قائد اعظم ہاؤس میوزیم

 قائد اعظم ہاؤس میوزیم

اسپیشل فیچر

تحریر : شیخ نوید اسلم


Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 

بانی ٔ پاکستان کی زندگی کی یادوں سے جڑاکراچی کے ضلع جنوبی میں شاہراہ فیصل پر ہوٹل مہران اور فاطمہ جناح روڈ کے درمیان ایک پرشکوہ عمارت ایستادہ ہے، جسے قائد اعظم میوزیم ہاؤس کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس کا نام فلیگ سٹاف ہاؤس تھا ۔یہ قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے سے ایک تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ گھر قائداعظم نے 115,000کا خریدا تھا ۔اس کا سیل ایگریمنٹ 14اگست 1943ء کو سہراب کائوس جی کڑاک سے طے پایا تھاجو کراچی کے مئیر بھی رہے ۔ یہ تو پتہ نہیں چل سکا کہ یہ عمارت کب قائم ہوئی، تاہم دستیاب شدہ ریکارڈ کے مطابق 1922ء میں اس کے مالک رام چند ہنسوج لومانا تھے۔ بعد ازاں یہ گھر برٹش انڈین آرمی کے لیے کرائے پر حاصل کر لیا گیا۔ اس عمارت میں برٹش انڈین آرمی اور رائل پاکستان آرمی کے کمانڈر انچیف یا دیگر افسران کرائے پر رہتے رہے۔ ستمبر 1947ء میں قائد اعظم محمد علی اپنی دہلی کی رہائش گاہ 10اورنگ زیب روڈ سے فلیگ سٹاف ہاؤس منتقل ہوگئے ،مگر زندگی نے قائد اعظم کو اس گھر میں زیادہ عرصہ رہنے کی مہلت نہ دی ۔اس بات کا مصدقہ ریکارڈ تو نہیں ملتا کہ قائد نے کبھی یہاں مستقل یا باضابطہ رہائش اختیار کی ہو، تاہم بعض دستیاب شدہ روائتی گھریلو اشیاء یہ ظاہر کرتی ہیںکہ قائد اعظم نے کئی بار اس گھر کا دورہ کیا اور آرام کیا۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن اور سیاسی مشیر محترمہ فاطمہ جناح جو قائد کے ساتھ ہی گورنر جنرل ہاؤس میں مقیم تھیں، 13ستمبر 1948ء کو فلیگ سٹاف ہاؤس میں منتقل ہوگئیں۔ یہاں ان کا قیام 1964ء تک رہا، جس کے بعد وہ اپنے ذاتی گھر موہاٹا پیلس ( قصر فاطمہ) میں منتقل ہوگئی تھیں۔9جولائی 1967ء کو متحرمہ فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد ایک صدراتی حکم نامے کے تحت ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ،جس کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی گئی کہ وہ قائد سے متعلق اہم تاریخی اشیاء کو اکٹھا کرکے جدید سائنسی طریقے سے اسے محفوظ کر کے عوامی نمائش کے لیے رکھے جائیں۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ان کی بہن شیریں بائی ہاشم رضا ( سابق میئر کراچی) محمد لیاقت مرچنٹ (قائد کے بھانجے) کے اشتراک سے قائد اعظم ٹرسٹ قائم ہوا۔ ان ٹرسٹی سے فروری 1985ء کو 5,10,7000روپے کے عوض یہ گھر حکومت پاکستان نے خرید لیا۔ باضابطہ طور پر حکومت کو 1985ء میں منتقلی سے قبل ہی 14جون 1984ء کو فلیگ سٹاف ہاؤس کو محکمہ ٔ آثار قدیمہ نے اپنی تحویل میں لے کر تزئین و آرائش و مرمت کا کام شروع کر دیا تھا اور 2کروڑ روپے اس مد میں خرچ کئے گئے۔ از سرنو اس بلڈنگ کی تزئین کی گئی ۔80فی صد میٹریل اصلی استعمال کیا گیا۔ باغات کو بسایا گیا۔ قائدا عظم و محترمہ فاطمہ جناح سے متعلق اشیاء کو محفوظ کیا گیا ۔مثلاً قائد اعظم کے کمرے کی سیٹنگ ان کے دہلی والے گھر کی طرح سے رکھی گئی ہے، وہی فرنیچر کا رپٹ، قائد کی قانونی کتابیں بمعہ ان کے دستخط ، چھڑیاں، ماربل کا عمدہ سیٹ، ماربل ہی کا ٹیلی فون سیٹ جواب بھی درست حالت میں ہے ۔قائد کے استعمال میں آنے والے جوتے، قائد اعظم کے بیڈ روم میں کافور کی لکڑی سے بنا خوبصورت بکس جو اس وقت بھی کافور کی مکمل مہک دے رہا ہے۔ سگار بکس ، ایزی چیئر و آرام دہ کرسی میسور بھارت کا بنا ہوا اگر بتی کیس ، جس کی نمایاں خوبی اس پر یا محمدؐ اور درود شریف لکھا ہوا ہے۔ قائد کے زیر استعمال قرآن مجید، ان کی ایک آنکھ کا چشمہ اور فاطمہ جناح کے ڈریسنگ روم میں ان کے پلنگ کی وہی سیٹنگ جو ان کی زندگی میں تھی، ان کے پاؤں کی کھڑاواں نما چپل، لکھنے کی میز ، الماری، شو پیس لکڑی سے بنی ہوئی خوبصورت الماری وغیرہ اور پرانا فرنیچر یہ سب اتنی عمدہ کو الٹی کی ہے کہ دیکھنے کے قابل ہے ۔متحرمہ شریں جناح کے استعمال میں آنے والی اخروٹ کی لکڑی کا فرنیچر جس پر ان کا نشان SJبنا ہوا ہے ۔1993ء میں فلیگ سٹاف ہاؤس کا نام تبدیل کرکے قائد اعظم ہاؤس میوزیم رکھا گیا اور 25نومبر 1993ء کو سندھ کے سابق گورنر مرحوم حکیم محمد سعید نے اس میوزیم کا افتتاح کیا۔ فلیگ سٹاف ہاؤس کا طرز تعمیر کا نونیل آرکیٹکچر سے ملتا جلتا ہے۔ اس کا ڈیزائن انجینئر مونکروف نے بنایا تھا ۔10,241 مربع گز پر پھیلی ہوئی، اس عمارت میں وسیع باغ کے ساتھ تین کمرے گراؤنڈ فلور پر جبکہ تین کمرے پہلی منزل پرواقع ہیں ۔دو بیرونی کمرے 16فٹ 10انچ کشادہ ہیں۔ پہلی منزل پر واقع کمرے بھی اتنے ہی کشادہ ہیں۔ ہر ایک کمرہ برآمدے میں کھلتا ہے ۔انہی کمروں سے منسلک گراؤنڈ فلور پر ایک انیکسی بھی واقع ہے، جسے اب آڈٹیوریم میں تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں تقریری مقابلے ، تعلیمی مقالے ، آڈیو ویژیل شوز ، نمائش وغیرہ ( قائد اعظم سے متعلق) ہوتی ہے۔ اس عمارت میں 18سرونٹ کوارٹرز، 4گیراج 3گارڈ روم اور ایک کچن بھی موجود ہے ۔کچن کو اب ایڈمنسٹریٹو آفس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔کراچی کے معروف معمار یاسمین لاری کو اس منصوبے پر مقرر کیا گیا اور ان کے ہی مشوروں سے قائد اعظم میوزیم کا پورا کام کیا گیا۔ میوزیم کے مرکزی گھر کو مکمل طور سے درست کر کے اس کی اصل حالت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کی بگڑی ہوئی اور خستہ حالت کو تزئین و آرائش کرکے دوبارہ نکھارا گیا۔ صرف گراؤنڈ فلور کی چھت کو کنکریٹ سیمنٹ تبدیل کرنے کے بعد اس پر لکڑی کے ٹکڑوں سے چھت بنانے سے اس کی اصلی حالت نظر آتی ہے ۔قائد اعظم میوزیم میں واقع باغ کو بھی از سر نو ڈیزائن کیا گیا ہے اس میں پانی کی سپلائی کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ روشنی کا موثر انتظام ( برائے سیکورٹی اور خصوصی تقاریب منعقد کرانے کے حوالے سے) کیا گیا ہے اس کا ڈیزائن مونکروف نے بنایا ہے مگر معروف آرکیٹیکٹ یاسمین لاری نے اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ اس عمارت کو سومک نے تعمیر کیا ہے سومک کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنی تیار کردہ عمارتوں پر کسی کونے میں اپنا نام نقش کر دیتا تھا اور اس عمارت کی ڈیوڑھی میں نقش و نگار میں اس کا نام دیکھا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ تھوڑی سی ہمت کی جائے ۔فلیگ سٹاف ہاؤس ، سومک کی پہچان بن جانے والی پہلی عمارت تھی جس میں اس کی تخلیقی و ذہنی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار ملتا ہے یہ بات تعجب انگیز ہو سکتی ہے کہ جب اس معمار سومک کو یہ عمارت بنانے کا کہا گیا تھا تو اسے بہت کم لوگ جانتے تھے ،مگر ان دونوں معروف معمار اسٹربچن اس قدر دوسرے کاموں میں مصروف تھا کہ اس کے پاس اس عمارت کی تعمیر کے لیے وقت نکالنا مشکل تھا چنانچہ یہ کام سومک کے سپرد ہوا۔ یہ عمارت غالباً 1890ء کے لگ بھگ تعمیر ہوئی اور کے ڈی اے کے ریکارڈ میں جو 1865ء درج ہے، غلط ہے ۔یہ واضح ہوتا ہے کہ ان نقشوں سے جو کہ 1874ء اور 1869-70ء میں شائع ہوئے ان نقشوں کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عمارت ان نقشوں کی اشاعت کے بعد مکمل ہوئی سومک کا فلیگ سٹاف پر کیا گیا کام ڈبل سٹوری عمارت تک محدود ہے جبکہ انیکسی والا حصہ اس کے بعد تیار کیا گیا ممکنہ طور پر محدود بجٹ میں رہتے ہوئے مرکزی حصے کو با سلیقہ طریقے سے تعمیر کیا گیا ہے ۔محترمہ فاطمہ جناح جن دونوں اس عمارت میں رہیں ان کی سیاسی جدوجہد کے دونوں میں یہ عمارت کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز (C.O.P) کا ہیڈ کوارٹر بھی رہی مادر ملت سے نامور شخصیات مثلاً خواجہ ناظم الدین ، مولانا مودودی ، جسٹس زید ایچ لاری، چین کی عظیم خاتون مادام سن یات سن ، چو این لائی ، سوئیکارنو، شہنشاہ ایران، الجزائر کے فرحت عباس، مسز اندرا گاندھی ، پنڈت جواہر لال نہرو، مسز روز ویلٹ ، مادام ڈیگال، مسز سروجنی نائیڈو ، مسز نکلسن نے اسی فلیگ سٹاف ہاؤس میں ملاقاتیں کیں۔ اس عمارت کی شاندار اہمیت اور محل وقوع کی وجہ سے بہت سی پارٹیاں اسے خریدنا چاہتی تھیں ،اس لیے نہیں کہ اس عمارت کو بچایا جائے بلکہ اس لیے کہ اسے توڑ پھوڑ کر از سر نو کوئی نئی عمارت ایستادہ کی جائے ۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ایڈمرل یو اے سعید کے علاوہ 1973ء میں نیشنل بنک کے جمیل نشتر نے 300روپے فی مربع گز کے حساب سے پیش کش کی ان کا ارادہ بنک کے لیے ملٹی سٹوری بلڈنگ بنام جناح مرکز بنانا مقصود تھا۔ قائد اعظم سے متعلق جائیدا کے ٹرسٹی معروف سیاسی لیڈر ایم اے اصفہانی نے اس شرط پر بولی کی منظوری دینے کا کہا کہ نئی عمارت کی ایک منزل قائد اعظم لائبریری اور ان کی یادگار اشیاء کے لیے مختص کر دی جائے، مگر یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔ اگلی بولی 1975ء میں 675 روپے مربع گز کے حساب سے وصول ہوئی خوش قسمتی سے نیشنل بنک یا دیگر ادارے اونچی بولی دینے سے قاصر رہے اور یوں یہ عمارت ملٹی سٹوری پلازہ کی شکل اختیار نہ کر سکی ۔ اس بنگلے کو 1985ء تک نظر انداز کر دیا گیا اس کے بعد محکمہ آثار قدیمہ کے کہنے پر حکومت نے اس بنگلے کو خرید کر اسے قومی یادگار قرار دے دیا واضح رہے کہ اس عمارت کی نیلامی کا اشتہار اکتوبر 1980ء میں شائع ہوا تھا، جس کے بعد قائد اعظم کے سیکرٹری رضوان احمد نے اخبارات کے ذریعے اس طرف توجہ دلائی کہ اسے نیلا م نہ کیا جائے اور قومی یادگار قرار دیا جائے ۔ممتاز قانون دان شریف الدین پیرزادہ نے اس بلڈنگ کی فروخت کے بعد سٹے(Stay) آرڈر بھی لیا تھا۔قائد اعظم میوزیم میں داخلہ مفت ہے ۔صبح نو بجے سے شام چار بجے تک ماسوائے بدھ کے یہ میوزیم کھلا رہتا ہے۔ میوزیم کے باغ کے صحن میں فوارہ بھی اس کے حسن کو بڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔یہ میوزیم واحد میوزیم ہے، جہاں آنے والے مہمانوں کو سٹاف خود بہ نفس نفیس میوزیم دکھاتا اور تاریخ سے آگاہ کرتا ہے۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مہندی کے بغیر عید کی خوشیاں ادھوری

مہندی کے بغیر عید کی خوشیاں ادھوری

عیدالفطر ہو یا عیدالاضحیٰ، خواتین کیلئے عید کی خوشیاں جہاں میک اپ اور خوبصورت لباس کے بنا ادھوری لگتی ہیں۔ اسی طرح سادہ ہتھیلیاں بھی جچتی نہیں ہیں۔ عموماً خواتین مہندی لگانے سے ہچکچاتی ہیں ۔ بڑی بزرگ خواتین بہوئوں، بیٹیوں کو مہندی رچانے کی تاکید کرتی ہیں کہ یہ سنت نبوی ﷺ بھی ہے اور مشرقی روایتوں کا حسن بھی ہے۔ عید اپنے مکمل لوازمات اور رواجوں کے ساتھ ہی منائی جاتی ہے ان میں ایک رواج چاند رات کو مہندی لگانا بھی ہے۔مہندی برصغیر پاک و ہند کی قدیم ترین روایت ہے، یہ ایک ایسا فیشن ہے جو ہر عمر کی خواتین بلا جھجھک کرتی ہیں۔ پرانے وقتوں میں حنا محض شادی بیاہ کی تقریبات یا عید وغیرہ پر ہی ہاتھوں پر لگائی جاتی تھی لیکن جیسے جیسے وقت آگے بڑھ رہا ہے، اس میں بھی جدت آ رہی ہے۔مہندی کی کئی اقسام ہیں مثلاًکالی مہندی، لال مہندی۔کالی مہندی نیل کے پودے سے تیار کی جانے والی مہندی ہے۔بازار میں کیمیکل والی مہندی بھی دستیاب ہے۔ آپ صرف آئوٹ لائن بنا کر اندر لال مہندی سے بھرائی کروا سکتی ہیں۔ لال مہندی کی شیڈنگ بہت خوبصورت معلوم ہوتی ہے حساس جلد والی خواتین کالی مہندی استعمال نہ کریں۔لال مہندی ہی قدرتی مہندی ہے اس سے جلد پر عموماً کوئی الرجی نہیں ہوتی۔ عام دنوں میں بھی مہندی کے پتے پیس کر تلوئوں جسم اور ہتھیلیوں پر لگانے سے ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ کون مہندی آپ گھر میں خودبھی تیار کر سکتی ہیں۔ فریز بیگ یا Poly Poilکو چوکور کاٹ کر اس کے اوپر والے حصے کو فولڈ کرتے ہوئے نیچے لائیں، جب سارا موڑ لیں تو آخری سرے کو ٹیپ کی مدد سے جوڑ لیں۔ مہندی اس میں ڈال کر کھلے حصے کو موڑ کر ٹیپ سے بند کر دیں آپ کی کون مہندی تیار ہے۔مہندی سوکھ کر جڑنے لگے تو کپڑے سے پونجھ کر سرسوں کا تیل مل لیں۔ مہندی کا رنگ تیز ہو جائے گا۔مہندی کے گہرے رنگ کیلئے چینی کے شیرے میں لیموں کے چند قطرے ملا کر روٹی کی مدد سے لگایئے اور پانچ چھ لونگ توے پر گرم کریں اوپر ڈھکن سے ڈھانپ دیں تو بھاپ بن جائے گی اس پر ہاتھ کو سینکیں آپ کی مہندی کا رنگ تیز ہو جائے گا۔ہماری دادی اور نانی کے زمانے میں مہندی لگانے کیلئے وقت اور محنت دونوں درکار ہوا کرتے تھے، مہندی کے پتوں کو سِل پر پیسا جاتا تھا اور پھر ہاتھوں پر ٹکیا یا انگلیوں کے پوروں پر لگا لیا جاتا تھا جس کے بعد گھنٹوں دلکش رنگ آنے کا انتظار کیا کرتے تھے لیکن آج کل مختلف رنگوں والی مہندی کی کونیں باآسانی دستیاب ہوتی ہیں۔اگر بات کی جائے مہندی کے ڈیزائنز کے حوالے سے تو اب کافی کچھ تبدیل ہو چکا ہے، لڑکیوں کی پسند میں بھی خاصی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔مہندی لگانااب ایک مکمل آرٹ ہے، پہلے دور کے لوگوں کو آگاہی نہیں تھی کہ باریک مہندی زیادہ دلکش اور خوبصورت دکھائی دیتی ہے، وہ لوگ موٹی مہندی یا صرف فلنگ والی مہندی کو ترجیح دیتے تھے جب کہ اب ایسا بالکل نہیں ہے۔ مہندی کا رواج ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے، لڑکیاں صرف مہندی لگوانے کی شوقین نہیں بلکہ لگانے کا بھی شوق رکھتی ہیں۔ جس طرح پرانے وقتوں کے کپڑوں کے اسٹائل آج کل دوبارہ اِن ہیں ایسا ہی کچھ مہندی کے ٹرینڈ میں بھی ہے۔ماضی میں مغلیہ طرز کی مہندی لگائی جاتی تھی کیونکہ اس وقت کے لوگوں کی ڈیمانڈ تھی جن میں مہراب، مغل آرٹ کے طرز کے چیک اور منفرد قسم کے پھول شامل تھے۔ایک وقت ایسا بھی تھا جب لوگ عربی طرز کی مہندی پسند کیا کرتے تھے جو کہ بڑے بڑے پھولوں والی ہوا کرتی تھی لیکن پھر کپڑوں اور بالوں کے اسٹائل کی طرح مہندی کے ٹرینڈ بدل گئے تاہم اب ایک بار پھر مہراب اور مغلیہ دور میں لگنے والی مہندی کا ٹرینڈ واپس لوٹ آیا ہے۔ سفید، لال، براون اور کالی مہندی میں سب سے زیادہ مانگ براون اور کالی مہندی کی ہے کیونکہ اس کا رنگ پکا اور دیر تک رہنے والا ہوتا ہے، اس کے علاوہ یہ ہاتھوں پر بھی انتہائی نفیس اور خوبصورت دکھتا ہے۔ خواتین اور لڑکیوں میں آج کل بنچز (ٹکیا والی مہندی کا ڈیزائن)، مہراب اور انگلیوں پر نفیس ڈیزائن بہت زیادہ اِن ہیں۔پہلے پانچوں انگلیوں پر ایک سا ڈیزائن بنایا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے، آج کل پانچوں انگلیوں پر مختلف ڈیزائن کی مہندی لگائی جاتی ہے جو بے پناہ خوبصورت لگتی ہے اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ بھی کرتی ہے۔علاوہ ازیں جال والے ڈیزائنز بھی بہت زیادہ اِن ہیں جو لڑکیوں سمیت خواتین میں بھی کافی مقبول ہیں۔اس بار آ پ ہندوستانی، عربی،راجستھانی، سوڈانی جیسی چاہیں مہندی لگایئے اور اگر اسٹون اور گلیٹر والی مہندی کا شوق ہے تو ضرور لگوایئے مگر ٹھہریئے، یاد رکھئے کہ آپ کو گھرگرہستی کے کام بھی نمٹانے ہیں۔ بہرحال اگر آپ کی رنگت سانولی ہے تو مہندی کے ڈیزائن میں آئوٹ لائن گہرے رنگ کی بنوایئے ،گورے اور صاف رنگت والی جلد رکھنے والی بہنیں باریک ڈیزائن والی یعنی ہندوستانی ڈیزائن بنوائیں تو بہت بھلی لگیں گی۔

الشحوح: خطہ عرب کا انوکھا قبیلہ

الشحوح: خطہ عرب کا انوکھا قبیلہ

دبئی سے دو گھنٹے کی مسافت پرواقع پہاڑیوں میں ایک انوکھا قبیلہ آباد ہے۔ اس کی ثقافت جزیرہ نما عرب کے لوگوں سے جدا ہے۔ انہیں الشحوح یا ''پہاڑی لوگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو پایا کہ یہ لوگ کہاں سے یہاں پہنچے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ الشحوح قدیم مقامی باشندے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ حالات نے انہیں پہاڑوں تک محدود کر دیا۔ غالباً یہ خطۂ عرب کے سب سے غیرمعمولی لوگ ہیں، کیونکہ ان کی زبان اور ثقافت اہل عرب سے جدا ہے۔ جزیرہ نما عرب کے جنوبی حصے پر تاریخ میں کئی مرتبہ حملہ آور آئے اور مختلف قوموں نے اسے اپنی نوآبادی بنایا۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی ابتداء ڈیڑھ لاکھ برس قبل ہوئی جب انسان افریقہ سے نکل کر یہاں پہنچا۔ بہت عرصے بعد یہاں یمنی، سعودی، فارسی، پرتگالی اور برطانوی آئے۔اٹھارہویں صدی میں عمان اوربیسویں صدی میں متحدہ عرب امارات کی آزادی کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ تاریخ میں مختلف طرح کے لوگوں کے آنے جانے کی وجہ سے یہ معلوم کرنا کہ کون پہلے آیا اور کون بعد میں، جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہ علاقہ جو مسندم کہلاتا ہے، جزیرہ نما عرب کے جغرافیے میں ایک کسی پتلے لمبے ابھار کی طرح دکھائی دیتا ہے جس کا رخ ایران کی جانب ہے۔ باہر سے آنے والوں کو یہ لوگ پسند نہیں کرتے۔ اس لیے یہ لوگ جزیرہ نما عرب کے دیگر لوگوں سے کٹے رہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ایک بمبار مسندم میں غائب ہو گیا تو وہاں جا کر اسے تلاش کرنے کے عمل کو انتہائی خطرناک تصور کیا گیا۔ آج الشحوح کے لوگ آنے والوں کو قتل نہیں کرتے، لیکن انہیں خوش آمدید بھی نہیں کہتے۔یہ دو بڑے قبائل میں بٹے ہیں جن کی کئی شاخیں ہیں۔یہ علاقہ دشوار گزار ہے۔یہاں کی بلند چٹانوں میں الشحوح نے آنے اور جانے کے غیرمعمولی راستے بنا رکھے ہیں۔ الشحوح ثقافتی اور لسانی اعتبار سے متحدہ عرب امارات اور اومان کے عرب لوگوں سے مختلف ہیں جن کے جدامجد بدو تھے۔ الشحوح خانہ بدوش اور صحراؤں میں نقل مکانی کرنے والے نہیں۔ یہ کسان ہیں۔ بلندوبالا پہاڑوں میں انہوں نے پانی کے بہاؤ کے لیے حیران کن راستے بنا رکھے ہیں، جو اونچے مقامات پر واقع کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ ان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ ان پہاڑوں میں کنوئیں نہیں۔ یہ اپنے کھیتوں سے سال میں دو فصلیں حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ موسم گرما میں یہ مچھلیاں بھی پکڑتے ہیں۔ ساحل کی طرف سال میں ایک بار ہجرت کی جاتی ہے۔ یہ مال مویشی بھی پالتے ہیں۔ ان کے گھر پتھر کے اور ایک منزلہ ہوتے ہیں۔ ساحل پر ان کے گھر درختوں اور پودوں سے بنائے جاتے ہیں جو زیادہ مضبوط نہیں ہوتے۔ یہ بات مشہور ہے کہ الشحوح کی زبان لسانی اعتبار سے کسی سے نہیں ملتی، لیکن یہ سچ نہیں۔ ساحل سمندر کے عرب اگرچہ ان کی زبان نہیں سمجھ سکتے لیکن یہ عربی سے سیکڑوں برس قبل بچھڑنے والی ایک زبان ہے جس نے اپنی لسانی راہ لی۔ ان کے طرززندگی اور زبان کو دیکھ کر انہیں غیرعرب بھی کہا گیا۔ بعض لوگوں نے انہیں پرتگالی بھی کہا۔ تاہم تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مختلف اطراف سے لوگ داخل ہوتے رہے ہیں۔ ان کی ایک ذیلی شاخ پر ایرانی اثر نمایاں ہے اور ان کی زبان بلوچی سے ملتی جلتی ہے۔

رمضان کے پکوان:ہاٹ اینڈ کرسپی چکن

رمضان کے پکوان:ہاٹ اینڈ کرسپی چکن

اجزاء :چکن دو کلو ،نمک ایک چائے کا چمچ ،کالی مرچ ایک کھانے کا چمچ ،مسٹرڈ پائوڈر دوچائے کے چمچ ،لیموں 2عدد (رس نکال لیں ) ،میدہ 4کھانے کے چمچ ،کارن فلاور ایک کھانے کا چمچ ،بیکنگ پائوڈر آدھاچائے کا چمچ ،دودھ چوتھائی کپ ،انڈے دوعدد ،چلی ساس دوکھانے کے چمچ ۔ترکیب :سب سے پہلے مرغی کے ٹکڑوں کو اچھی طرح سے دھوکر صاف کرلیں پھر اسے ایک برتن میں رکھ کر اس میں نمک آدھا چائے کا چمچ، کالی مرچ دوچائے کے چمچ، مسٹرڈ پائوڈر، دو عدد لیموں کا رس ڈال کر اسے ملاکر دوگھنٹے کے لیے رکھ دیں۔ دوگھنٹے بعد چکن کے ٹکڑوں کو بھاپ دے کر ادھ کچا پکالیں (یادرہے کہ ٹانگ کے ٹکڑوں کو ذرا زیادہ بھاپ دینا تاکہ اندر سے کچے نہ رہیں ) پھر ایک برتن میں میدہ، کارن فلاور ایک کھانے کا چمچ، بیکنگ پائوڈر آدھا چائے کا چمچ، کالی مرچ آدھاچائے کا چمچ، کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ ، اجینو موتو چوٹھائی کپ، دودھ چوٹھائی کپ، انڈے دوعدد، اورچلی ساس دوکھانے کے چمچ، ڈال کر اسے الیکٹرک ہیٹر کی مددسے مکس کرلیں اس کے بعد چکن کو اس میں ڈپ کریں پھر ایک گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔ اب کارن فلیکس کو باریک پیس لیں اور میدے کے ساتھ ملا کر اسے مرغی پر کوٹ کرکے ڈیپ فرائی کرلیں اور خوبصورتی سے سجاکر گرم گرم پیش کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

سوویت یونین کے ساتھ جھڑپ 30 مارچ 1918ء کو موجودہ آذر بائیجان کے دارالحکومت باکو کے قریب سوویت یونین کی افواج اور آرمینی انقلابی فیڈریشن کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں میں سیکڑوں عام شہری ہلاک ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب پہلی عالمی جنگ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکی تھی۔بے ہوشی کی دوا 1842ء میں آج کے روز ڈاکٹر کرافورڈ لانگ نے سرجری کے عمل کو مزید بہتر بنانے کیلئے آپریشن سے قبل اپنے ایک طالب علم کو سرجری کی تاریخ میں پہل مرتبہ بے ہوش کرنے کیلئے ایتھر سنگھایا۔ اس تجربے کے بعد ہی اس دوا پر کام شروع ہوا اور اس کی جدید شکل میں آج کی دنیا انیستھیزیا سے متعارف ہوئی۔ اس سے قبل سرجری ایک نہایت تکلیف دہ عمل ہوا کرتا تھا۔ بلغاریہ پر بمباریبلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ کو دوسری جنگ عظیم کے دوران 1941 ء کے وسط سے 1944ء کے اوائل تک اتحادیوں کی جانب سے بمباری اور شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بلغاریہ نے 13 دسمبر 1941ء کو برطانیہ اور امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کیاتھا۔ 1944ء میں آج کے دن بلغاریہ پر اتحادیوں کی جانب سے شدید بمباری کی گئی۔ منشیات کے خلاف معاہدہ1961ء میں آج کے دن سنگل کنونشن برائے نارکوٹک ادویات کا معاہدہ ہو ا۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ تھا جس کے تحت مخصوص اور خطرناک نشہ آور ادویات کی پیداوار،سپلائی، تجارت اور استعمال کی روک تھام کیلئے ضابطوں کا ایک سسٹم متعارف کروایا گیا۔ایک ایسا نظام بنایا گیا جس کے تحت اس کے کاروبار کیلئے لائسنس اور علاج کیلئے استعمال کے اقدامات اٹھائے گئے۔اس کے طبی اور سائنسی استعمال کے لئے بھی ایک ضابطہ تیار کیا گیا۔

حکایت سعدیؒ:درویشوں کی خیر خواہی

حکایت سعدیؒ:درویشوں کی خیر خواہی

ملک شام کے ایک نیک دل بادشاہ کی عادت تھی کہ صبح صبح اپنے غلام کے ساتھ باہر نکلتا، عربوں کے رواج کے مطابق آدھا منہ ڈھک لیتا اور گلی کوچوں میں پھرتا، صاحب نظر بھی تھا اور فقرا سے محبت کرنے والا بھی، یہی دو صفتیں بادشاہ کو نیک بادشاہ بناتی ہیں۔ ایک رات گشت کے دوران وہ مسجد کی طرف گیا دیکھا کہ سخت سردی میں کچھ درویش بغیر بستروں کے لیٹے ہوئے صبح کا سورج نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں جیسے گرگٹ سورج کے انتظار میں رہتا ہے۔ ایک نے کہا! دنیا نے تو ہمارے ساتھ بے انصافی کی ہے کہ ہم اس حال میں ہیں اور ظالم و متکبر لوگ کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر قیامت کے دن ان کو بھی ہمارے ساتھ جنت میں جانے کا حکم ہو گیا تو میں تو قبر سے ہی نہ اٹھوں گا کیونکہ جنت صرف انہی لوگوں کا حق ہے جو دنیا میں ظلم وستم سہنے والے ہیں۔ ظالموں کا جنت میں کیا کام۔ ان ظالموں سے دنیا میں ہمیں سوائے رسوائی کے کیا ملا جو جنت میں بھی ہم پر مسلط کر دیے جائیں ۔ بادشاہ نے اتنی بات سنی اور وہاں ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا۔ سورج نکلا تو درویشوں کو بلالیا ۔ ان کی بہت عزت کی اور انعامات سے نوازا۔ بہترین لباس پہنائے، بستر دیے، الغرض بہت خوش کیا۔ ان میں سے ایک نے ڈرتے ہوئے عرض کیا! بڑے لوگ تو ان انعامات کے مستحق ہوئے ہم فقیروں میں آپ نے کون سی خوبی دیکھی، بادشاہ یہ سن کر ہنسنے لگا اور خوش ہو کر درویش سے کہا! میں متکبر اور رعب کی وجہ سے مسکینوں کو نظر انداز کرنے والا نہیں ہوں، تم لوگ بھی جنت میں ہماری مخالفت نہ کرنا، آج میں نے صلح کی ہے تو تم بھی صلح کر لینا۔ اس حکایت سے سبق ملتا ہے کہ بادشاہوں کو درویشوں کی خیرخواہی اور خبر گیری رکھنی چاہیے اور درویشوں کو ایسے بادشاہوں کے لیے دعا گو رہنا چاہیے۔ اگر دونوں میں سے کسی ایک گروہ سے کوئی غفلت یا سستی ہو جائے تو درگذر سے کام لینا چاہیے۔ خوش نصیب بندہ ہی درویشوں کو آرام پہنچاتا ہے اور ان خاک نشینوں کو خوش رکھنے والا کل جنت کے درخت کا پھل کھائے گا۔ خودی سے بھرا ہوا شخص چراغ کی طرح روشنی نہیں پھیلا سکتا کیونکہ وہ قندیل کا ایسا شیشہ ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے۔ جب وہ خود روشن نہیں تو دوسروں کو خاک روشن کرے گا۔

قرآنی خطاطی روحانی وجمالیاتی روایت

قرآنی خطاطی روحانی وجمالیاتی روایت

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہے جو رہتی دنیا تک رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ امتِ مسلمہ نے اس مقدس کتاب کی حفاظت و اشاعت کے لیے بے مثال کوششیں کی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے دور میں صحابہ کرامؓ نے قرآن مجید کو حفظ اور کتابت دونوں صورتوں میں محفوظ کیا‘ بعد ازاں خلفائے راشدین نے قرآن کریم کو ایک مرتب و مستند کتابی صورت میں امت کے لیے محفوظ کر دیا۔ہر دور کے مسلمانوں نے قرآن کریم کی انتہائی خوبصورت خطاطی کا اہتمام کیا۔ خلفائے عباسیہ، خلافتِ عثمانیہ اور مغلیہ دور میں قرآنی خطاطی اپنے عروج پر رہی۔ فنِ تذہیب اور خطاطی کی مدد سے قرآنی نسخوں کو نہایت حسین انداز میں پیش کیا جاتا تھا تاہم نوآبادیاتی دور میں اسلامی ثقافتی ورثہ انحطاط کا شکار ہوگیا اور قرآنی خطاطی کی تابندہ روایت برقرار نہ رہ سکی۔ مغلیہ دور کے بعد قرآنی خطاطی کی سرکاری سرپرستی تقریباً ختم ہو کر رہ گئی یوں برصغیر میں قرآن مجید کے خوبصورت خطاطی شدہ نسخے تیار کرنے کی روایت کمزور پڑ گئی نتیجتاً مقامی سطح پر ''نسخِ ہندی‘‘ نامی ایک سادہ خط رائج ہو گیا جو جمالیاتی اعتبار سے دیگر مسلم دنیا کے معیار سے کم تر تھا۔یہی احساس' مصحفِ پاکستان پراجیکٹ ‘کی بنیاد بنا۔ اس منفرد منصوبے کا مقصد قرآن کریم کو اعلیٰ ترین اسلامی خطاطی، تذہیب کاری اور فنونِ لطیفہ کی روایت کے مطابق تخلیق کرنا ہے۔اس کام کا آغاز نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے فارغ التحصیل فنکار نصیر احمد بلوچ کی کاوشوں سے ہوا اور معروف خطاط عرفان احمد قریشی (سلطان رقم) بھی اس کا حصہ بن گئے۔ مصحفِ پاکستان کی منفرد خصوصیات میںاعلیٰ ترین فنِ خطاطی، خطِ ثلث اور خطِ نسخ کا حسین امتزاج، نیزیاقوت مستعصمی، احمد قرہ الحصاری اور عبدالباقی حداد جیسے اساتذہ خطاط کے طرزِخطاطی سے استفادہ اور عہدِ عثمانیہ کے خطاطوں کے اندازِ کتابت کی جھلک دکھانا شامل ہے۔روایتی تذہیب اور پائیداری اس میںبرصغیر کے روایتی اسلامی فنِ تعمیر میں استعمال ہونے والے نقوش اور خطاطی کے امتزاج پر مبنی ڈیزائن اور سونے کے ورق اور قدرتی رنگوں اور نایاب جواہرات کے پاؤڈر سے تذہیب کاری شامل ہے جبکہ اس منصوبے کے تحت کاغذ کی تیاری میں شہتوت کے درخت سے حاصل کردہ مواد کا استعمال کیا جاتا ہے جو کم از کم ایک ہزار سال تک محفوظ رہ سکتا ہے نیز اخروٹ کی چھال سے کشید کردہ رنگ، انڈے کی سفیدی اور پھٹکڑی کے محلول سے تیار کردہ سطح جسے عقیق سے مہرہ کرکے ایک سال تک سیزن کیا جاتا ہے اور قدرتی سیاہی اور معدنیات سے حاصل کردہ مستند اسلامی رنگوں کا استعمال شامل ہے۔ قرآن میوزیم اور مستقبل کی راہ مصحفِ پاکستان کو محفوظ رکھنے اور آنے والی نسلوں کو اسلامی خطاطی اور تذہیب کے عظیم ورثے سے روشناس کرانے کے لیے ''قرآن میوزیم‘‘بھی قائم کیا جا رہا ہے جہاں قرآنی نسخوں کے نادر و نایاب نسخے، خطاطی کے تاریخی نمونے اور اسلامی آرٹ کے شاہکار محفوظ کیے جائیں گے۔یہ منفرد قرآنی نسخہ پاکستان کو عالمی سطح پر اسلامی فنونِ لطیفہ کے میدان میں نمایاں کرے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے پاکستان دنیا بھر میں قرآنی خطاطی کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔ قرآنی خطاطی عہد بہ عہدقرآنی خطاطی کی تاریخ مسلسل ارتقا کی داستان ہے۔ ہر دور نے اس میں جدت، خوبصورتی اور نکھار پیدا کیا۔قرآنی خطاطی کی تاریخ مختلف ادوار میں ارتقا پذیر رہی ہے، جس میں ہر دور نے اپنے مخصوص طرز اور تکنیک کو جنم دیا۔ آج بھی قرآنی خطاطی اسلامی ثقافت کا ایک لازوال جز ہے اور اس فن کو زندہ رکھنے کے لیے دنیا بھر میں خطاط کام کر رہے ہیں۔ ابتدائی اسلامی دور (7ویں-9ویں صدی) اسلام کے ابتدائی ایام میں قرآنی خطاطی زیادہ تر حجازی اور کوفی خط میں تھی۔ حجازی خط سادہ اور قدرے ترچھا تھا جبکہ خطِ کوفی زیادہ مربع اور زاویہ دار تھا جو بعد میں مختلف شکلیں اختیار کر گیا۔ عباسی دور (8ویں-13ویں صدی) عباسی خلافت میںخطِ کوفی نے مزید ترقی کی اور اس میں مشرقی کوفی، مغربی کوفی اور مزخرف کوفی جیسے انداز متعارف ہوئے۔ اسی دور میں خطِ نسخ کی بنیاد رکھی گئی جو بعد میں قرآن مجید کی کتابت کے لیے معیاری خط قرار پایا۔ مملوک اور اندلسی دور (13 ویں - 16 ویں صدی) مملوک سلطنت میں قرآنی نسخے زیادہ تر خطِ ثلث اور خطِ نسخ میں لکھے جاتے تھے جبکہ اندلس میں مغربی خط اور مرَبَّع خط کا رجحان رہا جو آج بھی شمالی افریقہ میں مقبول ہے۔ عثمانی دور (15ویں-20ویں صدی) خلافت عثمانیہ میں قرآنی خطاطی میں بے پناہ ترقی ہوئی اور خطِ دیوانی،خطِ ریحانی،خطِ طغرا اورخطِ تعلیق جیسے خط متعارف کرائے گئے۔ حمد اللہ اماسی اور شیخ حفیظ آفندی جیسے عظیم خطاطوں نے عثمانی دور میں قرآنی خطاطی کو لازوال شہرت دی۔ مغلیہ اور صفوی دور (16ویں-18ویں صدی) مغلہ دور میں فارسی طرز پر خطِ نستعلیق کو فروغ ملا مگر قرآنی کتابت زیادہ تر خطِ نسخ اورخطِ ریحانی میں ہوتی رہی۔اُدھر ایران میں صفوی دور میں خطاطی کے لیے زیادہ نفاست اپنائی گئی اور خطِ شکستہ نستعلیق جیسے اسلوب سامنے آئے۔ جدید دور (20ویں-21ویں صدی) جدید دور میں عرب دنیا، ترکی، ایران اور پاکستان میں کمپیوٹر خطاطی کو فروغ ملا مگر روایتی خطاطی اب بھی اہمیت رکھتی ہے۔ سید محمد زکریا، شفیق الزمان اور عثمان طہٰ جیسے خطاطوں نے جدید قرآنی خطاطی میں نئی جہتیں متعارف کرائی ہیں۔