نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- استعفوں کاخواب چکناچورہوگیا،وزیرمملکت اطلاعات فرخ حبیب
  • بریکنگ :- فضل الرحمان کےچہرےپرمایوسی کےبادل چھائےہوئےتھے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- اسلام آباد:23 مارچ کادن تاریخی اہمیت کا حامل ہے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- اس دن پرمارچ کااعلان کرنیوالےقومی یکجہتی خراب کرناچاہتےہیں،فرخ حبیب
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

فلسطینیوں کی مظلومیت اور مسلم ممالک کا رویہ

اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین تازہ جھڑپیں تین ہفتے قبل اس وقت شروع ہوئیں جب پہلی جنگ عظیم کے بعد یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بیت المقدس کے اجتماعی کنٹرول کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کے تحت عائد کچھ پابندیاں ازخود تحلیل ہو گئیں؛ تاہم اس تنازع میں اسرائیلی پولیس نے دائیں بازو کے انتہا پسند یہودیوں کی حمایت میں طاقت کا استعمال کرکے فساد کو بھڑکا دیا۔ یہ مسئلہ دراصل سوسال پرانا ہے اور اس وقت تخلیق ہوا جب پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے فلسطین کا کنٹرول حاصل کرتے ہی اسے وہاں کی حقیر سی یہودی اقلیت کا ''قومی گھر‘‘ قرار دے کر مسلمانوں کی عظیم اکثریت کو دوسرے درجہ کا شہری بنا دیا؛ تاہم فلسطینی مسلمانوں نے اپنی زمین کا دعویٰ نہ چھوڑا اور برطانیہ کے اس اقدام کے خلاف سیاسی مزاحمت جاری رکھی۔ 1920ء سے 1940ء تک کے بیس سالوں کے دوران برٹش گورنمنٹ نے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے دنیا بھر کے یہودیوں کو فلسطین پہنچا کر آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی۔ البتہ یورپ بھر میں آباد یہودیوں کے خوشحال طبقات فلسطین جیسے پسماندہ علاقوں کی طرف مائل ہونے کو تیار نہیں تھے، اس لئے برطانیہ کے خفیہ اداروں نے پورے یورپ میں عوامی سطح پہ صہیونیت کے خلاف نفرت انگیز لہریں اٹھائیں، خاص طور پر جرمنی میں یہودیوں کے خلاف سیاسی تشدد کی بڑھاوا دینے اور ہولوکاسٹ کی متھ کو اسٹیبلش کرنے میں برطانیہ اور امریکا کے خفیہ اداروں نے نہایت فعال کردار ادا کیا۔ ان تحریکوں کو مہمیز دینے کا مقصد خوشحال یہودیوں کو یورپ چھوڑکر فلسطین کا رخ کرنے پہ مجبور کرنا تھا؛ چنانچہ انڈیا کی بلیک ہول تھیوری کی طرح ہولوکاسٹ تھیوری نے بھی خوب کام دکھایا اور یورپ و امریکا میں آباد یہودیوں کی بڑی تعداد تیزی کے ساتھ نقل مکانی کر کے فلسطین پہنچنے لگی۔ یوں یہودیوں اور عیسائیوں کے مابین پائی جانے والی صدیوں پہ محیط شدیدترین رقابت کو مسلمانوں کے گلے کا طوق بنا کر دونوں کو ہمیشہ کیلئے وقفِ اضطراب کر دیاگیا۔
برطانیہ نے اپنے دورِ حکمرانی میں یہودیوں اورمسلمانوں کے مابین پائی جانے والی اس مصنوعی عداوت میں اضافہ کیا اور پہلی جنگ عظیم کے دوران بالآخر عالمی طاقتوں نے اعلانِ بالفور کے ذریعے فلسطین کو ''اسرائیلی لینڈ‘‘ بنانے کے علاوہ یروشلم کو تینوں بڑے مذاہب کیلئے مشترکہ بین الاقوامی شہر کا درجہ دے دیا۔ رفتہ رفتہ یہودی یہاں آ کر آباد ہوتے رہے اور بالآخر ریاستِ فلسطین پر برطانوی اقتدار کے خاتمے سے ایک روز قبل 14مئی 1948ء کو اسرائیل کی تخلیق ہوئی اور یہ خطہ تباہی کی اساس بن گیا۔ 1948میں بظاہر اس مسئلے کو لاینحل چھوڑ کر برطانوی استعمار فلسطین سے نکل گیا لیکن اس کے جانے کے بعد نوزائیدہ اسرائیلی مملکت نے پڑوسی مسلم ریاستوں کے خلاف جتنی جنگیں لڑیں‘ اس میں یورپ اور امریکا نے کھلم کھلا اسرائیل کی مدد و حمایت کی بلکہ مغربی طاقتوں کی شہ پر ہی اسرائیل نے ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے۔ مغربی طاقتیں جو مقاصد عالمی جنگوں کے ذریعے حاصل نہ کر سکیں وہ اسرائیل کی تخلیق کے وسیلے بہ آسانی حاصل کر لیے گئے۔
اسرائیل نے اپنی تخلیق کے محض ایک سال بعد‘ جب اردگرد کے تزویراتی اہمیت کے حامل علاقوں پہ قبضہ کر لیا تو عالمی طاقتوں نے مداخلت کر کے جنگ بندی کرا دی۔ اس جنگ میں خاص کر اردن کا وہ علاقہ جو مغربی کنارے کے نام سے جانا جاتا تھا‘ اسرائیل کے ہاتھ آ گیا۔ مصر نے غزہ کی پٹی پر قبضہ کرکے فلسطینی مسلمانوں سے تنازع مول لے لیا۔ یروشلم مغرب میں اسرائیل اور مشرق میں اردن کی فوجوں کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ جنگ بندی کے باوجود فلسطینیوں کو امن کی ضمانت نہ مل سکی اور فریقین مسلسل ایک دوسرے سے نبرد آزما رہے جس سے بعد کی دہائیوں میں مزید کئی لڑائیاں لڑی گئیں۔ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے سمیت شام کی گولان کی پہاڑیوں، غزہ اور مصر کے جزیرہ نما سینا پر بھی قبضہ کر لیا۔ ان جنگوں کے دوران عارضی نقل مکانی کرنے والے جو فلسطینی خاندان غزہ اور مغربی کنارے کے علاوہ ہمسایہ ممالک اردن، شام اور لبنان جا پہنچے تھے‘ انہیں اور ان کی اولادوں کو اسرائیل نے آج تک واپس اپنے گھروں کو لوٹنے کی اجازت نہیں دی۔ اسرائیل نے غزہ سے جن مسلمانوں کو نکالا‘ اقوام متحدہ ظلم تسلیم کرنے کے باوجود‘ ان مظلوم فلسطینی مسلمانوں کو واپس لانے میں بے بس نظر آیا۔
پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مڈل ایسٹ اور افریقہ میں مسلمانوں کی جو قومی ریاستیں تخلیق کی گئی تھیں‘ رفتہ رفتہ وہ باہمی تنازعات میں الجھ کر کمزور ہوتی چلی گئیں، تیل کی دولت سے مالا مال ان ریاستوں کے حکمراں عیش و عشرت میں کھوکر اپنے منصب کے تقاضوں کو فراموش کر بیٹھے، انہی آمریتوں نے جب اپنے شہریوں سے بنیادی آزادیاں اورسیاسی حقوق چھین کے انہیں توڑ ڈالا تو وہ خود بھی مضمحل ہوتی گئیں؛ چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ تمام عرب ریاستیں‘ جو ابتدا میں اسرائیل کے وجود کو برداشت نہ کرتی تھیں‘ بعد میں اسے تسلیم کرنے میں اپنی بقا تلاش کرنے لگیں۔ پہلے اردن، مصر اور ترکی نے اب متحدہ عرب امارت اور لیبیا نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے؛ چنانچہ ستر سال قبل مسلم دنیا میں اسرائیل کے خلاف ابھرنے والی سرشار مزاحمت بتدریج دم توڑ گئی۔ اسی لئے اب اسرائیل نے نہایت بیباکی کے ساتھ پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنا لیا ہے جسے اقوام متحدہ نے تینوں مذاہب کا مشترکہ عالمی شہر قرار دیا تھا۔ اگرچہ فلسطینی اب بھی مشرقی یروشلم کو اپنی عبوری فلسطینی ریاست کا دارالحکومت سمجھتے ہیں لیکن امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک نے یروشلم پر اسرائیلی دعوے کو تسلیم کر لیا ہے۔ تمام تر عالمی معاہدات کے باوجودگزشتہ 50 سالوں میں اسرائیل نے یہودی بستیاں تعمیر کر کے وہاں 6 لاکھ سے زیادہ یہودی آباد کئے اور مہذب دنیا خاموشی سے دیکھتی رہی۔ مسلمان چیختے رہے کہ اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں لیکن کسی نے پروا نہ کی۔ عالمی برادری سے مایوس ہو کر غزہ میں فلسطینی مسلمانوں کی حماس نامی عسکری تنظیم ابھر کے سامنے آئی، جس نے داخلی طور پر اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت کی بنیاد رکھی لیکن اسرائیل نے مصر کے تعاون سے غزہ کی سرحدوں کو سیل کر کے حماس کو اسلحہ کی سپلائی بند کرا دی۔ اپریل 2021ء میں رمضان المبارک کے آغاز سے ہی پولیس اور فلسطینیوں کے مابین شروع ہونے والی جھڑپوں نے ایک بار پھر کشیدگی بڑھا دی ہے لیکن عالمی برادری کی اجتماعی خواہش اس مسئلے کے حل کی صلاحیت کھو بیٹھی ہے۔ بہت سے ایسے معاملات ہیں جن پر اسرائیل اور فلسطینی کبھی متفق نہیں ہوسکتے ان میں فلسطینی مہاجرین کی گھروں کو واپسی کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کا خاتمہ اور یروشلم پہ تصرف کا مسئلہ اہم ہیں لیکن ان سب سے بڑھ کر‘ فلسطینی ریاست کے قیام کا دو ریاستی فارمولا ناقابل عمل ہوا ہے۔ ان ایشوز پر 25 سال سے جاری مذاکرات بے نتیجہ ہیں کیونکہ مہذب دنیا کو اس مسئلے کے حل کی کوئی جلدی نہیں۔
غزہ میں حریت پسندوں نے اسرائیل کے ساتھ تین جنگیں لڑی ہیں‘ اس کشمکش میں مصر کی فوجی حکومت نے اسرائیل پر حماس کے حملے رکوانے کیلئے غزہ کی ناکہ بندی جاری رکھی، اسی دوران امریکا برطانیہ اور یورپی یونین نے حریت پسند تنظیم حماس کے عسکری ونگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اسرائیل کو طاقت فراہم کی۔ حماس کو پہلے انتفادہ کے بعد اس وقت اہمیت ملی جب اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے مابین 1990ء کی دہائی کے اوائل میں امن معاہدات ہوئے۔ حماس نے ان معاہدوں کو مسترد کر کے رائے عامہ کی توجہ حاصل کر لی۔ حماس کے خلاف متعدد اسرائیلی کارروائیوں اور فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے پابندیوں کے باوجود حماس نے خودکش حملوں کا آغاز کر کے اس تنازع میں ویٹو کی مؤثر طاقت حاصل کرلی۔ بلاشبہ اس مسئلے کا حل اب تلوار کی دھار میں مضمر ہے۔ جب دنیا کے تمام آئینی اصول اور سارے عالمی قوانین کسی مظلوم کو حق دلانے میں ناکام ہو جائیں تو قانونِ فطرت اسے تلوار اٹھانے کی اجازت دیتا ہے۔ لاریب فلسطینی مسلمانوں کی مسلح جدوجہد اصولی اور برحق ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں