نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک میں انکم ٹیکس گوشوارےجمع کرانےکاآخری روز
  • بریکنگ :- 26 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارےجمع ہوئے،ترجمان ایف بی آر
  • بریکنگ :- گزشتہ مالی سال 29ارب 60 کروڑروپےکاٹیکس جمع ہواتھا،ایف بی آر
  • بریکنگ :- انکم ٹیکس گوشواروں سے 48 ارب روپےکاٹیکس جمع ہوا،ایف بی آر
  • بریکنگ :- گزشتہ مالی سال اکتوبرکےوسط تک 18لاکھ گوشوارےجمع ہوئےتھے،ایف بی آر
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

مسئلۂ افغانستان کا سیاسی حل

امریکا نے معاہدے کے مطابق‘ اپنے یومِ آزادی چار جولائی سے دو روز قبل ہی بگرام ایئر بیس خالی کر کے انخلا کا ایک بڑا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ بگرام ایئر بیس کا کنٹرول اب افغان فورسز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ جدید انسانی تاریخ کی ایسی ناقابل فراموش پسپائی ہے جسے دنیا دم بخود ہو کر حیرت و استعجاب سے دیکھ رہی ہے۔ خود امریکی اہلِ دانش بھی فی الحال اس حقیقت کو قبول کرنے سے خائف ہیں، کانگریس ریسرچ سروس نے افغانستان کے تناظر میں امریکی پالیسیوں کی ناکامیوں پہ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے حملوں کے جواب میں امریکا نے جب طالبان حکومت کے خلاف فوجی مہم جوئی شروع کی تھی تو اسے عالمی برادری کی مکمل حمایت میسر تھی لیکن ان 19سالوں میں ریاستہائے متحدہ نے افغانستان میں 22 ہزار فوجی کھونے کے علاوہ تعمیرِ نو کے کاموں اور سکیورٹی انتظامات پہ کم وبیش 144 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس ہمہ گیر فوجی پیش قدمی کے ذریعے طالبان کی جگہ افغان منتخب حکومت قائم کرائی لیکن اس کے باوجود انسانی ترقی کا عمل محدود اور مستقبل کی امیدیں مایوسیوں کی دھند میں ڈوب گئی ہیں۔ طویل اور اعصاب شکن جنگ کے باوجود امریکا کو 29 فروری 2020ء کو اسی امارات اسلامیہ یعنی طالبان سے معاہدے کے ذریعے فوجیں نکالنے کی رعایت لینا پڑی جنہیں وہ دہشت گرد قرار دے کر عالمی امن کیلئے خطرہ باور کراتا رہا۔ اب بگرام ایئربیس سے غیرملکی فورسز کی روانگی دو دہائیوں سے افغانستان پہ مسلط امریکی فوج کے سایے کو بھی تحلیل کر دے گی۔ فروری 2020ء میں جس معاہدے کے ذریعے صدر ٹرمپ نے مئی2021ء تک فوجی انخلا کا عہد باندھنے کے بدلے طالبان سے القاعدہ سمیت دیگر گروہوں کے جنگجوئوں کو بھرتی، تربیت اورمالی معاونت نہ دینے کا وعدہ لیا‘ اسی معاہدے کے احترام میں طالبان نے غیرملکی فورسز پہ حملے روک دیے؛ تاہم افغان گورنمنٹ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں۔ معاہدے کو مانیٹر کرنے والے یو این مبصرین کہتے ہیں کہ اگرچہ دوحہ معاہدے میں افغان گورنمنٹ کو نمائندگی نہ دے کر اسے امن معاہدے کے ثمرات سے محروم کیا گیا؛ تاہم امریکا نے اس نازک سیاسی تصفیے کو بچانے کی خاطر فوج کی واپسی کو ترجیح دی تاکہ2001ء کے بعد سے یہاں پیدا ہونے والے سماجی، سیاسی اور انسانی فوائد کا تحفظ کیا جا سکے۔ کچھ تاخیر کے بعد سہی‘ 12 ستمبر 2020ء کو افغان حکومت اور طالبان نمائندوں نے قطر میں ملاقات کرکے دوحہ معاہدے کے تحت براہِ راست مذاکرات کا پہلا مرحلہ ممکن بنایا تھا۔ یہ انتہائی اہم لمحہ تھا جو جاری تنازع کے تناظر میں ممکنہ طور پر ڈرامائی مضمرات کے ساتھ منسلک تھا۔ افغان فریقین میں رابطے اب بھی استوار ہیں لیکن کئی عوامل نے خاطر خواہ پیشرفت کو تعطل میں ڈال دیا ہے۔ پہلے تو امریکا نے ''جمپ سٹارٹ‘‘ مذاکرات کی خاطر امن معاہدے کا جو خاکہ تیار کیا اس میں تقسیمِ اختیارات کے علاوہ ''عبوری‘‘حکومت کے قیام کا منصوبہ بھی شامل تھا لیکن اس مسودے کو افغان صدر اشرف غنی نے مسترد کردیا تھا۔ پھر اسی ڈیڈ لاک کو تحلیل کرنے کی خاطر اپریل2021ء میں ترکی میں کانفرس منعقد کرانے کا فیصلہ ہوا تو طالبان نے شرکت سے انکار کرکے صورتِ حال کو پیچیدہ بنا دیا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ وہ قابل قبول سیاسی فارمولاجو افغان گورنمنٹ اور طالبان‘ دونوں کو مطمئن کرسکے‘ وہ طالبان کے اپنی حکومت قائم کرنے کے خواب سے بالاتر ہو کر افغانستان کے مستقبل بارے سوچنے سے پیدا ہوگا مگر یہ خواہش طالبان کے فلسفۂ مزاحمت کو سوٹ نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان تنازع کا پائیدار حل طالبان کی سیاسی بالادستی کی کھوکھ سے جنم لے گا۔
افغان کمانڈر اگرچہ اپنی فوج کے مورال پر امریکی انخلا کے اثرات کم کرنے میں سرگرداں ہیں لیکن امریکی حکومت کے سرکاری جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ میدانِ جنگ پہ طالبان حاوی رہیں گے کیونکہ 2001ء سے اب تک کے دورانیے میں‘ اس وقت طالبان سب سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ گزشتہ بیس سالوں میں امریکا جس مملکت کو سنبھال نہیں سکا، طالبان اس ملک کے آدھے سے زیادہ حصے پر کامل کنٹرول رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کی تصدیق سابق افغان صدر حامد کرزائی نے بھی کی ہے، وہ کہتے ہیں: امریکی یہاں شدت پسندی کو کچلنے اور جنگ زدہ مملکت کو استحکام دینے آئے لیکن20 سال بعد وہ ناکام واپس پلٹ رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ آخری امریکی فوجی اس کبھی نہ تھمنے والی جنگ کو ترک کرتے وقت اپنے پیچھے عمیق تباہی چھوڑے جا رہا ہے، بیس سال قبل جو عالمی برادری افغانستان میں استحکام لانے کے واضح مقصد کے ساتھ یہاں آئی تھی، آج وہ اپنے پیچھے انتہا پسندی اور خوف و دہشت سے سلگتا ہوا معاشرہ چھوڑ کر جا رہی ہے، غیر ملکی فورسز کی وراثت کے طور پہ ''بدنامی اور مکمل تباہی‘‘ہمارا مقدر بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا: اپنی تمام ترناکامیوں کے ذمہ دار افغان خود ہیں لیکن ان بڑی طاقتوں کا کیا جو کبریائی صلاحیتیں لے کر یہاں آئیں لیکن اب اجڑے ہوئے دیوتا کی مانند یہاں سے بے نیل مرام واپس جا رہی ہیں۔ حامدکرزئی ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ افغان عوام کو امن کی زبردست خواہش میں مربوط کیا جا سکتا ہے، ہم اپنے مستقبل کی ذمہ داری خودلے کر غیر ملکیوں کے بغیر بھی ملک کا دفاع کرسکتے تھے لیکن اب ہمارے پاس بدحالی اور غیظ و غضب کا سامنا کرنے کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ مسٹر کرزئی کے دورِ حکومت میں خواتین میدانِ عمل نکلیں اور لڑکیاں سکولوں میں آئیں، انہی کی کوشش سے نوجوان کی فعال سول سوسائٹی نمودار ہوئی، دارالحکومت کابل سماجی، سیاسی اور علمی طور پہ نئی بلندیاں کو چھونے لگا تھا لیکن دوسری طرف ان کی حکمرانی میں وسیع پیمانے پر بدعنوانی کی نشوونما ہوئی، کرپشن خوب پھلی پھولی اور وہ اقتدار کے آخری ایام میں واشنگٹن کے ساتھ تنازعات میں الجھے رہے۔ اپریل میں جب امریکی صدر جوبائیڈن نے 2500 فوجیوں کے انخلا کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اہداف حاصل کر لیے ہیں، القاعدہ کم و بیش غیرمؤثر اور اسامہ بن لادن کی موت ہوچکی ہے، اب ہمیں افغانستان سے ممکنہ طور پہ پھیلنے والی دہشت گردی کا خطرہ درپیش نہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکی فوجی انخلا پچاس فیصد سے زائد مکمل ہو چکا ہے جبکہ امریکا اور نیٹو کے انخلا کے ساتھ ہی طالبان کی پیشقدمی بڑھ گئی تھی۔ انہوں نے قرب و جوار کے درجنوں اضلاع فتح کر لیے، کئی مقامات پہ طالبان نے شدید لڑائی کے ذریعہ غلبہ پایا، پچھلے ہفتہ شمالی صوبے فاریاب میں طالبان کے جارحانہ حملوں میں افغان ایلیٹ فورس کے 22کمانڈوز ہلاک ہوئے جن کی قیادت کرنل سہراب عظیمی کر رہے تھے جو خود بھی اسی جھڑپ میں مارے گئے۔ بہرحال! اس وقت سروں پہ منڈلاتے خانہ جنگی کے خطرات کی بدولت ہزاروں لوگ نقل مکانی کیلئے پر تول رہے ہیں۔ شہریوںکا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے بدعنوانی کی روک تھام اور جرائم پیشہ گروہوں کی سرکوبی سے مایوس ہیں، کچھ جرائم پیشہ گروہ کابل کے طاقتور جنگجوؤں سے منسلک ہیں‘ اس لئے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اس امر میں اب کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ قوم پرست افغان لیڈرشپ نے ہمیشہ آزادی پہ غیر ملکی قوتوں پر انحصار کو ترجیح دی ہے بلکہ قومی آزادی کے تحفظ کی خاطر ایثار کرنے کے بجائے اپنی نسلی، گروہی اور ذاتی عصبیتوں کی تسکین کی خاطر غیروں کی بالادستی قبول کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔ 1970ء کی دہائی میں نیشنلسٹ قوتوں نے ہی سوویت یونین کے ایما پہ ظاہر شاہ حکومت کا تختہ الٹ کے کیمونسٹ انقلاب برپا کیا تھا۔ پھر باہمی تلخیوں کا حساب چکانے کی خاطر روسی فوجوں کو افغانستان آنے کی دعوت دے کر عالمی طاقتوں کومداخلت کا موقع فراہم کیا گیا۔ بیس سالوں تک اپنے اندرونی معاملات میں عالمی طاقتوں کو ملوث کرنے کے مضمرات بھگتنے کے باوجود بھی جب نائن الیون کے بعد امریکا نے افغانستان پہ جارحیت کا فیصلہ کیا تو افغان قوم پرستوں نے کھلی بانہوں کے ساتھ اُسے خوش آمدید کہا، گویا بیس سالوں پہ محیط مہیب جنگ کے آتش فشاں میں جلنے کا تجربہ کرنے کے باوجود افغان لیڈر شپ اب بھی سرجوڑ کے بیٹھنے کی روادار نہیں ہو سکی۔ اِن کے برعکس مذہبی افغان لیڈرشپ زیادہ بالغ النظر واقع ہوئی ہے، علماء کرام نہ صرف مملکت کو متحد رکھنے کی اہلیت سے بہرور ہیں بلکہ افغانستان کو مسلم دنیا سے ہم آہنگ بھی رکھ سکتے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں