پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا...!

 پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا...!

اسپیشل فیچر

تحریر : نورین نور


’’پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا پتھر کے ہو جاؤ گے‘‘۔ جانے کون سی کہانی تھی۔۔۔؟ کون سا کھیل تھا۔۔۔؟ یا کون سی حکایت تھی۔۔۔ کہ زندگی کے ہر بڑھتے قدم پر اس کی بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے۔دنیا کے کامیاب ترین انسانوں کی زندگی کہانیاں بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ مقصدِ حیات متعین کریں۔۔۔ سامنے دیکھیں اوربس ایک ہی راہ چلتے جائیں۔یہی خوبیاں ایک عام انسان کو راہنما بناتی ہیں۔پیچھے رہ جانے کا خوف ایک آسیب کی طرح یوں جکڑتا ہے کہ ہم واقعی پلٹ کر دیکھنے کی ہمت پیدا نہیں کر پاتے۔ غلطیوں کو ماننا اپنی انا کی توہین بھی سمجھتے ہیں۔ کسی حد تک پلٹ کر نہ دیکھنے والی بات درست بھی ہے کہ گیا وقت دوبارہ کسی صورت نہیں آتا۔ اور ماضی کی کمیاں کوتاہیاں کبھی بھی درست نہیں کی جا سکتیں۔۔۔ راکھ کریدنے سے بچے کچے انگارے ہی ملتے ہیں۔ لیکن!!! اس کو حرفِ آخر مان لینا قطعاً غلط ہے۔ ہرآگے بڑھنے والا شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے پیچھے کچھ نہ کچھ ایسا چھوڑ جاتا ہے جو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان راہ کا کام دیتا ہے۔ کبھی اپنی اولاد میں اپنے جینز کی صورت اپنے کام، اپنے نظریات اور افکار کی بدولت زندہ رہتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم پیشروؤں کے تجربات سے تو سبق سیکھتے ہیں ،لیکن اپنی زندگی میں اپنے آپ کو پلٹ کر دیکھنا ہمیں کمزوری لگتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا سب سے اہم سبق ہمیں اپنی زندگی اپنے آپ سے ہی ملتا ہے۔ ہمارے رویے،ہمارے جذبات۔۔۔ وقت اورحالات کے زیراثر ہمارا عمل، ردعمل سب ایک جہاںِ حیرت کے درکھولتے ہیں۔۔۔ اگر ہم اس در کے قریب سے بھی گزریں۔ ہمارے آس پاس بکھری سب کہانیاں ہماری اپنی ہوتی ہیں۔ ہوا کے جھونکوں کی طرح ہمارے قریب سے گزرتی رہتی ہیں۔ جس پر بیت چکی ہوں وہ ان کے لمس کو چھو کرحقیقت جان لیتا ہے۔ اور جو وقت کے اس پل انجان ہو وہ افسانہ سمجھتا ہے۔ حقیقت شناس تجربات زندگی کو کبھی نہیں جھٹلاتے۔ جو درد کی شدت میں مرہم کا کام دیتے ہیں، تو محبتوں کے سفر میں ہم آہنگی کی انوکھی خوشی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ دوسری طرف افسانہ سمجھنے والے ہمیشہ شک میں گھرے رہتے ہیں۔ زندگی کے تلخ ذائقوں کو سنسنی۔۔۔ مایوسی تو کبھی فلسفے کا نام دے کر مسترد کر دیتے ہیں۔۔۔خوشبو اور لذت سے ناآشنا ان کو الف لیلیٰ کی داستانِ تخیل جان کر وقتی سرور قرار دیتے ہیں۔اسباقِ زندگی ایک سے سہی لیکن ہرکسی پرہمیشہ ایک سے انداز سے سامنے نہیں آتے۔ گزرتے وقت جیسے جیسے زندگی کی پرتیں اترتی ہیں، توافسانہ حقیقت بن کر سامنے آتا ہے اور حقیقت پرافسانے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ پھراس پل یقین کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ بہت کم لوگ اس طرح زندگی کو محسوس کرتے ہیں۔۔۔ فرائض اورمسائل کے گرداب میں بری طرح الجھے آخری سانس تک زندگی کی اس سفاک حقیقت سے بے خبر ہی رہتے ہیں کہ ان کی زندگی تو دوسرے گزار چکے۔ دھکم پیل میں آگے سے آگے بڑھنے سے سفر تو جیسے تیسے طے ہو گیا، لیکن زندگی کہیں بہت پیچھے رہ گئی۔noureennoor.blogspot.com

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
انسانی قوت کا ناقابلِ یقین مظاہرہ

انسانی قوت کا ناقابلِ یقین مظاہرہ

گردن سے 21 ہزار پاؤنڈ وزنی بس کھینچنے کا حیران کن کارنامہدنیا میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اپنی غیر معمولی جسمانی طاقت اور حیران کن صلاحیتوں کے باعث لوگوں کو دنگ کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک طاقتور شخص نے اپنی گردن کے ذریعے 21 ہزار پاؤنڈ وزنی بس کھینچ کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ حیرت انگیز کارنامہ نہ صرف انسانی قوتِ برداشت اور عزم کی مثال ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مسلسل محنت، سخت تربیت اور مضبوط ارادے انسان کو ناممکن دکھائی دینے والے کام انجام دینے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ ایسے منفرد ریکارڈز کھیلوں اور جسمانی صلاحیتوں کی دنیا میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ایگمونڈ مولینا (Egmond Molina) نامی طاقتور شخص نے اپنی گردن کے ذریعے بس کھینچ کر ایک اور شاندار عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔ 49 سالہ ایگمونڈ مولینا نے 9860 کلوگرام (21,737 پاؤنڈ) وزنی بس کو 20 میٹر تک کھینچ کر گردن سے سب سے بھاری گاڑی کھینچنے کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔انہوں نے یہ کارنامہ انجام دے کر یوکرین کے ڈمائٹرو ہرنسکی (Dmytro Hrunskyi)کا سابقہ ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا، جو 2024ء میں 8,060 کلوگرام (17,769.26 پاؤنڈ) وزنی گاڑی کھینچ کر قائم کیا گیا تھا۔یہ کامیابی دراصل ایگمونڈ مولینا کی طاقت کے ریکارڈز کی ایک طویل فہرست میں تازہ ترین اضافہ ہے، جو اس نے اپنی محنت، ہمت اور غیر معمولی عزم کے ذریعے قائم کیے ہیں۔ وہ یہ سب کارنامے اپنے چاروں بچوں نائجل، ایگمونڈ جونیئر، بینجمن اور ایڈیلینڈا کو فخر دلانے کیلئے انجام دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میرا مقصد اپنی اولاد اور اپنے جزیرے کے نوجوانوں کیلئے نظم و ضبط اور محنت کی ایک ایسی وراثت چھوڑنا ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے۔ایگمونڈ مولینا نے کہا کہ اپنے سفر کی کہانی دنیا کے ساتھ شیئر کرنا ان کیلئے ایک اعزاز ہے۔ ان کے مطابق وہ اپنے خوبصورت وطن اروبا (Aruba) کی نمائندگی کرتے ہیں، جو ایک چھوٹا جزیرہ ہے جس کی آبادی تقریباً ایک لاکھ دس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ عظمت صرف بڑے ممالک یا بڑے شہروں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے خطوں سے بھی غیر معمولی کامیابیاں جنم لے سکتی ہیں۔ ان کے قائم کردہ ریکارڈز ان کے لوگوں اور ان کے خاندان کی لازوال وراثت کو خراجِ تحسین ہیں۔ وہ اپنا پورا کریئر اپنے دادا دادی کے نام کرتے ہیں، جن کی تربیت اور حوصلہ افزائی نے انہیں اس مقام تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔ایگمونڈ مولینا جنہیں ''ہیومن کرین‘‘ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے، اس وقت اپنے نام 10 عالمی ریکارڈز کر چکے ہیں۔یہ ریکارڈز اس کی غیر معمولی جسمانی طاقت، برداشت اور حیران کن مہارت کو ظاہر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ دنیا کے منفرد طاقتور کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایگمونڈ ایک سٹرنتھ کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی ریکارڈ توڑنے کیلئے کس سطح کی محنت اور تیاری درکار ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میری ترغیب انسانی صلاحیتوں کے سائنسی مطالعے میں پوشیدہ ہے۔ میری سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک پلیٹ فارم لفٹ ہے، جس میں، میں نے ہپ بیلٹ سسٹم کے ذریعے 1,002 کلوگرام (2,209 پاؤنڈ) وزن زمین سے اٹھایا۔ صرف 87 کلوگرام جسمانی وزن کے ساتھ یہ کارنامہ طاقت اور وزن کے تناسب کے لحاظ سے غیر معمولی ہے اور روایتی ایلیٹ پاور لفٹرز کی حدود سے بھی آگے جاتا ہے۔متعدد ریکارڈز توڑنے کے بعد ان کیلئے کسی ایک پسندیدہ کارنامے کا انتخاب کرنا آسان نہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک انگلی سے ڈیڈ لفٹ کرنا ان کے دل کے بہت قریب ہے اور یہ کارنامہ ان کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایگمونڈ نے کہا کہ 2026ء کے آغاز میں 159 کلوگرام (350.5 پاؤنڈ) کے ساتھ ایک انگلی سے ڈیڈ لفٹ کا ریکارڈ دوبارہ حاصل کرنا ''خصوصی فنکشنل طاقت‘‘ کی فتح تھی۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی جسم کے چھوٹے پٹھوں کے گروہ بھی مناسب تربیت کے ذریعے بہت بڑے وزن سنبھال سکتے ہیں۔ان کا تازہ ترین کارنامہ سب سے اہم ثابت ہوا، جس میں گردن سے بس کھینچتے ہوئے ان کی سانس لینے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی کیونکہ وزن نے آکسیجن کے بہاؤ کو نمایاں طور پر محدود کر دیا۔ایگمونڈ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بس کھینچنے کے دوران جب رسی ان کے سانس کی نالی کو دباتی ہے تو انہیں شدید دباؤ میں طاقت پیدا کرنا پڑتی ہے اور ساتھ ہی اپنی سانس کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال جسمانی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ایک ذہنی جنگ بھی بن جاتی ہے، جس میں انسان کو انتہائی دباؤ کے باوجود پرسکون رہنا پڑتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ چیلنج ان چوٹوں کی وجہ سے مزید مشکل ہو جاتا ہے جو انہوں نے اپنے سفر کے دوران برداشت کیں۔ بس کھینچنے کے دوران ان کی انگلی کی جلد پھٹ گئی، 90 کلوگرام دانتوں سے وزن اٹھانے کے باعث جبڑے میں شدید سوزش پیدا ہوئی، ایک ٹن پلیٹ فارم لفٹ کے دوران گھٹنے کی چوٹ آئی، جبکہ ٹرام کھینچنے کے عمل میں ان کے دائیں کندھے میں 1.2 سینٹی میٹر کا گیپ آ گیا۔ ایگمونڈ کے مطابق ان تمام مشکلات اور چوٹوں کے باوجود وہ مسلسل ڈسپلن کے ساتھ ری ہیبی لیٹیشن، تھراپی اور کامیابی کی غیر متزلزل خواہش کے ذریعے آگے بڑھتے رہے۔ کچھ ریکارڈز انہوں نے اسی حالت میں حاصل کیے جب وہ زخمی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کندھے کا جو زخم انہیں ٹرام کھینچنے کے دوران لگا تھا وہ آج تک مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا۔ایگمونڈکے حیرت انگیز کارنامے٭...متوازی بارز پر منہ کے ذریعے سب سے زیادہ وزن (90.3 کلوگرام)اٹھانے کا ریکارڈ٭...متوازی بارز پر منہ کے ذریعے افقی جسمانی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے 90.30 کلو گرام (199.07 پاؤنڈ)وزن اٹھانے کا ریکارڈ٭...33.32 سیکنڈمیں ایک انگلی سے 20 میٹر بس کھینچنے کا مظاہرہ٭...30 سیکنڈ میں دونوں ہاتھوں سے سب سے زیادہ(6) بوتل کے ڈھکن کھولنے کا ریکارڈ٭...ہپ بیلٹ کے ذریعے پلیٹ فارم سے سب سے زیادہ وزن 1,002 کلوگرام (2,209 پاؤنڈ) اٹھانے کا ریکارڈ ٭... 39.9 سیکنڈمیں دانتوں سے 20 میٹر ٹرام کھینچنے کا مظاہرہ٭... 38.60 سیکنڈ میں ایک انگلی سے 20 میٹر ٹرام کھینچنے کا مظاہرہ٭...سب سے تیز (2.87 سیکنڈمیں)گرم پانی کی بوتل پھاڑنے کا ریکارڈ٭...ایک انگلی سے سب سے بھاری 159 کلوگرام (350.53 پاؤنڈ)ڈیڈ لفٹ

حرکات و سکنات میں چھپا ذہنی رویوں کا راز!

حرکات و سکنات میں چھپا ذہنی رویوں کا راز!

جدید معاشرے میں انسانی رویوں اور نفسیاتی کیفیات کو سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ بظاہر نارمل نظر آنے والے افراد کے اندر چھپی پیچیدہ شخصیتیں اکثر ہمارے اندازوں کو غلط ثابت کر دیتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق بعض اوقات جسمانی حرکات و سکنات اور مخصوص انداز نشست و برخاست ایسے راز افشا کر دیتے ہیں جو الفاظ بیان نہیں کر پاتے۔ حالیہ تحقیق میں ایک معروف ماہر نفسیات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک خاص جسمانی انداز اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ کوئی شخص بظاہر عام ہونے کے باوجود خطرناک نفسیاتی رجحانات رکھتا ہے۔ یہ انکشاف نہ صرف سماجی رویوں کو سمجھنے میں مددگار ہے بلکہ ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کو پرکھنے کیلئے ایک نیا زاویہ بھی فراہم کرتا ہے۔نفسیاتی مریضوں کو پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنی دلکشی، لوگوں کو قابو میں کرنے کی صلاحیت اور عام انسانی جذبات کی نقل کرنے کی غیر معمولی مہارت کے باعث اکثر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ تاہم ایک ممتاز ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ایک خاص اور باریک جسمانی انداز اس شخصیت کے عارضے کے بارے میں اشارہ دے سکتا ہے۔یونیورسٹی آف میساچوسٹس میں نفسیاتی اور دماغی علوم کی پروفیسر ایمیریٹا سوسن کراوس وِٹبورن کے مطابق تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ وہ افراد جو کھلے اور پھیلے ہوئے انداز اختیار کرتے ہیں، دوسروں کا استحصال کرنے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔ مبالغہ آمیز انداز،کھڑے ہونے یا بیٹھنے کو سائیکوپیتھی، چالاکی، مقابلہ بازی اور سماجی درجہ بندی جیسے رجحانات سے بھی جوڑا گیا ہے۔اپنی رپورٹ میں وِٹبورن نے کینیڈا کی مک گل یونیورسٹی کی تحقیق کا حوالہ دیا، جس میں مخصوص جسمانی انداز اور سائیکوپیتھک رجحانات سے جڑی شخصی خصوصیات کے درمیان تعلق پایا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان اندازوں میں مٹھیاں بلند کرنا، دھڑ کو پیچھے کی طرف لے جانا، کمر کے نچلے حصے کو خم دینا (لارڈوٹک پوزیشن)، مادہ جانوروں میں قبولیت کا انداز اور کمر کو پیچھے کی طرف موڑنا شامل ہیں۔وِٹبورن کے مطابق ایک اہم اشارہ جو آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کوئی شخص آپ پر حاوی ہونا چاہتا ہے، وہ اس کا کھلا، سیدھا اور پھیلا ہوا جسمانی انداز ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص کسی دوسرے کے سامنے جھکنے یا ہار ماننے کیلئے تیار ہوتا ہے، وہ عموماً جھکا ہوا نظر آتا ہے اور خود کو سمیٹ لیتا ہے۔سائیکوپیتھ(نفسیاتی مریض) ان افراد کو کہا جاتا ہے جن میں معاشرتی اصولوں کی خلاف ورزی، چالاکی اور بے حسی جیسے اوصاف پائے جاتے ہیں، مثلاً بے خوفی، سطحی دلکشی اور ہمدردی کا فقدان۔اکثر ڈرامائی یا مجرمانہ رویّوں کے حوالے سے انہیں سرد مزاج، خطرہ مول لینے والے اور ضمیر سے عاری افراد کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جنہیں بعض اوقات اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے یا مجرمانہ اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔کینیڈا کی مک گل یونیورسٹی کے محققین نے جسمانی انداز (پوسچر) اور شخصی خصوصیات کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے کیلئے پانچ مطالعات پر مشتمل ایک سلسلہ انجام دیا۔ ان میں سے چار مطالعات میں شرکاء نے اپنی قدرتی حالت میں کھڑے ہونے کی تصاویر فراہم کیں، جبکہ پانچویں مطالعے میں رضاکار لیبارٹری آئے جہاں محققین نے ان کے جسمانی پیمائشیں ریکارڈ کیں۔ ''ٹوڈے سائیکولوجی‘‘ کے مطابق اس تحقیق میں مجموعی طور پر 608 نوجوان افراد شامل تھے۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو لوگ زیادہ سیدھے اور اکڑے ہوئے انداز میں کھڑے ہوتے ہیں، ان میں نفسیاتی مرض میں مبتلا ہونے والی خصوصیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ محققین نے یہ بھی پایا کہ یہ جسمانی انداز وقت کے ساتھ مستقل رہتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رویّہ اتفاقی نہیں بلکہ ایک مستحکم خصوصیت ہے۔مطالعے کے ایک اور مرحلے میں شرکاء کو ہدایت دی گئی کہ وہ یا تو غالب (dominant) یا فرمانبردار (submissive) انداز اختیار کریں۔ جن افراد کو فرمانبرار انداز اپنانے کو کہا گیا، وہ جھکے ہوئے کندھوں اور آگے کی طرف مڑی ہوئی حالت میں کھڑے ہوئے، جبکہ غالب نظر آنے کی ہدایت پانے والے افراد سیدھے کھڑے ہوئے، کولہوں کو آگے کی طرف نکالا اور دھڑ کو قدرے پیچھے کی جانب جھکایا۔ تاہم محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ محض جسمانی انداز بدلنے سے کسی شخص کی ذہنی کیفیت میں تبدیلی کے شواہد نہیں ملے۔تحقیق کے آخری مرحلے میں سائنس دانوں نے اپنے ابتدائی نتائج کی تصدیق کی اور زیر مطالعہ شخصی خصوصیات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا۔ ان خصوصیات میں سائیکو پیتھی، چالاکی، مقابلہ بازی اور سخت سماجی درجہ بندی پر یقین شامل تھے، ایسے رجحانات جنہیں محققین نے دوسروں پر برتری حاصل کرنے کی کوششوں سے جوڑا۔ محققین کے مطابق وہ افراد جو زیادہ غالب انداز اپناتے ہیں، ممکن ہے اس کے پیچھے یہ خواہش کارفرما ہو کہ وہ کمزور یا ماتحت نظر نہ آئیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سیدھا کھڑا ہونا اور خود اعتمادی کا اظہار دوسروں کے ردِعمل کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے وقت کے ساتھ غالب رویوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔ وِٹبورن نے کہا کہ اگر آپ فطری طور پر سیدھے کھڑے ہونے والے انسان ہیں تو کیا ہوگا؟ شاید آپ کو بچپن میں رقص سیکھنے یا کھیلوں میں حصہ لینے کا موقع ملا ہو، اور مضبوط جسمانی انداز اسی کا ایک فائدہ ہو۔اس تحقیق کے تناظر میں اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ اس غالب رجحان کے حامل نہیں ہوتے، وہ اپنے جسمانی انداز میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ وہ شرکاء جو ان ناپسندیدہ خصوصیات میں کم نمبر حاصل کرتے تھے، مختلف انداز اپناتے نظر آئے، بجائے اس کے کہ وہ ہمیشہ خود کو طاقتور اور سخت ظاہر کر کے دوسروں پر حاوی ہونے کی کوشش کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

اینڈریو کی آخری خلائی مہم16مئی2011ء کوناسا نے خلائی مشن ''ایس ٹی ایس134‘‘ کو روانہ کیا۔ یہ مشن سپیس شٹل اینڈیور کی پچیسویں اور آخری پرواز تھی، جو امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع کینیڈی سپیس سنٹر سے لانچ کی گئی۔ اس مشن کا مقصد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی تعمیر اور توسیع کے سلسلے کو مکمل کرنا تھا۔ اینڈیور خلائی شٹل نے اہم سائنسی آلات اور سامان خلائی اسٹیشن تک پہنچایا۔ اس کے بعد اینڈیور کو ریٹائر کر کے عجائب گھر میں رکھ دیا گیا۔معاہدہ بخارسٹ1812ء میں آج کے روز روس نے معاہدہ بخارسٹ پر دستخط کیے، جس کے نتیجے میں روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان جاری روس ترک جنگ اختتام پذیر ہوئی۔ اس معاہدے کے تحت عثمانی سلطنت نے بیسارابیا کا علاقہ روس کے حوالے کر دیا۔ یہ خطہ اسٹریٹجک اور زرعی لحاظ سے نہایت اہم سمجھا جاتا تھا، جس پر قبضہ روس کی طاقت اور اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بنا۔ معاہدہ بخارسٹ نے مشرقی یورپ کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کیے اور عثمانی سلطنت کی کمزور ہوتی ہوئی حیثیت کو مزید نمایاں کیا۔لیزر کا استعمال1960ء میں امریکی سائنس دان تھیوڈور ہیرالڈ میمن نے دنیا کا پہلا آپٹیکل لیزر کامیابی سے چلایا، جو روبی لیزر کہلاتا تھا۔ یہ تاریخی تجربہ ہیوز ریسرچ لیبارٹریزمیں انجام دیا گیا۔ تھیوڈور میمن کی یہ ایجاد سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوئی۔ لیزر ٹیکنالوجی بعد ازاں طب، صنعت، مواصلات اور تحقیق سمیت متعدد شعبوں میں استعمال ہونے لگی۔ آج لیزر انسانی زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے ۔الامانس کی بغاوت16مئی1771ء میں الامانس کی بغاوت کا آغاز ہوا۔یہ ریگولیٹرموومنٹ کی آخری جنگ تھی۔یہ تحریک ناجائز ٹیکس اور مقامی انتظام کے کنٹرول پر شمالی کیرولائنا میں بغاوت کی صورتحال اختیار کر گئی،کچھ لوگ اسے امریکی انقلاب کی ابتداء بھی کہتے ہیں۔یہ بغاوت اس وقت شروع ہوئی جب گرینٹ الامانس کریک اورنج کاونٹی ہوا کرتی تھی۔ اس جنگ کے بعد موجودہ برلنگٹن، شمالی کیرولائنا سے تقریباً6میل دور جنوب وسطی پیڈمونٹ کے علاقے میں الامانس کاؤنٹی بن گئی۔16مئی نوٹس1966 میں چائنیز کمیونسٹ پارٹی نے ''16 مئی نوٹس‘‘ جاری کیا، جسے چین میں ثقافتی انقلاب کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس اعلان کے ذریعے پارٹی نے اپنے سیاسی مخالفین اور سرمایہ دارانہ نظریات کے خلاف سخت مہم شروع کی۔ یہ تحریک مائو زیڈونگ کی قیادت میں چلائی گئی، جس کا مقصد چینی معاشرے کو کمیونسٹ نظریات کے مطابق ڈھالنا تھا۔ ثقافتی انقلاب کے دوران لاکھوں افراد متاثر ہوئے، تعلیمی ادارے بند ہوئے اور تاریخی و ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچا۔ مراکو بم دھماکے2003ء میں شمالی افریقی ملک مراکو کے شہر کیسابلانکامیں ہونے والے دہشت گرد حملوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان حملوں میں 33 شہری ہلاک جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ خودکش حملہ آوروں نے مختلف اہم مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں ہوٹل، ریستوران اور دیگر عوامی مقامات شامل تھے۔ ان واقعات کے بعد مراکش کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کیے اور سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

گرمی کم کرنے میں درختوں کا کردار، مگر ایک مسئلہ بھی ہے

گرمی کم کرنے میں درختوں کا کردار، مگر ایک مسئلہ بھی ہے

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی شہری آبادی، کنکریٹ کی عمارتیں، سڑکیں اور گاڑیوں کی بھرمار شہروں کو مسلسل گرم کر رہی ہیں۔ ماہرین اس صورتحال کوUrban Heat Island Effect کہتے ہیں، یعنی ایسا اثر جس میں شہر اپنے اردگرد کے دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔ نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ درخت اس اضافی گرمی کو تقریباً نصف تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم اس تحقیق نے ایک تشویشناک حقیقت بھی سامنے رکھی ہے اور وہ یہ کہ جن شہروں کو درختوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہاں درخت سب سے کم موجود ہیں۔ تحقیق کے مطابق دنیا کے تقریباً نو ہزار بڑے شہروں کا جائزہ لیا گیا۔ سائنسدانوں نے سیٹلائٹ تصاویر، موسمی ڈیٹا اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے یہ معلوم کیا کہ درخت کس حد تک شہروں کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ درخت اوسطاً شہری علاقوں کے درجہ حرارت کو 0.15 ڈگری سیلسیس تک کم کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ کمی معمولی محسوس ہوتی ہے مگر ماہرین کے مطابق اگر درخت موجود نہ ہوں تو شہروں کا درجہ حرارت دو گنا زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ درخت دو بنیادی طریقوں سے ماحول کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ پہلا طریقہ سایہ فراہم کرنا ہے۔ جب سڑکیں، عمارتیں اور گاڑیاں سورج کی تپش جذب کرتی ہیں تو گرمی زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔ درخت ان سطحوں پر براہِ راست دھوپ پڑنے سے روکتے ہیں جس سے گرمی کم ہوتی ہے۔ دوسرا طریقہEvapotranspiration ہے جس میں درخت اپنے پتوں کے ذریعے پانی خارج کرتے ہیں۔ یہ عمل انسانی جسم کے پسینے کی طرح ماحول کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ ناسا کی ایک پرانی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ جن شہری علاقوں میں سبزہ زیادہ ہو وہاں درجہ حرارت نمایاں حد تک کم رہتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک کے شہروں میں درخت زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر برلن، واشنگٹن اور اٹلانٹا جیسے شہروں میں درخت شہری گرمی کو کافی حد تک کم کر رہے ہیں کیونکہ وہاں منصوبہ بندی کے ساتھ شجرکاری کی گئی ہے۔ اس کے برعکس افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی شہروں، جیسے ڈاکار، جدہ اور کویت سٹی میں درختوں کی کمی کے باعث شہری گرمی شدید مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فرق صرف موسمی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ معاشی ناہمواری بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ امیر شہروں میں پارکس، باغات اور درختوں سے بھرپور سڑکیں عام ہیں جبکہ غریب علاقوں میں کنکریٹ کی تعمیرات زیادہ اور سبزہ کم ہوتا ہے نتیجتاً وہاں رہنے والے لوگ زیادہ گرمی برداشت کرتے ہیں، بجلی کا استعمال بڑھتا ہے اور ہیٹ ویوز کے دوران بیماریوں اور اموات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر شہروں میں درختوں کی تعداد بڑھا دی جائے تو گرمی سے ہونے والی اموات میں ایک تہائی تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ کیا صرف درخت لگانا کافی ہے؟اگرچہ درخت شہری گرمی کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں مگر سائنسدان خبردار کرتے ہیں کہ صرف شجرکاری اس مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ تحقیق کے مطابق مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت مزید بڑھے گا اور صرف درخت لگانے سے اس اضافی گرمی کا محدود حصہ ہی کم کیا جا سکے گا۔ اس لیے ماہرین صاف توانائی، کم کاربن اخراج، بہتر شہری منصوبہ بندی اور ماحول دوست تعمیرات کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر جگہ ایک ہی قسم کے درخت لگانا بھی فائدہ مند نہیں ہوتا۔ بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر گھنے درخت تنگ اور بند گلیوں میں لگائے جائیں تو وہ رات کے وقت گرمی کو باہر نکلنے سے روک سکتے ہیں جس سے درجہ حرارت کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ ہر شہر کے موسم، گلیوں کی ساخت اور مقامی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب درخت منتخب کیے جائیں۔ دنیا کے کئی شہروں میں اب گرین اربن پلاننگ پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے تحت نئی سڑکوں، رہائشی منصوبوں اور تجارتی علاقوں میں لازمی درخت لگانے کی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ سنگاپور کو اس حوالے سے کامیاب مثال سمجھا جاتا ہے جہاں عمارتوں، سڑکوں اور پارکوں میں بڑے پیمانے پر سبزہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کے بڑے شہر ابھی سے سنجیدہ اقدامات کریں تو نہ صرف شہری گرمی کم ہو سکتی ہے بلکہ فضائی آلودگی، ذہنی دباؤ اور بجلی کے زیادہ استعمال جیسے مسائل بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔ درخت صرف خوبصورتی یا سایہ فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ مستقبل کے شہروں کو قابلِ رہائش بنانے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور شہری آلودگی کے دور میں درخت انسانی زندگی کے محافظ بن چکے ہیں۔ لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ ان درختوں کو وہاں لگایا جائے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

نیوٹن کے کششِ ثقل کے قانون کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان

نیوٹن کے کششِ ثقل کے قانون کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان

سائنس کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے آئزک نیوٹن کے مشہور قانونِ کششِ ثقل کو اب تک کے سب سے بڑے کائناتی پیمانے پر پرکھا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ قانون ایک بار پھر درست ثابت ہوا ہے، چاہے اسے زمین یا نظامِ شمسی کی حدود سے نکال کر کروڑوں نوری سال دور کہکشاؤں پر آزمایا گیا ہو۔کششِ ثقل کا بنیادی تصورنیوٹن نے 1687 میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کائنات کا ہر جسم دوسرے جسم کو اپنی کمیت کے مطابق اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس کشش کی طاقت فاصلے کے مربع کے الٹے تناسب سے کم ہوتی ہے۔ یعنی اگر دو اجسام کے درمیان فاصلہ دوگنا ہو جائے تو ان کے درمیان کشش چار گنا کم ہو جاتی ہے۔یہ سادہ سا اصول صدیوں سے فزکس کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور آج بھی روزمرہ زندگی سے لے کر خلائی تحقیق تک استعمال ہوتا ہے۔کائناتی پیمانے پر نیا تجربہحال ہی میں سائنسدانوں نے اس قانون کو صرف سیاروں اور ستاروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انتہائی بڑے پیمانے پر آزمایا۔ انہوں نے کہکشاؤں کے بڑے بڑے جھرمٹوں (Galaxy clusters) کا مشاہدہ کیا جو ایک دوسرے سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں۔جدید دوربینوں اور فلکیاتی سرویز کے ذریعے حاصل کیے گئے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ اس میں کہکشاؤں کی حرکت، ان کے درمیان کششِ ثقل کے اثرات اور کائنات کی مجموعی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔تحقیق کے نتائج نہایت واضح اور دلچسپ تھے۔ نیوٹن کا قانون اس وسیع کائناتی پیمانے پر بھی درست ثابت ہوا۔مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی کہ کہکشاؤں کے درمیان کشش اسی اصول کے مطابق کام کر رہی ہے۔فاصلے بڑھنے پر کشش کم ہونے کا قانون ویسا ہی برقرار ہے۔کسی بھی مرحلے پر اس بنیادی اصول میں تضاد یا تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ یہ نتائج اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ اس سطح پر اکثر یہ توقع کی جاتی ہے کہ روایتی قوانین میں تبدیلی یا نئی طبیعیات (New physics)سامنے آئے گی۔یہ تحقیق جدید طبیعیات کے لیے ایک مضبوط توثیق سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے دو بڑے نظریات کی ساکھ مزید مضبوط ہوتی ہے کہ ایک طرف نیوٹن کی کلاسیکی فزکس ہے جو روزمرہ اور بنیادی حساب کتاب کے لیے اہم ہے، اور دوسری طرف آئن سٹائن کی جنرل ریلیٹوٹی ہے جو کششِ ثقل کو زیادہ جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔یہ نیا مشاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ آئن سٹائن کا نظریہ زیادہ گہرا اور وسیع ہے، پھر بھی نیوٹن کا سادہ قانون بڑے پیمانے پر ایک بہترین اور درست اندازہ فراہم کرتا ہے۔اس تحقیق سے کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ سائنسدانوں کو اس بات کا مزید یقین ہوا ہے کہ کائنات کے بنیادی قوانین نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ انتہائی بڑے فاصلے اور وقت کے باوجود یکساں طور پر کام کرتے ہیں۔یہ نتائج ڈارک میٹر ، کہکشاؤں کی تشکیل اور کائنات کی توسیع جیسے اہم موضوعات کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔مختصر یہ کہ نیوٹن کا کششِ ثقل کا قانون، جو تقریباً 400 سال پہلے پیش کیا گیا تھا، آج بھی کائنات کے سب سے بڑے پیمانوں پر درست ثابت ہو رہا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت کے بنیادی اصول حیرت انگیز طور پر مستقل اور قابلِ اعتماد ہیں، چاہے ہم انہیں زمین پر دیکھیں یا اربوں نوری سال دور کہکشاؤں میں۔

آج کا دن

آج کا دن

امریکہ، میکسیکو جنگ 13 مئی 1846ء کو امریکی کانگریس نے میکسیکو کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب دونوں ممالک کے درمیان ٹیکساس کی ملکیت اور سرحدی تنازعات شدت اختیار کر گئے تھے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ ریو گرانڈے دریا تک کا علاقہ اس کا حصہ ہے جبکہ میکسیکو اسے اپنی سرزمین سمجھتا تھا۔یہ جنگ تقریباً دو سال تک جاری رہی اور اس کے دوران امریکہ نے میکسیکو کے بڑے حصے جیسے کیلیفورنیا، نیواڈا، یوٹاہ، ایریزونا اور نیو میکسیکو پر قبضہ کر لیا۔ برازیل میں غلامی کا خاتمہ13 مئی 1888ء کو برازیل کی شہزادی ایزابیل نے ایک تاریخی قانون پر دستخط کیے جس کے ذریعے برازیل میں غلامی کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔ اُس وقت برازیل دنیا کا آخری بڑا ملک تھا جہاں غلامی قانونی طور پر جاری تھی۔اُس وقت برازیل میں تقریباً سات لاکھ غلام موجود تھے، جو زیادہ تر زرعی شعبے خصوصاً کافی کے باغات میں کام کرتے تھے۔اس قانون کے مطابق تمام غلاموں کو بغیر کسی معاوضے یا شرط کے آزاد کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ انسانی حقوق کی تاریخ میں ایک بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ پہلی فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ ریس13 مئی 1950ء کو برطانیہ کے مشہور ریس ٹریک سلورسٹون پر پہلی پہلی فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ ریس منعقد ہوئی۔ یہ جدید موٹر ریسنگ کی تاریخ کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔اس ریس میں مختلف ممالک کے ڈرائیورز نے شرکت کی اور الفا رومیو کی گاڑیوں نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ Giuseppe Farina نے یہ تاریخی ریس جیت کر پہلا F1 عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ بعد کے سالوں میں یہ کھیل دنیا کا سب سے مشہور اور مہنگا موٹر اسپورٹس بن گیا۔ پوپ جان پال پر قاتلانہ حملہ13 مئی 1981ء کو ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز سکوائر کے اندر پوپ جان پال دوم پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ حملہ آور ایک ترک شہری تھا جس نے پوپ پر گولیاں چلائیں۔پوپ شدید زخمی ہو گئے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں طویل آپریشن کے بعد ان کی جان بچائی گئی۔ یہ واقعہ دنیا بھر میں چونکا دینے والا تھا۔بعد میں پوپ نے اپنے حملہ آور کو معاف کر دیا، جو انسانی برداشت اور معافی کی ایک بڑی مثال بن گیا۔ اس واقعے کے پیچھے مختلف سیاسی اور خفیہ سازشوں کے نظریات بھی سامنے آئے لیکن مکمل حقیقت آج تک واضح نہیں ہو سکی۔ فلاڈیلفیا MOVE بمباری13 مئی 1985ء کو امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں پولیس نے ایک مذہبی و سیاسی گروہ ''MOVE‘‘ کے خلاف آپریشن کیا جو ایک بڑی تباہی پر ختم ہوا۔ پولیس نے گروہ کے گھروں پر بم گرائے جس کے نتیجے میں شدید آگ لگ گئی۔ جس سے پورا رہائشی بلاک تباہ ہو گیا۔اس واقعے میں 11 افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے ۔یہ واقعہ امریکی تاریخ کے سب سے متنازع پولیس آپریشنز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بعد میں حکومت نے اس واقعے پر معذرت بھی کی اور اسے انتہائی غلط فیصلہ قرار دیا گیا۔MOVE پہلے بھی متنازع گروہ تھا مگر اس کارروائی نے انسانی حقوق، پولیس فورس اور ریاستی تشدد پر بڑے سوالات اٹھا دیے۔