پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا...!

اسپیشل فیچر
’’پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا پتھر کے ہو جاؤ گے‘‘۔ جانے کون سی کہانی تھی۔۔۔؟ کون سا کھیل تھا۔۔۔؟ یا کون سی حکایت تھی۔۔۔ کہ زندگی کے ہر بڑھتے قدم پر اس کی بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے۔دنیا کے کامیاب ترین انسانوں کی زندگی کہانیاں بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ مقصدِ حیات متعین کریں۔۔۔ سامنے دیکھیں اوربس ایک ہی راہ چلتے جائیں۔یہی خوبیاں ایک عام انسان کو راہنما بناتی ہیں۔پیچھے رہ جانے کا خوف ایک آسیب کی طرح یوں جکڑتا ہے کہ ہم واقعی پلٹ کر دیکھنے کی ہمت پیدا نہیں کر پاتے۔ غلطیوں کو ماننا اپنی انا کی توہین بھی سمجھتے ہیں۔ کسی حد تک پلٹ کر نہ دیکھنے والی بات درست بھی ہے کہ گیا وقت دوبارہ کسی صورت نہیں آتا۔ اور ماضی کی کمیاں کوتاہیاں کبھی بھی درست نہیں کی جا سکتیں۔۔۔ راکھ کریدنے سے بچے کچے انگارے ہی ملتے ہیں۔ لیکن!!! اس کو حرفِ آخر مان لینا قطعاً غلط ہے۔ ہرآگے بڑھنے والا شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے پیچھے کچھ نہ کچھ ایسا چھوڑ جاتا ہے جو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان راہ کا کام دیتا ہے۔ کبھی اپنی اولاد میں اپنے جینز کی صورت اپنے کام، اپنے نظریات اور افکار کی بدولت زندہ رہتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم پیشروؤں کے تجربات سے تو سبق سیکھتے ہیں ،لیکن اپنی زندگی میں اپنے آپ کو پلٹ کر دیکھنا ہمیں کمزوری لگتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا سب سے اہم سبق ہمیں اپنی زندگی اپنے آپ سے ہی ملتا ہے۔ ہمارے رویے،ہمارے جذبات۔۔۔ وقت اورحالات کے زیراثر ہمارا عمل، ردعمل سب ایک جہاںِ حیرت کے درکھولتے ہیں۔۔۔ اگر ہم اس در کے قریب سے بھی گزریں۔ ہمارے آس پاس بکھری سب کہانیاں ہماری اپنی ہوتی ہیں۔ ہوا کے جھونکوں کی طرح ہمارے قریب سے گزرتی رہتی ہیں۔ جس پر بیت چکی ہوں وہ ان کے لمس کو چھو کرحقیقت جان لیتا ہے۔ اور جو وقت کے اس پل انجان ہو وہ افسانہ سمجھتا ہے۔ حقیقت شناس تجربات زندگی کو کبھی نہیں جھٹلاتے۔ جو درد کی شدت میں مرہم کا کام دیتے ہیں، تو محبتوں کے سفر میں ہم آہنگی کی انوکھی خوشی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ دوسری طرف افسانہ سمجھنے والے ہمیشہ شک میں گھرے رہتے ہیں۔ زندگی کے تلخ ذائقوں کو سنسنی۔۔۔ مایوسی تو کبھی فلسفے کا نام دے کر مسترد کر دیتے ہیں۔۔۔خوشبو اور لذت سے ناآشنا ان کو الف لیلیٰ کی داستانِ تخیل جان کر وقتی سرور قرار دیتے ہیں۔اسباقِ زندگی ایک سے سہی لیکن ہرکسی پرہمیشہ ایک سے انداز سے سامنے نہیں آتے۔ گزرتے وقت جیسے جیسے زندگی کی پرتیں اترتی ہیں، توافسانہ حقیقت بن کر سامنے آتا ہے اور حقیقت پرافسانے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ پھراس پل یقین کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ بہت کم لوگ اس طرح زندگی کو محسوس کرتے ہیں۔۔۔ فرائض اورمسائل کے گرداب میں بری طرح الجھے آخری سانس تک زندگی کی اس سفاک حقیقت سے بے خبر ہی رہتے ہیں کہ ان کی زندگی تو دوسرے گزار چکے۔ دھکم پیل میں آگے سے آگے بڑھنے سے سفر تو جیسے تیسے طے ہو گیا، لیکن زندگی کہیں بہت پیچھے رہ گئی۔noureennoor.blogspot.com