دُنیائے انسانیت میں ہر زمانے کی تاریخ بلکہ کائنات کی سب سے بڑی، مستقل اور غیر متبدل حقیقت کا نام ہے۔۔۔۔تبدیلی !
گزشتہ برس مئی کے الیکشن میں انتخابی مہم کا عنوان ہی تبدیلی تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ کہیں انقلاب اورکہیں تبدیلی کے نعرے لگانے والے ''کورے کاغذ‘‘ پر تبدیلی کی مہم چلاتے رہے۔۔۔۔ نہ کوئی تحریری ایجنڈا، نہ انقلاب کی تیاری، نہ کوئی روڈ میپ اور نہ پروگرام ۔ نتیجہ تازہ دم جمہوریت کی صورت میں ہم سب کے سامنے ہے۔ آج ملک بھر کے ووٹروں کی کیفیت وہی ہے جو میرے زمانۂ طالب علمی میں ریڈیوکے اُستاد (سلامِ آخرفیم) ناصر جہاں نے بتلائی تھی۔
پہلے اُس نے مُس کہا، پھر تَق کہا، پھر بِل کہا
اس طرح ظالم نے مستقبل کے ٹکڑے کر دیئے
یوں لگتا ہے جمہوریت بس ایک جلوس کی مار ہے۔ جن کو جمہوریت کا پھل فروٹ یعنی ثمرات، وظیفہ جات اور مراعات وغیرہ مل رہے ہیں اُن کا کہنا ہے جلسہ اور جلوس جمہوریت دشمنی ہے۔ آزادیِ تحریر و تقریر آئینی نظام کے لئے خطرے کی گھنٹی نہیں‘ گھنٹہ گھر ہے۔ مطالبات کے لئے لوگوں کو سڑکوں پر آنے کی دعوت دینا جمہوریت لپیٹنے کی ''بین البراعظمی‘‘ سازش ہے۔ ملکی آئین کے آرٹیکل 16نے سیاسی جماعتوں سمیت تمام شہریوںکو یہ حق دے رکھا ہے کہ وہ ہتھیاروں کے بغیر جہاں چاہے اکٹھے ہوں ، پُرامن مظاہرہ کریں، جلوس نکالیں یا جلسہ کریں۔ آرٹیکل17یونین، ایسوسی ایشن اور جماعت کے ذریعے اجتماع کو جائز قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 15 عوام کے جلسے جلوسوں میں آنے جانے اور نقل و حمل کی آزادی کو تحفظ دیتا ہے۔ آرٹیکل 19کے مطابق آزادیِ اظہار رائے اور پریس کی آزادی کی گارنٹی موجود ہے۔ ظاہر ہے کوئی بولنے والا ہوگا تو پریس خبر چھاپے گا ،کوئی جلسے میں جائے گا یا جلوس نکالے گا تو آزادیٔ تقریرکا حق استعمال کر سکے گا۔ لیکن آج جمہوریت کو جس طرح کے ''خطرے‘‘ لاحق ہونے کی پیش گوئی کی جاتی ہے، اُس سے تو یوں لگتا ہے کہ جمہوریت ایک باپردہ لیلیٰ ہے جس کے جلوے صرف مجنوں کے لئے مخصوص ہیں۔۔۔عوام کے روبرو ہونے سے جمہوریت کی ناموس پر آنچ آتی ہے ۔ ایسی جمہوریت کے محافظ جاں نثاروں میں اپوزیشن کے سَرخیل ایک نمبر پر ہیں ! ظاہر ہے کابینہ والے دوسرے نمبر پر، یہ بھی پاکستانی جمہوریت کا عالمی ریکارڈ ہے۔ یہاں اپوزیشن لیڈر حزبِ اختلاف کو سڑکوں پر اختلاف ظاہرکرنے کے حق سے روکنے کا فرمان جاری کر سکتا ہے جبکہ جمہور پسند سرکار اپنے ڈنڈا برداروں کے ذریعے بچوں اور خواتین کے جلوس کو دستور روڈ کے سنگم پرگھسیٹ کر یہ پیغام دیتی ہے ع
جو زباں بولے گی پتھر کی بنا دی جائے گی
سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کے لئے آئین میں درج راستے کنٹینروں سے بند ہیں، ویسے ہی جیسے حکمرانوں کے محلات سے گزرکر غریب بستیوں میں جانے والی سڑکیں رکاوٹوں سے بھر پورہوتی ہیں۔ آج پورے پاکستان کی سڑکوں پر موجود روڈ بلاک اور سپیڈ بریکرکم جبکہ تبدیلی کے آئینی راستوں پر سرمایہ داری، جاگیر داری اور چور بازاری کی رکاوٹیں زیادہ ہیں ۔
66 سال گزرنے کے بعد پاکستانی جمہوریت کی شکل اور تعریف دونوں چین میں پیدا ہونے والے اُس آلو بخارے جیسی ہیں جس میں آڑوکی قلم لگائی گئی ہے ۔۔۔ شکل آلو بخارے کی‘ ذائقہ اور سختی آڑو جیسی۔ مثال کے طور پر مفاہمت اور منافقت بظاہر ہم وزن اور ہم آواز الفاظ ہیں مگر دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ، روشنی اور تاریکی جتنا تضاد۔۔۔ جس طرح جمہوری نازی ازم اور جمہوریت کی تاریخ ایک دوسرے کی ضد ہیں، اسی طرح موجودہ انتخابی، انقلابی اور احتسابی نظام میرٹ اور برابری کے کھلے دشمن ہیں۔ یادش بخیر ، کچھ عشرے پہلے مجھ سمیت الطاف حسین، شیخ رشید، جاوید ہاشمی، فرخ گوئندی، فرید پراچہ، شفیع نقی جامعی، افتخاراحمد، پرویز رشید، جہانگیر بدر، افراسیاب خٹک جیسے مڈل کلاسیئے سیاست کی اُس نرسری سے آگے آئے جسے سٹوڈنٹس یونین کہا جاتا تھا۔ مڈل کلاس کی لیڈر شپ پیدا کرنے والی اس نرسری پر مفادات کی لینڈ مافیا نے بلڈوزر چلا رکھا ہے۔
نودولتیوں کے ٹریکٹروں نے اس ہری بھری فصلِ بہار کی باقیات کو جڑ سے اُکھاڑ دیا ہے۔ غریبوں کی پسلیوں کے پیچھے سے ''پسندے‘‘ نکالنے والے جمہوریت پسند امیرزادوں نے کبھی گولڈن ہینڈ شیک، کبھی نج کاری، کبھی رائٹ سائزنگ کے نام پر مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے لئے بشیر بختیار، مولوی محمد علی، مختار رانا، معراج محمد خان، مہربان ملک، بابائے سوشل ازم شیخ رشید، میجر اسحق جیسے ٹریڈ یونین لیڈر پیدا کرنے والی مزدور تحریک کو مٹی میں ملا دیا۔
سوائے معدودے چند نئے چہروں کے‘ عملی طور پر پاکستان میں کسی طرح کی اصلی تبدیلی کا کوئی راستہ کھلا نہیں رہا۔ جواباً آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن کا آپشن ''عوام‘‘ کے لئے کھلا ہے۔
پارلیمانی انتخابی سسٹم میں سب سے پہلا قدم رکن صوبائی اسمبلی کا الیکشن ہے۔ یہ الیکشن لڑنے کے لئے نہ آرٹیکل 62 کی صلاحیت چاہئے نہ آرٹیکل63کی اہلیت۔ ایم پی اے بننے کے لئے ضروری شرائط نوٹ فرما ئیں۔۔۔۔ ایک عدد اکثریتی برادری ، ماردھاڑ سے بھرپور کن ٹُٹا گروہ ، مرضی کے تھانے دار ، قبضہ کروانے پھر چھڑوانے کا انتظام ، اُوپر کی کمائی کے صرف تین چار کروڑروپے ٹکٹ کی لابنگ کے لئے۔ 5 تا 10کروڑ روپے انتخابی مہم کے دوران اپنی جیب سے گلیاں، نالے، عید گاہ، قبرستان، پُلیاں اورکھیل کے گرائونڈ تعمیر کروانے کے لئے۔ ہر ایم این اے کے حلقے میں صوبائی اسمبلی کے کم از کم دو حلقے آتے ہیں۔ اس خرچ کو ڈبل کریں ، پھر دوسری دفعہ ڈبل کریں توایم این اے کی سیٹ نکالی جا سکتی ہے۔ سینیٹ کے لئے بہت سا فُٹ ورک اور اُس سے زیادہ ڈائننگ ورک۔ کئی باضمیر ووٹرکبھی ضمیرکا سودا نہیں کرتے، شریفانہ طور پر تناول ماحضر پر راضی ہوجاتے ہیں۔
مئی 2013ء کے الیکشن نے تین سوال اُٹھائے۔ پہلا یہ کہ الیکشن کمیشن نے شفاف، فیئر اینڈ فری الیکشن کرانے کی اہلیت ثابت نہیں کی ، دوسرے ریٹرننگ افسروں کا کرداراور تیسرے قومی پارلیمان کے 6ایوانوں میں موجود ہر سیاسی پارٹی کی طرف سے مخالفوں پر دھاندلی، دھونس، جھرلُو اور ٹھپّے کے ذریعے ڈبہ الیکشن جیتنے کا الزام۔ جمہوریت جعلی ہونے کا نعرہ کسی غیر سیاسی اِدارے یا شخص نے نہیں لگایا ، یہ دنگل اور اُس میں ہونے والی مُک مُکا کی نُورا کشتی پارلیمانی پہلوانوں کے درمیان چل رہی ہے۔
یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کس کا الزام کس کے خلاف سچا ہے؟ کون کس پر تہمت اور جھوٹ کا طُومار باندھ رہا ہے؟ کیونکہ الیکشن کے بعد سب نے حصّہ بقدرِ جُثہ شکریہ کے ساتھ وصول کر رکھا ہے اس لئے کون سچا ہے اورکون دروغ گو ، یہ فیصلہ بھی متعلقہ فریق خود کریں، عوام کو امتحان میں نہ ڈالیں۔
ہمارا سیاسی نظامِ گنبد بے در ہے۔ غریب جتنے اخروٹ چاہیں پھینک لیں ، اُوپر تک کچھ نہیں پہنچ سکتا۔ تبدیلی کا راستہ کہاں ہے ، اس کا جواب دو جگہ سے آ سکتا ہے۔ اب شاید وہ دونوں بھی بہت لیٹ ہونے کے موڈ میں نہیں ہیں۔