات چیت سے مکمل محروم نہیں رکھا جا سکتا،اڈیالہ جیل کی انتظامیہ بانی پی ٹی آئی کو اخبارات، میگزین اور مطالعے کے لیے کتب کی فراہمی یقینی بنائے ،میڈیکل بورڈ کی سفارشات اور جیل قوانین کے مطابق بانی کو ٹی وی کی سہولت بھی فراہم کی جائے ،بشریٰ بی بی کو غیر قانونی قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے ، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 15 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی اور کہاکہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل یقینی بنائیں کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھیں،جیل حکام کو بشریٰ بی بی سے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کرانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
تحریری فیصلہ میں عدالت نے مزید کہاکہ کسی شخص کی گرفتاری سے اس کے انسانی وقار کے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوتے ،درخواست گزار قریبی رشتہ دار ہونے کے ناطے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت \'متاثرہ فریق\' کا درجہ رکھتے ہیں، طبی تشخیص اور ہسپتال منتقلی کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہونے کے باعث اس پر متوازی حکم جاری نہیں کیا جا رہا،جیل انتظامیہ اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹس خود بانی کے ذہنی و جسمانی تناؤ اور غیر معمولی تنہائی کی تصدیق کرتی ہیں،میڈیکل بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر اور انگزائٹی کنٹرول کرنے کے لیے قریبی اہلخانہ سے ملاقاتوں اور مطالعے کی سفارش کی تھی، سکیورٹی مقاصد کے لیے علیحدگی جائز ہے لیکن اسے مکمل سماجی تنہائی نہیں بنایا جا سکتا،اڈیالہ جیل کی رپورٹ کے مطابق بانی سات سیلز پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن کے وقت نقل و حرکت کے لیے آزاد ہیں،بانی پی ٹی آئی کو کھانا پکانے اور دیکھ بھال کے لیے ایک اسیر مشقتی بھی فراہم کیا گیا ہے ، عدالت نے یہ بھی کہا کہ دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ قیدیوں کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے مناسب نہیں ہو گا،یہ عدالت طویل عرصے سے جاری انسانی روابط پر پابندی کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتی،سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر قانونی علیحدگی اور درحقیقت قیدِ تنہائی میں رکھنے میں فرق ہے ، اس فرق کا تعین قیدی کو فراہم کردہ کمروں سے نہیں بلکہ ایسے ہوتا ہے کہ قیدی کو معقول اور بامعنی انسانی میل جول میسر ہے یا نہیں،سکیورٹی وجوہات ایسے روابط کو منظم کر سکتی ہیں لیکن اسے مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments