نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شمالی وزیرستان کےعلاقےدتہ خیل میں دہشتگردوں کاچیک پوسٹ پرحملہ
  • بریکنگ :- فائرنگ کےتبادلےمیں 2سپاہی شہید،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- شہدامیں نائیک رحمان اورلانس نائیک عارف شامل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- دہشتگردوں کی تلاش کیلئےسرچ آپریشن جاری،آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates
"AAC" (space) message & send to 7575

تعلیمی نظام میں سیاسی مداخلت کے مضمرات

وزیراعظم عمران خان نے بالآخر 23ستمبر کو اُس دامان زرعی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا جس کے خلاف جامعہ گومل کے وی سی ڈاکٹر افتخاراحمد طویل عدالتی جنگ لڑ رہے تھے۔ متذکرہ زرعی یونیورسٹی کا اعلان سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے مولانا فضل الرحمن کی خواہش پر ستمبر 2016ء میں اُس وقت کیا تھا جب وہ سی پیک کے مغربی روٹ کا افتتاح کرنے ڈیرہ اسماعیل خان آئے تھے۔ پرویز خٹک کی صوبائی حکومت نے دامان زرعی یونیورسٹی کو نوٹیفائی کرکے پروفیسر مسرور الٰہی کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر تعینات کر دیا لیکن پچھلی اور موجودہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے مجوزہ زرعی یونیورسٹی کیلئے فنڈ مختص نہ کرنے کی بدولت زرعی یونیورسٹی کے وی سی کو تین سال سے تنخواہ تک نہیں مل سکی۔اگرچہ صوبائی حکومت نے 2018 ء سے دامان زرعی یونیورسٹی کواعلیٰ تعلیمی اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا لیکن عملاً پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے زرعی یونیورسٹی فضا میں معلق رہی۔ابتدا میں مجوزہ زرعی یونیورسٹی کو ہزاروں کنال پہ محیط اُس زرعی تحقیقاتی مرکزکی عمارات میں بنانے کی تجویز دی گئی جس کی بنیاد 1962ء میں سابق گورنر امیرمحمد خان آف کالا باغ نے رکھی تھی۔اُس وقت یہاں زراعت کا شعبہ کافی ترقی یافتہ تھا ‘بعدازاں جب ناقابلِ برداشت کرپشن کی وجہ سے ادارہ جاتی زوال آیا تو یہ زرعی تحقیقاتی مرکز اُجڑ گیا بلکہ اسی تحقیقاتی سنٹر سے منسلک وہ وسیع و عریض ایگریکلچر ورکشاپ بھی ویران ہو گئی‘60ء اور70ء کی دہائی میں جہاں رودکوہی نظامِ آبپاشی کے سینکڑوں بلڈوزر اورزرعی مشینری دکھائی دیتی تھی۔
بہرحال طویل ردو کدّکے بعد دامان زرعی یونیورسٹی کے قیام کا کریڈٹ لینے کی خاطر 16 مارچ 2021 ء کو صوبائی کابینہ نے الگ سے مکمل زرعی یونیورسٹی بنانے کی بجائے معاشی مسائل میں الجھی جامعہ گومل کی زرعی فیکلٹی کو اَپ گریڈ کرکے دامان زرعی یونیورسٹی کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا تو نیا پنڈورابکس کھل گیا جس نے قدیم تعلیمی ادارے کے وجود کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔حکومتی فیصلے کے خلاف گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کربتایا کہ یونیورسٹی ماڈل ایکٹ کے سکشن3 کے تحت کسی فیکلٹی کو اَپ گریڈ کیا جا سکتا ہے نہ گومل یونیورسٹی کے اثاثہ جات تقسیم ہو سکتے ہیں۔وی سی کے اس اقدام کا نوٹس لیتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے ڈاکٹر افتخار کی جواب طلبی کرنے کے بعد22 اپریل کوانہیں 90دن کی جبری رخصت پہ بھیج کر مجوزہ زرعی یونیورسٹی کے وی سی پروفیسر مسرورکو جامعہ گومل کا اضافی چارج حوالے کرکے اثاثہ جات کی تقسیم کے عمل کو آگے بڑھانے کا حکم دے دیا۔
ڈاکٹر افتخار نے گورنر کے احکامات کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے جبری رخصت کے خاتمے کے علاوہ عبوری وی سی کی قانونی حیثیت اورجامعہ گومل کے اثاثہ جات کی تقسیم روکنے کی درخواست دائرکرکے قانونی مزاحمت کی راہ اختیار کی جس کے ردّعمل میں گورنر خیبر پختونخوا نے 25 اپریل کو کسی متعین الزام کے تحت انکوائری کراکے قانونی تقاضے پورے کئے بغیر براہ راست ڈاکٹر افتخار کی برطرفی کے احکامات صادر کرکے معاملے کو الجھا دیا۔عدالت میں زیر سماعت معاملے پر گورنر کی طرف سے آخری قدم اٹھانے کا نوٹس لے کر عدالتِ عالیہ نے27 ستمبرکو برطرفی کا حکم معطل کرکے سیکرٹری ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سمیت متعدد ملازمین کو توہینِ عدالت کے نوٹسز جاری کردیے تاہم سرکاری ملازمین نے غیرمشروط معافی مانگ کر اگلی پیشی پر برطرفی کا حکم واپس لینے کا تحریری نوٹیفکیشن پیش کرنے کا وعدہ کرلیا لیکن چند تکنیکی وجوہات کا سہارا لے کر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے برطرفی کا حکم واپس لینے کا خط پیش نہیں کیا۔دریں اثنا اگست میں عدالتوں کی چھٹیاں ہو جانے کی وجہ سے معاملے نے طول پکڑا تو ڈاکٹر افتخار کی90دن کی جبری رخصت پوری ہونے سے پانچ دن قبل17جولائی کو گورنر نے دوسری بار ان کی 90 دن کی جبری رخصت کا نوٹیفکیشن جاری کرکے عدالت میں زیر سماعت معاملے کو ایک بار پھر پیچیدہ بناڈالا۔اب طویل سماعت کے بعد 22 ستمبر کو عدالت عالیہ پشاور نے اپنے مختصر فیصلے میں برطرف وائس چانسلرڈاکٹر افتخار کو بحال کرنے کے علاوہ گومل یونیورسٹی اثاثہ جات کی تقسیم پر تفصیلی فیصلہ دینے کیلئے 4 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی‘ لیکن عدالتی فیصلہ آنے سے قبل دامان زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسرور الٰہی نے اضافی چارج کی آڑ لے کر27 ستمبر کو بغیر کسی معاوضے کے گومل یونیورسٹی کے سٹی کیمپس اور نیو کیمپس کی ہزار کنال اراضی کے علاوہ فیکلٹی آف ایگریکلچر‘فیکلٹی آف وٹرنری سائنسز‘گومل سنٹر آف بائیو کیمسٹری ‘فوڈ سائنسز‘ایگریکلچر اکنامکس اورماحولیات سائنسز پہ مشتمل چھ ڈیپارٹمنٹس کے 4180 طلبہ‘91 پروفیسرز‘اسسٹنٹ پروفیسرز‘لیکچررز اور 198 افراد پر مشتمل معاون سٹاف دامان زرعی یونیورسٹی کو منتقل کر دیا‘ حالانکہ یونیورسٹی ماڈل ایکٹ کی دفعہ 13کے مطابق مستقل وی سی کی عدم موجودگی میں صرف پرووائس چانسلر ہی روزمرہ کے امور نمٹانے یا پھر وی سی کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں بطور ایکٹنگ وی سی مکمل اختیارات استعمال کرنے کا مجاز ہے‘محض اضافی چارج کا حامل کوئی دیگر عہدہ دار سینڈیکیٹ اجلاس طلب کر سکتا ہے نہ بنیادی نوعیت کے بڑے فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا ہے‘ لیکن حیرت انگیز طور پر ہمارے بیباک حکمرانوں نے محض سیاسی نفع کی خاطر کسی قانونی کور کے بغیر عظیم مادر علمی کو پامال کرنے میں کسر باقی نہیں چھوڑی۔ زرعی یونیورسٹی کے اس طرح قیام کے نتیجے میں خطے کی قدیم ترین درسگاہ اپنا وجود کھو دے گی۔کیا پشاور یونیورسٹی کی بے رحمی سے کی جانے والی کتربیونت سے کوئی سبق نہیں ملتا کہ صوبہ کی دوسری بڑی جامعہ کو بھی سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھانے کیلئے کمرکس لی گئی؟شاید کسی کو یاد ہو کہ تاریخی اہمیت کی حامل پشاور یونیورسٹی کی کوکھ سے خیبر میڈیکل کالج یونیورسٹی‘ایگریکلچر یونیورسٹی اور انجینئرنگ یونیورسٹی سمیت اسلامیہ کالج یونیورسٹی نکال کر اس کے وجود کو معدوم کر دیا گیا۔اب پشاور یونیورسٹی کا وجود محض علامتی رہ گیا ہے۔ادھر جلدبازی میں کئے گئے فیصلوں سے کئی تکنیکی مسائل جنم لینے لگے ہیں‘زرعی فیکلٹی کے جن91 پروفیسرز‘اسسٹنٹ پروفیسرز اور لیکچررز کو دامان زرعی یونیورسٹی کے حوالے کیا گیا‘ متذکرہ بالا افسران کی زرعی یونیورسٹی میں آمد کے باوجود گومل یونیورسٹی کے انتظامی عہدوں پر بدستور بیٹھے رہنے کے علاوہ دامان یونیورسٹی کے ان ڈھائی تین سو ملازمین کی تنخواہوں کی گومل یونیورسٹی کے فنڈ سے ادائیگی سے کئی لاینحل پیچیدگیاں پیدا ہونے والی ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تعلیم جوہرِ انسانی کو نکھارنے کا وسیلہ اور شعورِ حیات کا مظہر ہے مگر ہمارے ہاں اسے محض ایسی ڈگری کے طور پہ لیا جاتا ہے جس کا مقصد ملازمت کا حصول ہے؛چنانچہ ہماری حرص نے نورِ علم کے حقیقی سرچشموں کو اجاڑ کر مصنوعی روشنیوں سے ایسی دنیا آباد کر لی جو ہمیں مہیب تاریکی کی طرف لئے جا رہی ہے۔تعلیم اگرچہ انسانیت کی ذہنی‘اخلاقی‘سائنسی اور فنی میراث کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے لیکن ہماری یونیورسٹیز اور تعلیمی بورڈزکی حالتِ زار کو دیکھیں تو یہ بہرہ ور کرنے کی بجائے بلیک ہول کی مانند نئی نسل کی صلاحیتوں کو چوس رہی ہیں۔اس رجعت ِقہقری کے ذمہ دار وہ پالیسی ساز ہیں جو ہمہ وقت اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ جو کچھ سب لوگ جانتے ہیں اسے ایسے علم میں ڈھالا جائے جسے کوئی سمجھ نہ سکے۔ہمارے اہلِ علم(پروفیسرز) حوصلہ ہار بیٹھے ہیں‘وہ افلاس کو اپنی عظمت کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر صداقت کے تمام محاذوں سے راہِ فرار اختیار کرکے مصلحت ومفادات کی تنگ و نارسا گلیوں میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔حکمرانوں کو مستقبل کے دبستانوں سے کوئی دلچسپی نہیں‘وہ اپنے غرور کی بنا پر ہر مسئلے سے بے خبر ہیں۔کرپشن نے لوگوں کی بصیرت کو کند کر دیا‘ اگر انہیں اوپر کی کمائی نہ ملے تو عملِ انہضام بگڑ جاتا ہے۔سپنسر نے کہا تھا :سکول ہمارے اذہان کے لئے آلاتی رجحانات پیدا کرتے ہیں‘جس کا مقصد ذہن کی مسلسل نشو ونما اور زندگی کی مستقل تنویر ہے‘ تاہم تعلیم جب تک فرد کی شخصی آرزوؤں اور اجتماعی ذمہ داریوں میں مطابقت اور اس میں ایسے میلانات پیدا نہ کرے کہ فرد خود اپنے کردار کو اجتماعی بہبود کے مطابق ڈھالے‘ بیکار مشق ثابت ہو گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں