"AIZ" (space) message & send to 7575

غزہ مارچ

کتاب و سنت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اہلِ دین ایک جسدِ واحد کی مانند ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 10 میں ارشاد فرمایا: ''(یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں‘‘۔ اسی طرح احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مسلمان جسدِ واحد کی مانند ہیں۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودت اور باہمی ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے‘ بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے‘‘۔ اسی حقیقت کو مولانا ظفرعلی خانؒ نے کچھ یوں بیان فرمایا:
اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پیر و جواں بے تاب ہو جائے
مسلمان دوسرے مسلمان کی اعانت اور نصرت کے لیے جب تک مستعد رہتا ہے، اُس وقت تک کسی گروہ کو مسلمانوں کے بارے میں منفی عزائم رکھنے کا موقع نہیں ملتا لیکن جس وقت مسلمان اس جذبۂ اخوت کو فراموش کر دیتے ہیں تو اغیار کو اُن پر ظلم و تشدد کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ آج دنیا کے بہت سے مقامات پر مسلمان مظلومیت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے نوجوان، بچے، بوڑھے اور خواتین ایک عرصے سے بھارتی ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بسنے والے مسلمان ان کے درد کو اس طرح محسوس نہیں کرتے جس طرح شریعت نے ان کا درد محسوس کرنے کا حکم دیا ہے۔ برما (میانمار) میں بھی مسلمان ہر اعتبار سے مظلوم و مقہور نظر آتے ہیں اور دیگر مسلمانوں کی مدد سے بھی محروم نظر آتے ہیں حالانکہ مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی معاونت کے لیے اپنی توانائیوں اور وسائل کو بروئے کار لائیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ گفتگو میں اعتدال کو پسند کرتے ہیں اور ناروا گفتگو کو کسی بھی طور پر پسند نہیں فرماتے لیکن اگر کوئی شخص مظلوم ہو اور وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے وقت کچھ تلخ الفاظ استعمال کرے تو شریعت اُس پر مواخذہ نہیں کرتی۔ سورۃ النساء کی آیت نمبر 148 میں ارشاد ہوا: ''اللہ نہیں پسند کرتا اعلانیہ بری بات کہنا مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو‘‘۔ نبی کریمﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ بے بسوں، محروموں، محتاجوں اور مظلوموں کے کام آنے میں صرف ہوئی۔ جب نبی کریمﷺ پر پہلی وحی کا نزول ہوا تو سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا: ''خدا کی قسم! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ اخلاقِ فاضلہ کے مالک ہیں، کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بے مثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امرِ حق کا ساتھ دیتے ہیں‘‘۔
قرآنِ مجید کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو ظلم سے نفرت ہے اور وہ ظالموں کو ناپسند فرماتے ہیں‘ اور ظالموں کو ہدایت بھی نہیں دیتے۔ چنانچہ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 57 میں ارشاد ہوا: ''اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ظالموں کو‘‘۔ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 86 میں ارشاد ہوا: ''اور اللہ نہیں راہِ راست پر لاتا ناانصاف قوم کو‘‘۔ اہلِ ایمان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ ظلم سے نفرت کرتے ہیں، اللہ کی مخلوق کو بھی ظلم سے نفرت کرنی چاہیے اور ہر حالت میں اپنے مظلوم بھائیوں کے کام آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے احادیث مبارکہ میں بہت خوبصورت اور جامع راہ نمائی موجود ہے۔
1۔ صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ ہمیں نبی کریمﷺ نے سات کاموں کا حکم دیا اور سات کاموں سے روکا۔ آپﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا؛ جنازہ کے ساتھ چلنے، مریض کی مزاج پرسی کرنے، دعوت قبول کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، قسم پوری کرنے، سلام کا جواب دینے اور چھینک پر ''یرحمک اللہ‘‘ کہنے کا۔ اور آپﷺ نے ہمیں منع کیا تھا؛ چاندی کے برتن (استعمال میں لانے) سے، سونے کی انگوٹھی پہننے سے، ریشم اور دیباج (کے کپڑے پہننے) سے، ریشمی گدے سے، قسی (ریشم کی ایک قسم) سے، استبرق (موٹے ریشم) سے۔
2۔ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو (یہی اس کی مدد ہے)۔
حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مظلوموں کی حمایت میں کمربستہ رہا کرتے تھے، خصوصاً خلفائے راشدین نے اس حوالے سے مثالی کردار ادا کیا۔ سیدنا فاروق اعظمؓ اپنے عُمال اور ریاستی اہلکاروں کو رعایا پر ظلم سے بچنے کی سخت تلقین فرمایا کرتے تھے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری کی ایک اہم حدیث درج ذیل ہے۔ ''حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہنی نامی اپنے ایک غلام کو (سرکاری) چراگاہ کا حاکم بنایا تو اسے یہ ہدایت کی: اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا (ان پر ظلم نہ کرنا) اور مظلوم کی بددعا سے ہر وقت بچتے رہنا کیونکہ مظلوم کی دعا (ضرور) قبول ہوتی ہے۔ اور ہاں ابن عوف اور ابن عفان اور ان جیسے (امیر صحابہ) کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہئے۔ (یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انہیں مقدم نہ رکھنا) کیونکہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہو جائیں گے تو یہ رؤسا اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنا معاش حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اونٹوں اور گنی چنی بکریوں کا (غریب) مالک کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہو گئے‘ تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آئے گا اور فریاد کرے گا: یا امیر المؤمنین! یا امیر المؤمنین! تو کیا میں انہیں چھوڑ دوں گا؟ اس لیے (پہلے ہی سے) ان کے لیے چارے اور پانی کا انتظام کر دینا میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کے لیے سونے چاندی کا انتظام کروں‘‘۔
نبی کریمﷺ اور حضراتِ صحابہ کرامؓ کے طرزِ عمل پہ چلتے ہوئے ہمیں بھی نصرت اور اعانتِ مظلومین کے لیے ہمہ وقت کمربستہ رہنا چاہیے لیکن مسلمانوں کی بے حسی کی وجہ سے مسلمانوں پر ظلم میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ایام میں خصوصیت سے غزہ اور اس کے گرد رہنے والے مظلوم مسلمان ظلم و ستم کو جس انداز میں سہہ رہے ہیں، اس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ معصوم بچوں کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا یہاں تلک کہ مریضوں پر بھی مسلسل گولہ و بارود پھینکا جا رہا ہے۔ فلسطین کے مظلوم مسلمان دنیائے اسلام کے حکمرانوں کو اپنی مدد کے لیے پکارتے نظر آتے ہیں لیکن مسلم حکمران اس حوالے سے کوئی راست اقدام کرتے نظر نہیں آ رہے۔ کسی قدر اطمینان کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک میں مسلمانوں کی تنظیمیں اور انجمنیں اپنا اپنا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں جس کی وجہسے مسلم امت کی زندگی کا احساس ہوتا ہے۔
19 نومبر کو ''غزہ مارچ ‘‘ کے نام سے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام لاہور میں ایک بڑے پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس سے کلیدی خطاب جناب سراج الحق نے کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اگر مسلم حکمران اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں توکشمیر بھارت سے اور فلسطین اسرائیل کی قید سے آزاد ہو سکتے ہیں لیکن بین الاقوامی سامراجیت کا بیانیہ کچھ اس انداز میں مسلم حکمرانوں پر مسلط ہو چکا ہے کہ وہ کوئی نمایاں کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اس اجتماع سے جناب سراج الحق کے علاوہ لیاقت بلوچ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اور جاوید قصوری نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر مجھے بھی اپنی آرا کو سامعین کے سامنے رکھنے کا موقع ملا جنہیں میں مختصراً اپنے قارئین کے سامنے بھی رکھنا چاہتا ہوں۔
دنیا میں جب بھی کبھی مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہوئے، مسلم عمائدین نے ا س ظلم وستم کے خاتمے کے لیے نمایا ں کردار ادا کیا۔ برصغیر میں محمد بن قاسمؒ نے فقط ایک مظلوم مسلمان بہن کی معاونت کے لیے پیش قدمی کی تھی جس کے نتیجے میں اسلام برصغیر میں داخل ہوا۔ دنیا کے بہت سے دیگر مقامات پر بھی مسلما ن جرنیلوں کی پیش قدمی کی وجہ سے اسلام کو فروغ حاصل ہوا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے بیت المقدس کو پنجۂ صلیب سے آزاد کرایا اور صلاح الدین ایوبیؒ نے دوسری مرتبہ بیت المقدس کی بازیابی کے لیے مسلمانوں کو بیدار کیا۔ مسلم حکمرانوں کو اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی حمایت اور نصرت کے لیے اعلانِ جہاد کرنا چاہیے۔ یہ بات درست ہے کہ جہاد کا اعلان کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن علمائے دین اور مذہبی جماعتوں کو ریاست کے ذمہ داران کو اس حوالے سے احساس دلانے کے لیے اپنی آوازوں کو بلند کرنا ہو گا۔
اس مارچ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، مقررین کی تقریروں کی بھرپور انداز میں تائید کی اور اہلِ فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اپنے جذبات کا بھرپور انداز میں اظہار کیا۔ اس اجتماع کے توسط سے حکمرانانِ وقت اور بین الاقوامی اداروں کو پیغام پہنچا کہ گو آج کا مسلمان مادیت کی لپیٹ میں آ چکا ہے لیکن اس کے باوجود دردِ دل رکھنے والے لوگ تاحال موجود ہیں جو اپنے فلسطینی بھائیوں کی عیادت، ان کو مالی وسائل کی فراہمی اور ان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کے لیے آمادہ و تیار ہیں۔
یہ اجتماع اپنے جلو میں بہت سی خوبصورت یادوں کو لیے ہوئے اختتام پذیر ہوا اور اہلِ فلسطین کے ساتھ پاکستانی قوم نے اظہارِ یکجہتی کر کے اس بات کو ثابت کردیا کہ آج بھی مسلمان دنیا کے کسی بھی مقام پر رہنے والے مسلمان کے درد کو محسوس کر کے بے قرار ہو جاتا ہے۔ اے کاش! مسلم حکمران بھی عوام کے جذبات کی صحیح طور پر ترجمانی کریں۔ اگر مسلم حکمران عوام کے جذبات کی درست ترجمانی کریں تو دنیا بھر میں ہونے والے ظلم و ستم کا راستہ روکا جا سکتا ہے اور امتِ مسلمہ پاتال کی گہرائیوں سے باہر نکل کر دوبارہ ثریا کی بلندیوں تک جا سکتی ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو مظلوموں کی معاونت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور غزہ میں بسنے والے ہمارے مظلوم مسلمان بھائیوں کو پنجۂ یہود سے آزادی و رہائی نصیب فرمائے، آمین!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں