ریاض میں 2 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کردیا : سعودی اتحاد

ریاض میں 2 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کردیا : سعودی اتحاد

حوثیوں کا دمام ایئرپورٹ اورفوجی ٹرانسپورٹ طیارے پر ڈرون حملوں کا دعویٰ یمن میں سعودی بمباری،راس عیسیٰ بندرگاہ اور تیل تنصیبات نشانہ ،کئی زخمی

ریاض،صنعا(اے ایف پی)سعودی فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے دارالحکومت ریاض کے علاقے میں 2 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کردیا۔ اتحادی فوج کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں ڈرونز کی تباہی کی تصدیق کی۔ ترجمان نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی ڈرونز بھیجنے والے کسی فریق کی نشاندہی کی۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے کہا ہے کہ حدیدہ میں بحیرہ احمر کے کنارے واقع راس عیسیٰ بندرگاہ اور تیل کی ایک اہم تنصیب گاہ پر سعودی فورسز کے تازہ فضائی حملوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی اتحاد نے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے زیر استعمال اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام کے ایئرپورٹ پر دو ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے ۔ حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دو مرحلوں میں حملے کیے گئے ، جن کے نتیجے میں ایئرپورٹ پر فضائی آمدورفت متاثر ہوئی۔ انہوں نے سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے میں ابتدائی وارننگ ریڈار اور فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔یمن میں حوثی باغیوں نے اہم پیش قدمی کرتے ہوئے جنوبی شہر عدن سے صرف 80 کلومیٹر دور تک رسائی حاصل کرلی۔

رائٹرز کے مطابق چار فوجی ذرائع نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے صوبہ تعز کے علاقے المقاطرہ پر قبضہ کرلیا ہے ۔ یہ پہاڑی علاقہ تعز کو عدن سے ملانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے ۔ حوثیوں کی پیش قدمی کے نتیجے میں حکومتی فوجیں طور الباحہ کی جانب پسپا ہوگئی ہیں، جہاں پیر کو بھی جھڑپیں جاری تھیں۔ یہ مقام عدن سے تقریباً 80 کلومیٹر دور ہے ۔تازہ پیش قدمی سے حوثیوں کو باب المندب کے قریب پہاڑی سلسلے میں موجود حکومتی فوجی ٹھکانوں کو اطراف سے گھیرنے کا موقع مل سکتا ہے ۔ حکومتی فوج نے چند ہفتے قبل ہی اس علاقے سے حوثی جنگجوؤں کو نکالا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...