نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لندن:گورنرپنجاب چودھری محمد سرور کی پریس کانفرنس
  • بریکنگ :- گورنربننےکی خواہش نہیں تھی،پارٹی نےعہدہ دیا،چودھری محمد سرور
  • بریکنگ :- آپ کوسائیڈلائن کیاگیا؟صحافی،مجھےبعدمیں پتہ چلا،چودھری سرورکاجواب
  • بریکنگ :- لندن:کام کاعہدہ دیاجاتاتوڈلیورکرسکتاتھا،گورنرپنجاب چودھری سرور
  • بریکنگ :- اپنےدائرہ اختیارمیں آنیوالےکام خوش اسلوبی سےکرنےکی کوشش کررہاہوں،گورنر
  • بریکنگ :- ملک کابوسیدہ نظام عوامی مسائل حل کرنےسےقاصرہے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس اورعدلیہ میں اصلاحات لانےمیں ناکام رہے، گورنر چودھری سرور
  • بریکنگ :- پولیس،عدلیہ اورپراسیکیوشن میں بڑےپیمانےپراصلاحات کی ضرورت ہے،گورنرپنجاب
  • بریکنگ :- پاکستان کاالمیہ ہےشخصیات کےپیچھےبھاگتےرہے،ادارےمضبوط نہیں کیے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- ن لیگ کےدورمیں شروع ہونےوالاادارہ اوورسیزپنجاب کمیشن اچھاکام کررہا ہے،گورنر
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

سول سروسز ریفارمز

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر سول سروسز ریفارمز کی خاطر سٹیٹ بینک کے سابق گورنر عشرت حسین کی سربراہی میں فیڈرل ٹاسک فورس قائم کردی‘جس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS)کے افسران کے علاوہ دیگر شعبوں کے ماہرین بھی شامل ہیں‘ لیکن اصلاحاتی کمیٹی میں پروونشل مینجمنٹ سروس (PMS)کو نمائندگی نہ دینے کے خلاف پچھلے ایک ماہ سے چاروں صوبوں میں پی ایم ایس افسران کا احتجاج جاری ہے‘جسے نہایت بے رحمی سے نظرانداز کر دیا گیا۔ آزادی کے فوری بعد ہی ملک کے سیاسی نظام میں اصلاحات کی شوق نے قومی منظرنامہ پہ سینکڑوں گل کھلائے‘سسٹم کی تدوین نو کے دوران بلواسطہ ووٹ کے ذریعے پہلے صدراتی پھر نیم پارلیمانی اور بالآخر عام انتخابات کے ذریعے پارلیمانی نظام حکومت کی تشکیل جیسے تجربات کر کے ابتدائی پچیس سالوں میں آدھا ملک گنوا دیا‘مگر افسوس کہ اصلاحات کی بیل پھر بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔ذوالفقار علی بھٹو کی پارلیمانی جمہوریت میں سول سروس ریفارمز کے تحت اعلیٰ و ادنیٰ سرکاری اہلکاروں کے اختیارات کم کر کے انتظامی اتھارٹی کمزور کر دی گئی۔مسٹر بھٹو کی ناکام زرعی اصلاحات نے بھی بڑی جاگیرداریوں کو ریگولیٹ کرنے کی بجائے ہاریوں اور کسانوںکی کمر توڑ ڈالی۔ضیا الحق کے دور میں غیرجماعتی انتخابات کے ذریعے سیاسی تصورات میں دراڑیں ڈالی گئیں۔اپنے دوسرے عہد حکمرانی میں نواز شریف نے بھی مجسٹر یٹی نظام کو ختم کر کے ضلعی سطح کے انتظامی ڈھانچہ پہ ڈپٹی کمشنر کی گرفت کمزورکر دی ‘لیکن جنرل مشرف کے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے فارمولہ نے تو دو صدیوں سے قائم سول سروس کے مضبوط سسٹم کو منہدم کر کے انتظامی ڈھانچہ کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی‘جس کے بعد قوم ایسی دلدل میں پھنسی‘ جس سے نکلنے کی کوشش تاحال بارآور ہوتی نظر نہیں آتی؛اگر ہم برصغیر کے ریاستی ارتقا پہ نظر دوڑائیں ‘تو 1757ء میں انگریز نے بنگال میں ریونیو اکھٹا کرنے کی خاطر جب ڈپٹی کلکٹر کا عہدہ تخلیق کیا تو اسے ٹیکس وصول کرنے کا صرف ایک اختیار ملا۔ ٹیکس وصولی میں رکاوٹیں پیش آئیں تو ڈپٹی کلکٹر کو ٹیکس نادہندہ کو گرفتار کرنے کا دوسرا اختیار تفویض کیا گیا۔نادہندہ کی گرفتاری کے بعد اسے ٹھکانے لگانے کا مسلہ درپیش ہوا تو ڈپٹی کلکٹر کو پہلے تیس پھر ساٹھ اور آخرکار90 دن تک ملزم کو جوڈیشل لاک اَپ میں رکھنے کا تیسرا‘چوتھا اور پانچواں اختیار دیا گیا۔یوں 1857 ء تک پورے 100 سال میں ڈپٹی کلکٹر ڈپٹی کمشنر بنا اور اسے ریونیو‘مجسٹریل اور انتظامی امور کی بجاآوری کی خاطر کم و بیش 113 اختیار دے کر طاقتور انتظامی اتھارٹی بنا دیا گیا۔بالکل اسی طرح انگریز نے انہی 100 سال میں ورکس اینڈ سرویز‘آبپاشی‘ریلوے‘پوسٹل سروسز‘عدالتی اور پولیس نظام کی بتدریج تدوین مقامی لوگوں کی نفسیات وعلاقائی ضرویات اور ہندوستانی تہذیب و تمدن کے پیش نظر رکھ کے ممکن بنائی‘ایک صدی پہ محیط وسیع تجربات کے ذریعے منظم ریاستی ڈھانچہ کی تشکیل کے بعد ہی 1857 ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے اقتدار ملکہ برطانیہ کو منتقل کر دیا گیا‘لیکن آزادی کے بعد ہم نے ماضی کو فراموش کرنے کی خاطر ایک منظم ریاستی نظام کو استوار رکھنے کی بجائے وقتی ضرورتوں اور شخصی اقتدار کے تقاضوں کیلئے نظام ہائے مملکت میں ایسی غیرفطری اور متضاد تبدیلیوں کی روایت ڈالی‘ جو بالآخر ذہنی انتشار اور بے یقینی پہ منتج ہوئی۔ماضی کی اس کے سوا کوئی اہمیت نہیں کہ وہ زندہ لوگوں کے کردار اور مقاصد کو متاثر کرتا ہے اور تاریخ کی اس کے سوا کوئی اہمیت نہیں کہ وہ ہمارے حال کو درخشاں اور مستقبل کی راہوں کو روشن بناتی ہے‘بدقسمتی سے ہم نے ماضی سے اثر لیا نہ تاریخ سے سبق سیکھنے کی کوشش کی۔جنرل مشرف کے دور میں نتائج کی پروا کئے بغیر دو سو سال کے تجربات پہ محیط ضلعی سطح کے انتظامی ڈھانچہ کو بیک جنبش قلم ختم کرکے ایسا خلا پیدا کیا‘ جسے پُر کرنے کا کوئی متبادل ہمارے پاس موجود نہیں تھا۔صدیوں کے تجربات پہ محمول انتظامی بندوبست کی جگہ جنرل ریٹائرڈ تنویر نقوی‘آئی جی پی ریٹائرڈ افضل شگری اور دانیال عزیز کی چند ماہ کی مساعی سے مدون کیا گیا‘ شہری حکومتوں کا خیالی نظام ایسی جگتا پزل ثابت ہوا‘ جسے آزمانہ تو کجا‘سمجھنے سمجھانے کی سکت بھی کسی میں نہ تھی۔تھوڑے ہی عرصہ میں شہری حکومتوں کے نئے نظام نے طوائف الملوکی کی شکل اختیار کر کے مملکت پہ قانونی روایات کی نفسیاتی گرفت ڈھیلی کر دی۔اس نئے نظام سے قبل ڈسٹرکٹ میں رونما ہونے والے کسی بھی واقعہ کو مینج کرنے کی آخری ذمہ داری ڈپٹی کمشنر کی ہوا کرتی تھی‘وہی تمام سرکاری املاک کا کسٹوڈین اور ہر سماجی اور انتظامی اونچ نیچ کا نگہبان تھا‘لیکن حیرت انگیز طور پہ اختیارت کی نچلی سطح تک منتقلی کے نظام نے ایسی الٹی گنگا بہائی کے ڈپٹی کمشنر کا انسٹیٹیوشن ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ڈی سی کے کچھ اختیار پولیس کو اور باقی ہوم ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کرنا پڑے۔ ڈی سی کا متبادل بننے والے ضلع ناظم اور ڈی سی او تہی دست بن کے بے بسی کی تصویر نظر آئے۔اب عوام کو سرکاری محکموں کے اہلکاروں کی من مانیوں اورپولیس فورس کے ناروا سلوک سے تحفظ دینے والا کوئی نہیں بچا‘نت نئے تجربات نے ملک کی اعلیٰ ترین بیوروکریسی کو متروک پرزے کی طرح بیکار بنا ڈالا۔اب کبریائی صلاحیتوں کے مالک ڈی ایم جی افیسرز اجڑے ہوئے دیوتا کی طرح اپنی بے کسی پہ ماتم کناں نظر آتے ہیں۔ماضی میں ڈی سی کو فیس آف دی گورنمنٹ سمجھا جاتا تھا؛ چنانچہ ڈی سی کی تدفین کے بعد ضلعی سطح پہ سرکاری املاک لاوارث اور حکومت کا چہرہ مفقود ہو گیا؛حتیٰ کہ نئے نظام کی بھول بھلیوں میںسروسز فراہم کرنے والے سرکاری محکموں کے دائرہ عمل اور اختیارات کی حدودو قیود غیرمتعین ہو گئیں۔ ماضی کی دفتری روایت معدوم اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ختم ہوتی گئی۔ روز مرہ کے امور نمٹانے کے قوانین میں باہمی ربط باقی نہیں رہا‘ سرکاری اہلکار خوردبینوں کے ذریعے اپنے دائرہ عمل اور اختیارات کی حدود تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں‘ لیکن کسی کو درست راہ عمل سجھائی نہیں دیتی؛چنانچہ ہر ادارے نے قواعد و ضوابط کی قبا اتارکے خود کو حالات کے دھارے کے حوالے کر دیا۔جنرل مشرف کی آمریت کے بعد آنے والی منتخب حکومتیں اب سرتوڑ کوشش کے باوجود بھی سرکاری نظام میں وہ توازن واپس نہیں لا سکتیں‘ جو ہمارے سسٹم میں 1970ء کی دہائیوں میں قائم تھا‘کیونکہ فطری طور پہ پروان چڑھنے والا تقسیم اختیارات کا فارمولا بکھر گیا۔اب پارلیمنٹ‘حکومت اور بیورکریسی پیچھے پلٹ سکتی ہیں‘ نہ آگے بڑھنے کی ہمت رکھتی ہیں۔جب پولیس اور جوڈیشری سمیت اردگرد کی ساری قوتیں اختیارات کی دوبارہ تقسیم کی راہ میں حائل ہوںگی‘ تو اصلاحات کیسے ممکن ہو سکتی ہیں‘اگر اصلاحات ممکن ہی نہیں تو پھر سول سروسز ریفارمز کمیٹی کی تشکیل چہ معنی دارد۔یہ عین ممکن ہے کہ ماضی کی مانند آج بھی اصلاحاتی کمیٹی کو قومی مقاصد کی بجائے شخصی اقتدار کے تقاضوں کی تکمیل کیلئے استعمال ہونا پڑے‘جس سے بگاڑ میں مزید اضافہ ہو گا۔بہرحال! اصلاحاتی کمیٹی کو فی الحال تو اپنی صفوں سے مزاحمت کا سامنا ہے‘کمیٹی کے ممبران نے چاروں صوبوں کا دورہ کر کے سٹیک ہولڈرز سمیت صوبائی مینجمنٹ سروس(PMS) کے افسران سے تجاویز مانگیں تو پی ایم ایس افسران نے ریفارمز کمیٹی میں نمائندگی نہ ملنے کی وجہ سے تعاون سے انکار کر دیا۔ڈی ایم جیزکے ساتھ حقوق و فرائض کی تقسیم کے مسئلہ میں الجھی چاروں صوبوں کی پراونشل مینجمنٹ سروسز کی ایسویسی ایشن نے دھمکی دی ہے‘اگر ریفارمز کمیٹی میں پی ایم ایس افسران کو نمائندگی نہ ملی تو مجوزہ ریفارمز کو تسلیم نہیں کریں گے۔فیڈرل ٹاسک فورس کے سربراہ عشرت حسین پی ایم ایس سے مشاورت کیلئے پشاور آئے تو ان سے پہلا مطالبہ یہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت 1993ء میں وزیراعظم معین قریشی کے عہد میں پی اے ایس اور پی ایم ایس افسران کے مابین پوسٹوں کی تقسیم کے Apportionment Formula کو ختم کرے اور خیبر پختونخوا میں دیگر محکموں سے غیرقانونی طور پہ پی ایم ایس میں انڈکٹ کئے گئے افسران کی اپنے بنیادی محکموں کو واپسی اور ڈیپوٹیشن پہ لائے گئے اہلکاروں کی پی ایم ایس کی شیڈول پوسٹوں پہ تعیناتی بند کرے‘یہ وہ مطالبات ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوں گے‘لہٰذا نہ نومن تیل ہو گا‘ نہ رادھا ناچے گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں