نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاجگرکےعارضےمیں مبتلا،اسپتال میں زیرعلاج
  • بریکنگ :- ہمارےپاس ان کےعلاج کیلئےذرائع اورٹیکنالوجی نہیں،ذاتی معالج ڈاکٹر فخرالدین
  • بریکنگ :- علاج کےلیےبیرون ملک جانےکی اجازت نہ ملی توخالدہ ضیاکی جان جاسکتی ہے،ذاتی معالج
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

پولیس ریگولیٹ نہیں ہو سکتی؟

جب سے پولیس ایکٹ دو ہزار سترہ کے تحت پولیس فورس کو سول انتظامیہ کی نگرانی سے نجات اور غیر محدود داخلی خود مختاری ملی ہے‘ اُسی دن سے پولیس اپنے اجتماعی اور انفرادی رویّوں کو کسی ایسے خاص نظم وضبط میں نہیں ڈھال سکی جو اس کے پروفیشنل رویّوں کی مستقل شناخت بن سکتا۔ امر واقعہ بھی یہی ہے کہ اکثر پولیس افسران پرانی شناخت سے پیچھا چھڑانے کی خاطر نت نئے انداز میں خود کو متعارف کرانے کی کوشش میں کئی ایسے حیران کن کارنامے سر انجام دینے لگے ہیں جو نہ صرف ان کے منصب کے شایانِ شان نہیں ہوتے بلکہ ان کی بنیادی ذمہ داریوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔ پولیس کمانڈ‘ اپنی فورس کی پیشہ ورانہ مہارت کو بہتر بنا کے معاشرے کو کچھ ڈیلیور کرنے کے بجائے ادنیٰ سیاستدانوں کی طرح مصنوعی طور طریقوں سے اپنی امیج سازی میں سرگرداں نظر آتی ہے، چنانچہ پولیس اب میعاری سروسز فراہم کرنے والی کمیونٹی فورس بننے کے بجائے محض پروپیگنڈا کے ذریعے کارکردگی دکھانا چاہتی ہے۔ افسوس! یہ صورتحال خود فورس کے لئے تباہ کن مستقبل کا پتا دیتی ہے۔کنفیوشس نے کہا تھا کہ ''فطرت خاموش بہائو کی طرح‘ کوئی دعویٰ کئے بغیر‘ نہایت خاموشی کے ساتھ اپنا فرض نبھاتی ہے، فطرت کی مانند خاموشی کے ساتھ کام کرنے کی عادت ڈالیں‘‘۔ بلاشبہ اختیارات کی طاقت اور پیشہ ورانہ ضبط و تحمل دراصل سکون و اضطراب کا ملاپ ہوتا ہے، طاقت اپنے اظہار کے لئے قانون و اخلاق کی ہر حد عبور کرنے پہ آمادہ رہتی ہے لیکن مہارت چند اصولوں کی مدد سے مقصد کا حصول ممکن بنا لیتی ہے، پیشہ ورانہ مہارت گویا اوپر چڑھنے والی سیڑھی ہے یا جذباتی رجحانات اور انہیں قابو کرنے والے دماغ کے مابین اتحاد کا گداز عمل۔ سنہ دو ہزار تک پولیس جب تک مربوط سول انتظامی ڈھانچہ کے اندر رہ کر کام کرتی رہی تو اس وقت تک اس کی خوبیوں اور خامیوں کے نتائج گورنمنٹ کی مجموعی کارکردگی کا جُز بن جاتے تھے، اس لئے وہ ہدفِ تنقید بنتی نہ اسے براہِ راست عوام کے ساتھ تصادم جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ تب ضلعی انتظامیہ کا کُشن عوامی ردعمل کا سارا بوجھ سہہ لیتا تھا لیکن جب سے پولیس نے کامل خود مختاری حاصل کرکے ریاست کے اندر اپنے لئے جداگانہ کردار چنا‘ اس دن سے اپنی خامیوں کا سارا وبال اور مخالفانہ عوامی ردعمل کا سارا بوجھ خود اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔ اب پولیس کی کمانڈ کے پاس اپنی منفی یا مثبت کارکردگی کا بوجھ کسی اور جانب منتقل کرنے اور عوام سے روا رکھے جانے والے سلوک کی پردہ پوشی کا کوئی عذر باقی نہیں بچا۔ اس وقت مشکل یہ ہے کہ پولیس کی اجتماعی دانش نئے حالات میں کام کرنے کے کوئی اصول متعین کر سکی نہ ان سماجی اور انتظامی عوامل کا ادراک کر سکی جو بتدریج اسے اپنے طلسماتی حصار میں لیتے نظر آتے ہیں۔ 
سابق آئی جی ذولفقار چیمہ نے اپنے حالیہ کالم میں پولیس افسران کے انہی مہمل رویّوں کی نہایت دلنشیں انداز میں تصویر کشی کر کے پولیس فورس سے سچی خیر خواہی کا حق ادا کیا ہے۔ خاص طور پہ انہوں نے پولیس شہدا کے پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کے مناظر کی عکس بندی کر کے سوشل میڈیا پہ تشہیر کرنے کے علاوہ نامناسب لباس زیب تن کر کے جوانوں کو نصیحت فرمانے جیسے کئی محیر العقول واقعات کا تذکرہ بھی کیا۔ ذولفقار چیمہ صاحب نے لکھا ''جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بہت سے افسروں نے اپنے اضلاع اور ڈویژنوں کو تھانیداروں کے سپرد کرکے خود سوشل میڈیا پولیسنگ شروع کر دی ہے۔ چند ریٹائرڈ آئی جی صاحبان نے مجھے کئی بار کہا کہ وہ ڈی پی او یا ڈی آئی جی حضرات‘ جو اپنے ضلع کے شہید پولیس اہلکاروںکی بیٹیوں کی شادیوں میں مالی معاونت کرتے ہیں، اپنے اِس فرض کی ادائیگی کی فلمیں بنا کر اور پھر انہیں سوشل میڈیا پر چلا کر اس کا ڈھنڈوار کیوں پیٹتے ہیں؟ ایسا کرنے سے شہداء اور ان کی بچوںکی توہین ہوتی ہے۔ کیا وہ اپنے بچوں کی فلمیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈکر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ شہید کی بچوں کو اپنی بچے سمجھ کر شادی میں شریک نہیں ہوتے بلکہ اس (مقدس قدر) کو وہ پروپیگنڈا کے ٹول کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ کئی روز تک وڈیوکلپ چلتا رہا، جس میں ایک ڈی پی او پولیس لائنز میں افسروں کو فرمودات سنا رہے ہیں، تقریب کے سامعین تو باوردی ہیں مگر موصوف بنیان پہن کر ہی تقریر فرما رہے ہیں۔ دوسرے وڈیو کلپ میں ایک ڈی پی او مستحقین میں آٹے کے تھیلے بانٹتے نظر آئے لیکن اسی روز کے اخبارات میں یہ خبر بھی نظر سے گزری کہ مقامی فلور مل کے مالک نے شکایت کی ہے کہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او اس کی فلور مل سے زبردستی آٹے کے تین سو تھیلے اس لئے اٹھا کر لے گئے کہ ڈی پی او صاحب نے تقسیم کرنے ہیں۔ ایک اور ڈی پی او کا کلپ شیئر ہوا، وہ غالباً داد رسی کے لئے کسی مدعیہ کے گھر گئے تو کرسی (جس پر وہ بیٹھے ہوئے تھے) چھوڑ کر نیچے خاتون کے پیروں میں آ بیٹھے۔ مگر یہ درویش صفت افسر اپنی عاجزی کے منظر کو فلمانے کے لئے کیمرہ مین ساتھ لانا نہیں بھولے۔ بعد میں یہ سن کے دُکھ ہوا کہ وہی خاتون (ڈی پی او جس کے قدموں میں بیٹھا ہوا تھا) کچھ دنوں بعد جب ڈی پی او سے ملنے ان کے آفس گئی تو وہاں اُسے ملاقات کا وقت ملا نہ بیٹھنے کے لئے کسی نے کرسی پیش کی۔ ایک اور کلپ میں کوئی تھانیدار دیہاڑی دار مزدوروں کی لائن لگوا کر ان میں پیسے تقسیم کرتا نظر آ رہا ہے لیکن اس نیکی کو وہ دریا میں نہیں ڈالنا چاہتا، اِس لئے مووی میکر ساتھ لے کر آیا تاکہ ان تاریخی لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا جائے۔ ایک انسپکٹر یا سب انسپکٹر کی تنخواہ تو یقینا اتنی نہیں ہوتی کہ گھر کے اخراجات چلانے کے بعد بھی اتنی رقم بچ جائے کہ وہ حاتم طائی بن کر غریبوں میں بانٹتا پھرے‘‘۔ علی ہٰذا القیاس سوشل میڈیا پہ ہمہ وقت ایسی درجنوں وڈیوز وائرل رہتی ہیں جس میں پولیس افسران اپنا اصل کام، یعنی جرائم کا قلع قمع کرنے کے بجائے سوشل سروسز کی فراہمی کے ذریعے اپنی امیج سازی میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی ناقد صحافی پولیس کی ان سماجی سرگرمیوں کے اعداد و شمار اکٹھے کر کے محاسبہ کرتا تو یقینا اسے مخالف گروپ کا پروردہ اور پولیس کا ازلی دشمن سمجھ کے ایسی تنقید کو مسترد کر دیا جاتا لیکن اب ذولفقار چیمہ جیسے پولیس افسر کی جانب سے کرائم فائٹنگ کے بجائے سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے اور سوشل میڈیا کے ذریعے سستی شہرت حاصل کرنے والے پولیس افسران کے طرزِ عمل پہ گرفت کو سچی ہمدردی اور نادر مشورہ سمجھ کے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وسعت اور سوشل میڈیا کے اس طلسماتی عہد میں فورسز کی جانب سے عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے طرزِ عمل اور پولیس کی کارکردگی کو جانچنے کے کئی ہمہ جہت نظام فعال ہوئے جو رفتہ رفتہ چیک اینڈ بیلنس کا ایسا حساس اور خودکار نظام بنتے گئے جنہیں کسی بھی شاطر کیلئے جُل دینا ممکن نہیں رہا۔ مگر افسوس کہ ہماری پولیس، پیشہ ورانہ مہارت کو بڑھانے کی خاطر احتساب کے داخلی و خارجی نظام کو خوش آمدید کہنے کے بجائے ادارہ جاتی تعصب کو مضبوط کرنے میں جُت گئی ہے۔ ظلم کرنے والے اہلکاروں کو نشانِ عبرت بنانے کے بجائے عامر تہکالی کیس میں ملوث دو تھانیداروں کو بچانے کی خاطر مبینہ طور پر خیبر پختونخوا پولیس بیماری کے بہانے تراش کے انہیں جوڈیشل کمیشن میں بیان ریکارڈ کرانے سے روک رہی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر عامر تہکالی کیس کی گونج ابھی فضائوں میں تحلیل نہیں ہوئی تھی کہ پشاور سربند پولیس نے شہری کو مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں مار ڈالا۔ پولیس کے اسی رویہ کو دیکھ کے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام وہاں پولیس آمدکو خوش آمدید کہنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں