پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا...!

 پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا...!

اسپیشل فیچر

تحریر : نورین نور


’’پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا پتھر کے ہو جاؤ گے‘‘۔ جانے کون سی کہانی تھی۔۔۔؟ کون سا کھیل تھا۔۔۔؟ یا کون سی حکایت تھی۔۔۔ کہ زندگی کے ہر بڑھتے قدم پر اس کی بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے۔دنیا کے کامیاب ترین انسانوں کی زندگی کہانیاں بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ مقصدِ حیات متعین کریں۔۔۔ سامنے دیکھیں اوربس ایک ہی راہ چلتے جائیں۔یہی خوبیاں ایک عام انسان کو راہنما بناتی ہیں۔پیچھے رہ جانے کا خوف ایک آسیب کی طرح یوں جکڑتا ہے کہ ہم واقعی پلٹ کر دیکھنے کی ہمت پیدا نہیں کر پاتے۔ غلطیوں کو ماننا اپنی انا کی توہین بھی سمجھتے ہیں۔ کسی حد تک پلٹ کر نہ دیکھنے والی بات درست بھی ہے کہ گیا وقت دوبارہ کسی صورت نہیں آتا۔ اور ماضی کی کمیاں کوتاہیاں کبھی بھی درست نہیں کی جا سکتیں۔۔۔ راکھ کریدنے سے بچے کچے انگارے ہی ملتے ہیں۔ لیکن!!! اس کو حرفِ آخر مان لینا قطعاً غلط ہے۔ ہرآگے بڑھنے والا شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے پیچھے کچھ نہ کچھ ایسا چھوڑ جاتا ہے جو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان راہ کا کام دیتا ہے۔ کبھی اپنی اولاد میں اپنے جینز کی صورت اپنے کام، اپنے نظریات اور افکار کی بدولت زندہ رہتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم پیشروؤں کے تجربات سے تو سبق سیکھتے ہیں ،لیکن اپنی زندگی میں اپنے آپ کو پلٹ کر دیکھنا ہمیں کمزوری لگتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا سب سے اہم سبق ہمیں اپنی زندگی اپنے آپ سے ہی ملتا ہے۔ ہمارے رویے،ہمارے جذبات۔۔۔ وقت اورحالات کے زیراثر ہمارا عمل، ردعمل سب ایک جہاںِ حیرت کے درکھولتے ہیں۔۔۔ اگر ہم اس در کے قریب سے بھی گزریں۔ ہمارے آس پاس بکھری سب کہانیاں ہماری اپنی ہوتی ہیں۔ ہوا کے جھونکوں کی طرح ہمارے قریب سے گزرتی رہتی ہیں۔ جس پر بیت چکی ہوں وہ ان کے لمس کو چھو کرحقیقت جان لیتا ہے۔ اور جو وقت کے اس پل انجان ہو وہ افسانہ سمجھتا ہے۔ حقیقت شناس تجربات زندگی کو کبھی نہیں جھٹلاتے۔ جو درد کی شدت میں مرہم کا کام دیتے ہیں، تو محبتوں کے سفر میں ہم آہنگی کی انوکھی خوشی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ دوسری طرف افسانہ سمجھنے والے ہمیشہ شک میں گھرے رہتے ہیں۔ زندگی کے تلخ ذائقوں کو سنسنی۔۔۔ مایوسی تو کبھی فلسفے کا نام دے کر مسترد کر دیتے ہیں۔۔۔خوشبو اور لذت سے ناآشنا ان کو الف لیلیٰ کی داستانِ تخیل جان کر وقتی سرور قرار دیتے ہیں۔اسباقِ زندگی ایک سے سہی لیکن ہرکسی پرہمیشہ ایک سے انداز سے سامنے نہیں آتے۔ گزرتے وقت جیسے جیسے زندگی کی پرتیں اترتی ہیں، توافسانہ حقیقت بن کر سامنے آتا ہے اور حقیقت پرافسانے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ پھراس پل یقین کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ بہت کم لوگ اس طرح زندگی کو محسوس کرتے ہیں۔۔۔ فرائض اورمسائل کے گرداب میں بری طرح الجھے آخری سانس تک زندگی کی اس سفاک حقیقت سے بے خبر ہی رہتے ہیں کہ ان کی زندگی تو دوسرے گزار چکے۔ دھکم پیل میں آگے سے آگے بڑھنے سے سفر تو جیسے تیسے طے ہو گیا، لیکن زندگی کہیں بہت پیچھے رہ گئی۔noureennoor.blogspot.com

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ورلڈ ہارٹ ڈے:اپنے دل کی سنیں!

ورلڈ ہارٹ ڈے:اپنے دل کی سنیں!

ہر سال 29 ستمبر کو ورلڈ ہارٹ ڈے منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں لوگوں کو دل کی صحت، امراضِ قلب کے خطرات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے آگاہ کیا جا سکے۔ دل انسانی جسم کا وہ اہم ترین عضو ہے جو زندگی کے ہر لمحے خون کو پورے جسم تک پہنچانے کا کام انجام دیتا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جدید طرزِ زندگی نے دل کو مختلف بیماریوں کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔دنیا بھر میں امراضِ قلب انسانی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 2022ء میں دنیا بھر میں تقریباً 19.8 ملین افراد امراضِ قلب کے باعث وفات پاگئے، جو عالمی سطح پر ہونے والی مجموعی اموات کا تقریباً 32 فیصد بنتا ہے۔ ان میں ہارٹ اٹیک ایک نمایاں وجہ ہے۔پاکستان بھی اس صورتحال سے مستثنیٰ نہیں۔ ملک میں بلند ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا، تمباکو نوشی، غیر متوازن خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی جیسے عوامل امراضِ قلب کے خطرے میں اضافہ کر رہے ہیں۔ امراضِ قلب کی صورتحالپاکستان میں غیر متعدی امراض صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2021 ء میں پاکستان میں تقریباًآٹھ لاکھ71 ہزار اموات غیر متعدی بیماریوں کے باعث ہوئیں جو مجموعی اموات کا تقریباً 52 فیصد تھیں۔ عالمی ادارہ صحت کے پاکستان ہائپرٹینشن پروفائل کے مطابق 2019ء میں پاکستان میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ اموات امراضِ قلب سے ہوئیں۔ اسی سال امراضِ قلب سے ہونے والی اموات میں تقریباً 58 فیصد کا تعلق ہائی بلڈ پریشر سے جوڑا گیا۔ 2019ء کے ڈبلیو ایچ او کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں 30 سے 79 سال کی عمر کے بالغ افراد میں ہائپرٹینشن کی عمر کے لحاظ سے معیاری شرح تقریباً 43 فیصد تھی جبکہ ہائپرٹینشن کے شکار افراد میں سے صرف تقریباً 11 فیصد کا بلڈ پریشر کنٹرول میں تھا۔یہ اعداد واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں امراضِ قلب کے مسئلے کا تعلق صرف علاج کی سہولیات سے نہیں بلکہ بیماری کے بنیادی خطرے کے عوامل سے بھی ہے۔ اگر ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ذیابیطس، موٹاپے اور تمباکو نوشی جیسے عوامل پر بروقت قابو پایا جائے تو دل کے بہت سے مسائل سے بچاؤ ممکن ہے۔بدلتا طرزِ زندگی، بڑھتے خطراتامراضِ قلب عموماً اچانک پیدا نہیں ہوتے۔ کئی برسوں تک جاری رہنے والی غیر صحت مند عادات دل اور خون کی شریانوں کو بتدریج متاثر کرتی ہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی کم اور بیٹھنے کا دورانیہ زیادہ ہو گیا ہے جبکہ فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیا، میٹھے مشروبات، زیادہ نمک اور غیر متوازن خوراک کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے STEPS سروے میں بھی امراضِ قلب سے متعلق متعدد خطرے کے عوامل سامنے آئے۔ پنجاب اور سندھ میں کیے گئے اس سروے کے مطابق تقریباً 19.7 فیصد بالغ افراد تمباکو استعمال کرتے تھے، 46 فیصد میں جسمانی سرگرمی ناکافی تھی جبکہ 96.5 فیصد افراد روزانہ پھلوں اور سبزیوں کی مطلوبہ مقدار سے کم استعمال کر رہے تھے۔اسی سروے میں تقریباً 26 فیصد افراد زیادہ وزن اور 14.9 فیصد موٹاپے کا شکار پائے گئے۔اگرچہ یہ اعداد پرانے سروے سے متعلق ہیں اور انہیں موجودہ پاکستانی آبادی کی تازہ شرح نہیں سمجھنا چاہیے تاہم یہ ہمارے طرزِ زندگی میں موجود اہم خطرات کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں۔ دل کو محفوظ رکھنے کیلئے کیا کیا جائے؟امراضِ قلب سے بچاؤ کا آغاز گھر سے ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے بلڈ پریشر کو باقاعدگی سے چیک کرنا چاہیے۔ ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیر کسی واضح علامت کے موجود رہتا ہے اس لیے صرف سر درد یا چکر آنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر بلڈ پریشر مسلسل زیادہ آ رہا ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔اسی طرح کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی مناسب وقفوں سے جانچ بھی اہم ہے۔ خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد کو اپنی مجموعی صحت، وزن، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول سے باخبر رہنا چاہیے۔تمباکو نوشی ترک کرنا دل کی حفاظت کے لیے انتہائی اہم قدم ہے۔ ورزش کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ روزانہ تیز قدموں سے چہل قدمی، سائیکلنگ، تیراکی یا کوئی دوسری مناسب ورزش دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔خوراک میں بھی بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ نمک، تلی ہوئی اشیا، بیکری مصنوعات، میٹھے مشروبات اور انتہائی پراسیسڈ خوراک کا استعمال کم کیا جائے۔ اس کے مقابلے میں سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور مناسب مقدار میں صحت مند پروٹین کو خوراک کا حصہ بنایا جائے۔اسی طرح صحت مند وزن برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔ اضافی وزن ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور خون میں چکنائی سمیت متعدد خطرے کے عوامل کو بڑھا سکتا ہے۔دل کے دورے کی علامات ہر شخص میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ سینے میں دباؤ یا درد، درد کا بازو، کندھے، کمر یا جبڑے تک پھیلنا، سانس پھولنا، اچانک پسینہ آنا، متلی یا غیر معمولی کمزوری اہم علامات ہو سکتی ہیں۔ایسی علامات کو صرف گیس یا بدہضمی سمجھ کر نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہارٹ اٹیک کا شبہ ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنا چاہیے۔ بروقت علاج زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

 مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت

سائنس کی نئی رفتار اور محفوظ مستقبل کا سوالمصنوعی ذہانت (AI) اب محض سوالات کے جواب دینے، تصاویر بنانے یا کمپیوٹر کوڈ لکھنے تک محدود نہیں رہی۔ یہ سائنسی تحقیقات، ادویات کی دریافت، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور خود AI کی ترقی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ جدید AI ماڈلز نہ صرف انسانوں کے ساتھ مل کر تحقیق کر رہے ہیں بلکہ ایسے مرحلے کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں جہاں وہ تجربات، کوڈنگ، مسئلہ حل کرنے اور تحقیقی کام کے بعض مراحل کو نسبتاً خودمختاری سے انجام دے سکیں گے۔سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں OpenAI کے چیف ریسرچ آفیسر مارک چن نے AI کے مستقبل، سائنسی تحقیق میں اس کے استعمال، ماڈلز کی حفاظت اور خود کو بہتر بنانے والی مصنوعی ذہانت کے امکانات پر گفتگو کی۔ ان کے خیالات اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی ایک اہم جھلک پیش کرتے ہیں۔ تحقیق کے طویل عمل کو مختصر کرنے کی کوششسائنسی تحقیق ایک طویل اور محنت طلب عمل ہے۔ کسی نئی دوا کی تیاری میں سائنسی لٹریچر کا مطالعہ، ممکنہ اہداف کی شناخت، تجربات، ڈیٹا کا تجزیہ اور متعدد مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ابتدائی تحقیق ہی میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت صرف ہو جاتا ہے۔مارک چن کے مطابق AI کا ایک اہم کردار اس عمل کو تیز کرنا ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں AI ماڈلز لٹریچر ریویو، تحقیقی پراجیکٹس اور ممکنہ اہداف کی تلاش جیسے کاموں میں انسانی محققین کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنسدان غیر ضروری ہو جائیں گے بلکہ یہ کہ انہیں معمول کے محنت طلب کاموں سے کچھ حد تک نجات مل سکتی ہے اور وہ زیادہ پیچیدہ سائنسی سوالات پر توجہ دے سکیں گے۔AIکے استعمال کا دائرہ ادویات تک محدود نہیں سیمی کنڈکٹرز کی ڈیزائننگ اور تیاری میں بھی مصنوعی ذہانت کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ریاضی بھی AI کے لیے ایک اہم میدان بن چکی ہے۔AI، افادیتکے ساتھ نگرانی بھی ضروریمصنوعی ذہانت جتنی زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے اس کی حفاظت کا سوال بھی اتنا ہی اہم ہو رہا ہے۔ AI کے بارے میں ایک بنیادی خدشہmisalignment ہے، یعنی ایسی صورت حال جس میں AI نظام کے مقاصد یا رویے انسانی اقدار اور مقاصد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔مارک چن کے مطابق AI کی حفاظت کے لیے متعدد طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں لیکن ان کے نزدیک مستقبل کے لیے ایک اہم حل monitoring ہے۔ ان کے مطابق ایک AI ماڈل دوسرے AI ماڈل کے اندرونی عمل کی نگرانی کر کے یہ شناخت کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ وہ کسی کام کو کس انداز سے انجام دے رہا ہے۔ عام طور پر AI کسی سوال کا جواب دینے سے پہلے اندرونی طور پر متعدد مراحل سے گزرتا ہے۔ جوں جوں ماڈلز زیادہ طاقتور ہوتے جائیں گے ان کے کام کی پیچیدگی اور مطلوبہ کمپیوٹنگ بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس صورت میں صرف آخری جواب کی نگرانی کافی نہیں ہوگی؛ محققین کو یہ جاننے کے نئے طریقے تلاش کرنا ہوں گے کہ ماڈل کے اندر کیا ہو رہا ہے۔یہ چیلنج AI کی ترقی کے ساتھ مزید اہم ہو سکتا ہے کیونکہ زیادہ خودمختار نظاموں میں غلطی، غیر متوقع رویے یا غلط سمت میں پیش رفت کی صورت میں بروقت نگرانی ضروری ہوگی۔خود کو بہتر بنانے والا AI AI کی ترقی کا ایک انتہائی اہم مرحلہ وہ ہو سکتا ہے جب AI ماڈلز مستقبل کے زیادہ طاقتور AI ماڈلز کی تیاری میں خود مدد کرنے لگیں۔OpenAIکی موجودہ کوششوں میں ایک تصورresearch intern کا ہے۔ اس تصور کے تحت AI ایجنٹ کو محدود اور واضح دائرہ کار میں تحقیقی کام دیا جا سکتا ہے مثلاً بنیادی تجربات کرنا، کوڈ میں خرابی تلاش کرنا یا کسی تحقیقی عمل کے مخصوص حصے کو جانچنا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ AI مستقبل میں صرف تحقیق کا معاون نہیں بلکہ تحقیق کے عملی عمل کا ایک فعال حصہ بھی بن سکتا ہے۔اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ AI خود تحقیق کرنے لگے تو اسے یہ کیسے سکھایا جائے کہ کون سا سوال اہم ہے، کون سا تجربہ وقت اور وسائل کے قابل ہے اور کون سا خیال آگے بڑھانے کے قابل نہیں؟ مستقبل کے AI کے لیےنئی صلاحیتAI تحقیق کے مستقبل کے حوالے سے مارک چن نےresearch taste کاتصور پیش کیا۔ اس سے مراد یہ سمجھنے کی صلاحیت ہے کہ کون سے خیالات قابلِ تحقیق ہیں، کون سا مسئلہ زیادہ اہم ہے اور محدود وسائل کو کس سمت میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ سائنسدان برسوں کے تجربے، علم، مشاہدے اور ناکامیوں سے یہ صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ ایک تجربہ کار محقق اکثر کسی نئے خیال کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس میں حقیقی سائنسی امکانات موجود ہیں یا نہیں۔ AI کے لیے ایسی بصیرت پیدا کرنا ایک مشکل مگر اہم مرحلہ ہوگا۔اگر مستقبل کا AI صرف تجربات چلانے کے بجائے تحقیقی سوالات منتخب کرنے، مفروضے تشکیل دینے، نتائج کا جائزہ لینے اور نئے راستے تجویز کرنے کے قابل ہو گیا تو سائنسی تحقیق کی رفتار میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔تاہم اس ترقی کے ساتھ انسانی نگرانی، شفافیت اور سائنسی اصولوں کی اہمیت کم نہیں بلکہ زیادہ ہوگی۔ AI کو سائنس کا متبادل بنانے کے بجائے ایک ایسا طاقتور آلہ بنانے کی ضرورت ہوگی جو انسانی محققین کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے۔

آج کا دن

آج کا دن

امریکی فوج کی بنیاد29 ستمبر 1789ء کو امریکی کانگریس نے ایک اہم قانون منظور کیا جس نے نئی وفاقی حکومت کے تحت امریکی فوج کے تنظیمی ڈھانچے کو قانونی بنیاد فراہم کی۔اس سے پہلے امریکی جنگِ آزادی کے دوران قائم ہونے والی کانٹی نینٹل آرمی اور مختلف ریاستی ملیشیائیں موجود تھیں لیکن نئے آئینی نظام میں فوج کے انتظام اور ذمہ داریوں کو باقاعدہ قانونی شکل دینا ضروری تھا۔ اس قانون نے موجودہ فوجی دستوں کو نئے وفاقی نظام کے تحت منظم کیا اور صدر کو فوج کے سربراہ کی حیثیت سے عملی اختیار فراہم کرنے کے نظام کو مضبوط کیا۔ یہ واقعہ امریکی ریاستی اداروں کی ابتدائی تشکیل میں اہم تھا کیونکہ اس نے قومی دفاع کو ریاستی سطح کے بجائے وفاقی ذمہ داری بنانے کی سمت میں پیش رفت کی۔لندن میٹروپولیٹن پولیس 29 ستمبر 1829ء کو برطانیہ میں لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے قیام سے جدید پیشہ ورانہ پولیس نظام کی ایک اہم بنیاد رکھی گئی۔ اس وقت لندن یورپ کے بڑے اور تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں شامل تھا اور جرائم، چوری، بدامنی اور شہری نظم و نسق کے مسائل بڑھ رہے تھے۔ وزیر داخلہ سر رابرٹ پیل کی کوششوں سے نیا پولیس نظام قائم کیا گیا۔ پولیس اہلکاروں کو باقاعدہ وردی، تنظیمی ڈھانچہ اور مخصوص علاقوں میں ذمہ داریاں دی گئیں۔ بعد میں ان اہلکاروں کو غیر رسمی طور پر بوبیز کہا جانے لگا، جو رابرٹ پیل کے نام سے نکلا ہوا لقب تھا۔ لندن کا یہ پولیس ماڈل بعد میں دنیا کے کئی شہروں کے جدید پولیس نظام کے لیے ایک مثال بنا۔ بلیک پول ٹرام سروس29 ستمبر 1885ء کو انگلینڈ کے ساحلی شہر بلیک پول میں برقی ٹرام سروس کا آغاز ہوا جسے دنیا کی ابتدائی عوامی الیکٹرک ٹرام وے شمار کیا جاتا ہے۔ اس دور میں شہری آمدورفت زیادہ تر گھوڑا گاڑیوں پر منحصر تھی۔ بجلی سے چلنے والی ٹرام ایک نئی ٹیکنالوجی تھی اور اس نے شہری نقل و حمل کے مستقبل کے امکانات تبدیل کردیے۔ بلیک پول میں شروع ہونے والے اس نظام نے یہ ثابت کیا کہ بجلی کو باقاعدہ عوامی آمدورفت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام کی کامیابی کے بعد یورپ اور شمالی امریکہ کے متعدد شہروں میں برقی ٹرام کے منصوبے شروع ہوئے۔ برقی ٹراموں کا ایک بڑا فائدہ یہ تھا کہ انہیں گھوڑوں کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اس لیے وہ بڑے شہروں میں زیادہ منظم اور وسیع پیمانے پر استعمال ہوسکتی تھیں۔ بلیک پول شہر اپنی تاریخی ٹرام سروس کے لیے مشہور ہوگیا۔سیرن کا باضابطہ قیام29 ستمبر 1954 ء کو یورپ میں بنیادی ذرات اور جوہری طبیعیات کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی ادارہ سیرن قائم ہوا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی ممالک کو یہ احساس ہوا کہ جدید سائنسی تحقیق کے لیے بڑے اور مہنگے تحقیقی منصوبوں میں مشترکہ تعاون ضروری ہے۔ امریکہ اور سوویت یونین کے مقابلے میں یورپی سائنسی برادری اپنی تحقیق کو مضبوط کرنے کے لیے ایک مشترکہ ادارہ قائم کرنا چاہتی تھی۔ اسی مقصد کے لیے مختلف یورپی ممالک نے مل کر سیرن کی بنیاد رکھی۔ یہاں سائنسدانوں نے بنیادی ذرات، مادے کی ساخت اور کائنات کے بنیادی قوانین کے بارے میں تحقیق کی۔ سیرن کی تحقیق نے جدید طبیعیات میں کئی اہم پیش رفتوں میں کردار ادا کیا۔ ڈسکوری کی تاریخی پرواز29 ستمبر 1988ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلائی شٹل ڈسکوری کو خلا میں روانہ کیا۔ یہ مشن خاص طور پر اہم تھا کیونکہ یہ 1986 کے چیلنجر حادثے کے بعد امریکی خلائی شٹل پروگرام کی پہلی انسانی پرواز تھی۔ چیلنجر کے حادثے میں 7 خلا باز ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد ناسا نے شٹل پروازیں تقریباً ڈھائی سال کے لیے روک دیں۔ اس دوران شٹل کے ڈیزائن، راکٹ بوسٹرز، حفاظتی نظام اور پرواز سے پہلے کی جانچ کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ 29 ستمبر 1988ء کو ڈسکوری کی کامیاب پرواز نے یہ ثابت کیا کہ شٹل پروگرام کو حفاظتی اصلاحات کے بعد دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔

جوؤں کی دوا، سرطان کا خطرہ؟

جوؤں کی دوا، سرطان کا خطرہ؟

سر کی جوئیں ایک عام مسئلہ ہیں، خصوصاً بچوں میں اور ان سے نجات کیلئے مختلف شیمپو، لوشن اور دیگر ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم ایک مقبول جوؤں کے علاج میں شامل کیمیکل کے حوالے سے سائنسدانوں نے ممکنہ صحت کے خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کیمیکل کی بعض خصوصیات اور ہارمونز پر اس کے ممکنہ اثرات ایسے خدشات کو جنم دیتے ہیں کہ طویل یا بار بار استعمال کی صورت میں چھاتی کے سرطان کے خطرے سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم یہ معاملہ والدین اور صارفین کیلئے ادویات کے اجزا اور محفوظ استعمال کے بارے میں محتاط رہنے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں سر کی جوؤں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی ایک مقبول دوا میں شامل کیمیکلز، جسے چھ ماہ تک کی عمر کے بچوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، چھاتی کے سرطان کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔یہ انتباہ ایک وسیع پیمانے پر کی جانے والی تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں معلوم ہوا کہ کاسمیٹکس اور خوراک کی پیکنگ میں موجود سینکڑوں کیمیکلز سے انسانی جسم کا واسطہ سرطان لاحق ہونے سے کئی سال یا حتیٰ کہ کئی دہائیاں پہلے ہی پڑنا شروع ہو سکتا ہے۔ان کیمیکلز میں ''ملا تھیون‘‘ (Malathion) بھی شامل ہے، جو سر کی جوؤں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی دواکا فعال جزو ہے۔تحقیق میں جن دیگر ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکلز کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں ''بسفینول اے‘‘ (BPA) بھی شامل ہے، جو مشروبات کے کین اور دکانوں کی خریداری کی رسیدوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح میتھائل پیرا بین (Methylparaben) بھی ان کیمیکلز میں شامل ہے، جو موئسچرائزرز، شیمپو اور ڈیوڈرنٹس میں بطور حفاظتی جزو استعمال کیا جاتا ہے۔تحقیق کی سربراہ مصنفہ جینیفر کے نے کہا کہ لوگ اپنی پوری زندگی مختلف ذرائع سے سینکڑوں کیمیکلز کے اثرات کا سامنا کرتے ہیں اور یہ اثرات وقت کے ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں۔چھاتی کا سرطان لاحق ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے زندگی کے ابتدائی مراحل میں ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکلز سے exposure کم کرنا سرطان سے بچاؤ کا ایک اہم حصہ ہے۔ تحقیق کے نتائج''انوائرمنٹل ہیلتھ پرسپیکٹیوز‘‘ (Environmental Health Perspectives) نامی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کم عمر خواتین میں چھاتی کے سرطان کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 20 سے 49 سال کی عمر کی خواتین میں چھاتی کے سرطان کے کیسز میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔نمائش کے سب سے بڑے ذرائع کا تعین کرنے کیلئے محققین نے امریکی حکومت کے ایک درجن سے زائد ڈیٹا بیسز کا تجزیہ کیا، جن میں کیمیکلز کے استعمال، آلودگی کی سطح اور انسانی جسم کو ان کیمیکلز سے لاحق ہونے والی نمائش سے متعلق معلومات شامل تھیں۔ محققین نے 900 سے زائد ایسے کیمیکلز پر توجہ مرکوز کی جنہیں پہلے ہی ممکنہ طور پر چھاتی کے سرطان سے منسلک قرار دیا جا چکا ہے۔ ان میں ایسے مادے بھی شامل تھے جو ہارمونز کے نظام میں خلل ڈال سکتے ہیں یا جانوروں میں چھاتی کے غدود کی رسولیاں پیدا کرنے کا سبب بننے کے شواہد رکھتے ہیں۔تحقیق میں معلوم ہوا کہ ان میں سے سینکڑوں کیمیکلز اب بھی روزمرہ استعمال کی اشیا میں شامل ہیں، جن میں تعمیراتی سامان اور طبی آلات بھی شامل ہیں۔ ان کیمیکلز میں بینزین (Benzene) بھی شامل ہے، جس کا انسانوں کو عموماً گاڑیوں کے دھوئیں اور سگریٹ کے دھوئیں کے ذریعے سامنا ہوتا ہے۔ اسی طرح اسٹائرین (Styrene) بھی شامل ہے، جو بعض ٹیک اوے کافی کے کپوں اور کھانے کے ڈبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ محققین نے بسفینول اے (BPA) کی بھی نشاندہی کی، جو بعض دوبارہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کے کھانے کے برتنوں، مشروبات کے کین کی اندرونی تہہ اور خریداری کی رسیدوں میں استعمال ہوتا ہے۔ برطانیہ میں اس خدشے کے پیش نظر کہ یہ کیمیکل بوتل کے مواد میں شامل ہو سکتا ہے، 2011ء میں بچوں کی دودھ کی بوتلوں میں BPA کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔یورپی کمیشن نے دسمبر 2024ء میں مزید سخت اقدام کرتے ہوئے خوراک کے ساتھ براہِ راست رابطے میں آنے والے مواد میں BPA کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔ تاہم برطانیہ نے تاحال اس کی پیروی نہیں کی۔محققین نے DEHP نامی کیمیکل کی بھی نشاندہی کی، جو پلاسٹک کو نرم بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے اور اب بھی بعض طبی آلات میں پایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ میتھائل پیرا بین (Methylparaben) بھی قابلِ توجہ قرار دیا گیا، جو موئسچرائزرز، شیمپو اور ڈیوڈرنٹس کی مدتِ استعمال بڑھانے کیلئے بطور حفاظتی مادہ استعمال کیا جاتا ہے۔پیرا بینز جسم میں ایسٹروجن کے اثرات کی نقل کر سکتے ہیں، جو اس لیے اہم بات ہے کہ یہ ہارمون چھاتی کے سرطان کی بعض اقسام کے خلیوں کی افزائش کو تحریک دے سکتا ہے۔تاہم، تحقیق میں جن بعض کیڑے مار ادویات (Pesticides) کی نشاندہی کی گئی ہے، انہیں کئی ممالک میں زرعی استعمال کیلئے منظوری حاصل نہیں ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج ممکنہ طور پر ضابطہ سازی میں موجود ایک ''نظر انداز کیے گئے پہلو‘‘ کو سامنے لاتے ہیں، کیونکہ حفاظتی جائزوں میں اکثر کیمیکلز کو الگ الگ دیکھا جاتا ہے، جبکہ روزمرہ زندگی میں لوگوں کو ایک ہی وقت میں مختلف کیمیکلز کے مرکب کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر کے نے کہا کہ چھاتی کا سرطان لاحق ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے مختلف ذرائع سے لوگوں کے کیڑے مار ادویات کے اثرات کا سراغ لگانا اور انہیں کم کرنا سرطان سے بچاؤ کا ایک اہم حصہ ہے۔چھاتی کے سرطان کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے، اور اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جن کیمیکلز کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے کسی ایک کے اثرات سے لازماً چھاتی کا سرطان لاحق ہو جائے گا۔ تاہم، کئی ایسے عوامل پہلے ہی معلوم ہیں جو اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں، جن میں عمر بڑھنا اور خاندان میں اس بیماری کی موجودگی شامل ہیں۔اس کے علاوہ شراب نوشی، تمباکو نوشی، زیادہ وزن، چھاتی کے بافتوں کا زیادہ کثیف ہونا، بشمول ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی کے ذریعے ہارمونز کا استعمال، بھی چھاتی کے سرطان کے خطرے سے منسلک ہیں۔

حساب سے باہر

حساب سے باہر

ہم نے اپنے عہد میں ہر چیز کا حساب سیکھ لیا ہے؛ سوائے اس قیمت کے جو حساب رکھنے کی عادت ہم سے وصول کرتی ہے۔روپے کا مصرف پوچھا جاتا ہے، عمر کا نہیں۔ کاروبار میں ڈوبی ہوئی رقم مدتوں یاد رہتی ہے، کاروبار بچاتے ہوئے جو آدمی اپنے اندر ڈوب گیا، اس کا ذکر کسی گوشوارے میں نہیں آتا۔ بازار کی مندی پر ہمیں تشویش ہوتی ہے، اپنی طبیعت کی مندی کو ہم مصروفیت کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔رفتہ رفتہ مصروفیت اتنی معتبر ہو جاتی ہے کہ اس کے سامنے ہر شکایت بے محل معلوم ہونے لگتی ہے۔باپ کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر بیٹے کی میٹنگ ہے۔ بچہ اپنی ڈرائنگ دکھانا چاہتا ہے، مگر باپ فون پر ہے۔ بیوی کئی دن سے ایک بات مناسب وقت کے انتظار میں رکھے ہوئے ہے۔ گھر میں سب کے پاس گھڑیاں ہیں مناسب وقت کسی کے پاس نہیں۔اور جس شخص کے پاس وقت نہیں، وہ یہ سب کچھ انہی لوگوں کیلئے کر رہا ہے۔''میں تمہارے لیے ہی تو کما رہا ہوں‘‘۔اس جملے کے بعد گھر میں بہت سی باتیں کہی نہیں جا سکتیں۔ روٹی کی ضرورت اپنی جگہ قائم رہتی ہے، مگر ساتھ بیٹھ کر کھانے کی خواہش شرمندہ ہو جاتی ہے۔رزق کی مشقت کا انکار کون کرے؟ فیس کی آخری تاریخ فلسفہ نہیں سنتی۔ دوا فروش کو مریض سے محبت کا یقین دلا کر دوا نہیں لی جا سکتی۔ تنگ دستی میں آدمی کی نیند ہی نہیں، بعض اوقات اس کا لہجہ بھی گروی ہو جاتا ہے۔ اس لیے آسودہ کرسی پر بیٹھ کر تھکے ہوئے آدمی کو قناعت کا درس دینا آسان ہے، اس کے مہینے کے آخری چار دن گزارنا مشکل۔مگر کمائی کی اس ناگزیریت میں ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے: ضرورت پوری ہونے کے بعد بھی ضرورت کا لہجہ کیوں باقی رہتا ہے؟ہم میں سے بعض لوگ مدت ہوئی محتاجی سے نکل آئے، مگر محرومی سے نہیں نکلے۔ اب انہیں روٹی کی کمی نہیں ستاتی، یہ بات ستاتی ہے کہ دوسرے کی میز پر کیا رکھا ہے۔ وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں، لیکن اپنی آسودگی کا پتہ پڑوسی سے پوچھتے ہیں۔حساب کی ایک اور باریکی ہے۔ آدمی جب دینے لگتا ہے تو کبھی کبھی اس کے اندر ایک نادیدہ منشی بیٹھ جاتا ہے۔ وہ رقم ہی نہیں لکھتا، لہجے بھی درج کرتا ہے۔ کس نے کتنا شکریہ ادا کیا، کس نے کتنی بار فون کیا، کس نے محفل میں ہمارا ذکر کس انداز سے کیا۔محبت کے حساب میں اکثر خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم اپنی قربانی کو دوسرے کی اطاعت کی دلیل بنا لیتے ہیں۔ پھر محبوب کی الگ رائے بے وفائی معلوم ہوتی ہے اور اولاد کا اپنا راستہ ناشکری۔ ہم رشتے کو بچانے نکلتے ہیں، مگر راستے میں اس کی گنجائش چھین لیتے ہیں۔اپنا حساب دیکھنے کے لیے صرف یادداشت کافی نہیں؛ انصاف بھی چاہیے۔ ورنہ ہمیں اپنی دی ہوئی رقم تو یاد رہے گی، دوسرے کی بچائی ہوئی عزت نہیں۔ اپنا انتظار یاد رہے گا، کسی اور کی وہ خاموشی نہیں جس نے ہماری بات کا پردہ رکھا تھا۔

پینانگ برج

پینانگ برج

سمندر پر انجینئرنگ کا شاہکارملائیشیا کے جزیرے پینانگ کو ملک کے مغربی ساحلی علاقے سے ملانے والا پینانگ برج محض ایک پل نہیں بلکہ جدید انجینئرنگ، معاشی ترقی اور انسانی عزم کی ایک شاندار علامت ہے۔ آبنائے پینانگ کے نیلگوں پانیوں پر پھیلا یہ پل جزیرہ پینانگ کے شہر جیلگور کو آبنائے کے دوسری جانب واقع پرائی سے ملاتا ہے۔ تقریباً 13.5 کلومیٹر طویل یہ پل اپنے قیام کے وقت ایک غیر معمولی انجینئرنگ منصوبہ تھا۔ پینانگ جزیرہ طویل عرصے تک ملائیشیا کے مرکزی علاقے سے بنیادی طور پر کشتیوں اور فیری سروس کے ذریعے منسلک تھا۔ آبادی میں اضافے، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور تجارت کے بڑھتے ہوئے حجم نے ایک مستقل زمینی رابطے کی ضرورت پیدا کی۔ 1970ء کی دہائی میں جزیرے کو سرزمین سے ملانے کیلئے پل کی تعمیر کا تصور سنجیدگی سے آگے بڑھایا گیا۔بالآخر 1982ء میں پل کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تقریباً ساڑھے تین سال کی محنت کے بعد یہ عظیم منصوبہ مکمل ہوا اور 14 ستمبر 1985ء کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ تعمیر پر اس وقت تقریباً 800 ملین ملائیشین رنگٹ خرچ ہوئے۔ 13.5 کلومیٹر طویل شاہکارپینانگ برج کی مجموعی لمبائی تقریباً 13.5 کلومیٹر ہے، جس میں تقریباً 8.4 کلومیٹر حصہ پانی کے اوپر قائم ہے۔ پل کا مرکزی حصہ کیبل اسٹیڈ ڈیزائن پر مشتمل ہے، جس میں مضبوط ٹاورز اور کیبلز پل کے مرکزی حصے کو سہارا دیتے ہیں۔ اس کا مرکزی اسپین تقریباً 225 میٹر ہے جبکہ پل کے نیچے پانی کی سطح سے مناسب بلندی رکھی گئی ہے تاکہ بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر نہ ہو۔ اس پل کا ڈیزائن اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اسے مستقبل میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے مطابق وسیع کرنے کی گنجائش کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔ ابتدائی دور میں پل کے مختلف حصوں پر لینز کی تعداد کم تھی، تاہم بعد میں اسے وسیع کیا گیا اور پل کو چھ لینز پر مشتمل بنا دیا گیا۔ ترقی کی نئی راہیںپینانگ برج نے جزیرے اور زمین کے درمیان سفر کو نمایاں طور پر آسان بنایا۔ اس سے پہلے فیری سروس پر انحصار کرنے والے مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کو اب ایک مستقل اور تیز رفتار راستہ میسر آ گیا۔ پل کے ذریعے پینانگ کے صنعتی علاقوں، شہری مراکز، بندرگاہوں اور دیگر تجارتی مقامات کے درمیان رابطہ مضبوط ہوا۔ ماہرین کے مطابق اس پل نے پینانگ کی صنعتی اور سیاحتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بڑھتی ہوئی ٹریفک اور توسیعوقت گزرنے کے ساتھ پینانگ برج پر گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا۔ پل کی تعمیر کے وقت جس ٹریفک کا اندازہ لگایا گیا تھا، بعد کے برسوں میں اس سے کہیں زیادہ گاڑیاں اس راستے کو استعمال کرنے لگیں۔ نتیجتاً پل کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔2008ء کے دوران پل کو وسیع کرنے کا کام شروع کیا گیا اور 2009ء تک اسے مکمل کر لیا گیا۔ اس توسیع کے بعد پل پر ہر سمت تین لینز فراہم کی گئیں، جس سے ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔دوسرے پینانگ برج کی ضرورتپینانگ کی معاشی سرگرمیوں میں اضافے اور پہلے پل پر ٹریفک کے دباؤ کے باعث بعد میں ایک دوسرے پل کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا۔ سلطان عبدالحلیم معظم شاہ برج کے نام سے دوسرا پینانگ برج 24 کلومیٹر طویل ہے اور اس کا بڑا حصہ سمندر کے اوپر واقع ہے۔ اسے 2014ء میں کھولا گیا۔ اس نئے پل کا بنیادی مقصد پہلے پینانگ برج پر ٹریفک کا دباؤ کم کرناتھا۔ سیاحت اور خوبصورتی کا مرکزپینانگ برج صرف مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کیلئے اہم راستہ نہیں بلکہ سیاحوں کیلئے بھی ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ دن کے وقت سمندر کے نیلے پانی، دور تک پھیلا پل اور پس منظر میں پینانگ جزیرے کا منظر ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے، جبکہ رات کے وقت روشنیوں سے سجا پل مزید دلکش دکھائی دیتا ہے۔یہ پل پینانگ کے پوسٹ کارڈز، سیاحتی تصاویر اور مختلف تشہیری مواد میں نمایاں نظر آتا ہے۔انجینئرنگ کی کامیابیپینانگ برج کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے اپنے دور میں ایک نمایاں انجینئرنگ کامیابی قرار دیا گیا۔ ملائیشیا کے تعمیراتی شعبے کیلئے بھی یہ منصوبہ ایک اہم تجربہ ثابت ہوا۔آج پینانگ برج کو محض ایک سڑک یا شاہراہ کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ یہ انسانی عزم، جدید انجینئرنگ اور معاشی ترقی کے باہمی تعلق کی علامت بن چکا ہے۔ سمندر کے سینے پر پھیلا یہ پل اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ترقی کا وژن، انجینئرنگ کی مہارت اور قومی ضرورت ایک جگہ جمع ہو جائیں تو ایک ایسا شاہکار وجود میں آتا ہے جو کئی دہائیوں تک آنے والی نسلوں کیلئے راستے کھولتا رہتا ہے۔پینانگ برج کی تعمیراتی تفصیل1970ء سیبیرانگ پِرائی کو پینانگ جزیرے سے ملانے والے پل کی تعمیر کا خیال وزیراعظم عبدالرزاق حسین اور پینانگ کے وزیراعلیٰ لم چونگ یو نے پیش کیا۔23جولائی 1971ءوزیر تعمیرات سامی ویلو نے اعلان کیا کہ پینانگ برج کی تعمیر سان فرانسسکو کے گولڈن گیٹ برج کے طرز پر اسٹیل کے بجائے کیبلز سے منسلک کنکریٹ گرڈرز کے ذریعے کی جائے گی نہ کہ سڈنی ہاربر برج کے انداز میں بنائے جانے والے اسٹیل کے محرابی ڈھانچے کی طرز پر۔ وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنی پہلی کابینہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس منصوبے کیلئے ایک ٹھیکیدار کا انتخاب کرلیا ہے، تاہم انہوں نے ٹھیکیدار کا نام بتانے سے گریز کیا۔1982ءپینانگ برج کی تعمیر کا باضابطہ آغاز ہوا۔3اگست1985ءوزیراعظم مہاتیر محمد نے پینانگ برج کا باضابطہ افتتاح کیا۔14ستمبر1985ءپینانگ برج کو باضابطہ طور پر ٹریفک کے لیے کھولا گیا۔