پاکستان کے جائز آبی حصے میں رکاوٹ اعلانِ جنگ، ب راہ راست جواب دینگے : چیئرمین سینیٹ

پاکستان کے جائز آبی حصے میں رکاوٹ اعلانِ جنگ، ب راہ راست جواب دینگے : چیئرمین سینیٹ

سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ نہیں کیا جاسکتا، آبی تحفظ ایک فوری قومی ترجیح بن چکا ہے پاکستان کو 2047ء تک آبی تحفظ کا حامل ملک بنائینگے ،چھٹے پاکستان واٹر ویک کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے جائز آبی حصے کو روکنے ، معطل کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا اور اس کا براہِ راست جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظمیں واضح کیا کہ پاکستان پانی کو ہتھیار بنانے یا جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ ملک کی آبی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان کو 2047ء تک آبی تحفظ کا حامل ملک بنائینگے ،چھٹے پاکستان واٹر ویک 2026ء کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مؤثر اور پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی کسی بھی شق میں کوئی فریق یکطرفہ طور پر ترمیم، معطلی یا منسوخی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ملکی مؤقف اصولی اور غیر متزلزل ہے اور ان حقوق کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک بیک وقت دو بڑے بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے ۔ ایک جانب تباہ کن سیلاب لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیتے ہیں جبکہ دوسری جانب طویل خشک سالی زمین کی زرخیزی اور زرعی پیداوار کے لیے خطرہ بن رہی ہے ۔ فی کس پانی کی دستیابی میں مسلسل کمی نے بھی صورت حال کو تشویش ناک بنا دیا ہے جس کے باعث آبی تحفظ ایک فوری قومی ترجیح بن چکا ہے ۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہر بڑی قدرتی آفت اپنے پیچھے ایسے اسباق چھوڑ جاتی ہے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین سینیٹ نے زور دیا کہ پاکستان کو آفات سے نمٹنے کے روایتی اور ہنگامی ردعمل کے طریقہ کار سے آگے بڑھتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی ۔انہوں نے یقین دلایا کہ سینیٹ اس قومی تبدیلی کے لیے اپنا آئینی اور ادارہ جاتی کردار بھرپور انداز میں ادا کرے گا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی آبی سلامتی کا براہِ راست تعلق زرعی معیشت، غذائی تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور مجموعی معاشی ترقی سے ہے ۔ پاکستان کو 2047ء تک ایک ایسا ملک بنانا ہوگا جو آبی تحفظ کا حامل اور سیلابی خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔ چیئرمین سینیٹ نے امید ظاہر کی کہ چھٹا پاکستان واٹر ویک آبی تحفظ کے فروغ، جدید اور قابلِ عمل حل کی نشاندہی اور مستقبل کے لیے ایک واضح قومی لائحہ عمل مرتب کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...