اگر مگرکالم

رابرٹ فِسک نے مجھے پہلی بار تب بہت متاثرکیا جب گمراہِ زمانہ وِیرٹ گلڈر نے اسلام دشمن دل آزار فلم '' فتنہ ‘‘ بناکراسے انٹرنیٹ پر لوڈکرڈالا۔ الحمدُللہ! اس فتنے کے جواب میں اے ٹی وی فیم عبدالجبار صاحب کے تعاون سے میں نے'' سلام ‘‘ نامی فلم بنائی جو آج بھی انٹرنیٹ پر دیکھی جا رہی ہے۔ قرآن کی حقانیت کے بارے میں اس تحقیقی فلم کا لنک میرے ٹوئٹراکائونٹ BABARAWAN@DRBABARAWAN پرموجود ہے۔ سلام کے لئے رابرٹ فسک نے جو خیالات ریکارڈ کروائے، وہ اسے بڑا آدمی ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں ، ایسا بڑا آدمی جو اپنی تہذیب، کلچر اور مذہبی سیاست کے تضادات پر کھل کر بات کر سکتا ہے۔اگر رابرٹ فسک ہماراکالم نگار ہوتا تو وہ کیا لکھتا، مگر وہ اوّل و آخرگورا ہے، اس لئے نہ رابرٹ فسک ہماری جمہوریت ڈی ریل کر سکتا ہے نہ ہی پارلیمنٹ کو اس سے کوئی خطرہ ہے۔ ویسے بھی شاہراہِ دستور آج کل دستوری سرگرمیوں کے لئے بند ہے؛ البتہ اس کے کونے میں اگرکوئی پارلیمنٹ کا جنگلہ توڑکر سیرکرناچاہے تو وہ آزاد ہے۔
اگر پاکستان کی ریاست قانون کی بالا دستی کی جنگ ہارجائے اورکوئی سرکاری،اشتہاری اکثریتی سیاست جیت جائے توکیا ہوگا؟ کیا ہونا ہے، ہم نے 120کلو میٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ پر چلنے والی گاڑیوں کی موٹر وے کا جنگلہ پھلانگ لیا ہے۔ مگرکیا ہوگا ؟ ایسے میں ' مدعی لاکھ بُرا چاہے توکیا ہوتا ہے‘ ، بھاگ کر روڈ کراس کرتے وقت ' وہی ہوتا ہے جو منظور خُدا ہوتا ہے‘۔ اگر1916ء میں شمالی علاقہ جات کے ضلع دیر سے زمین کے مقدمے کا فیصلہ اٹھانوے سال بعد بھی نہ ہوتا توکیا ہوتا؟ ظاہر ہے ہم ڈھائی سو چپاتیاںچبانے اورکھربوںکا قرض نگل جانے کا ریکارڈ بنانے کے بعد دیوانی مقدمہ سو سال چلانے کا عالمی ریکارڈ بنا دیتے۔ مگر افسوس ! انصاف نے دو سال کی جلد بازی کردی۔ ویسے بھی عوام 65 سال سے جُوتے کے ریٹ میں آلو اور آلو کے بھائو میں چپل کا مزا چکھ رہے ہیں ۔ اُن کی تقدیر بدلنے میں 98 سال کی قلیل مدّت اس صابر و شاکر مخلوق کے حوصلے پست نہیںکر سکتی۔ مگر آنے والے بجٹ میںگندم کی سپورٹ پرائس ختم، زندگی بچانے والی دوائیوں، سرکاری تعلیم، سرکاری ہسپتالوں کی سبسڈی واپس لے لی گئی تو ہو سکتا ہے عوام اپنے پسندیدہ اوردلربا نظام کے لئے خطرہ بن جائیں۔
اگراگلے سال بھی سارا بجٹ سستی روٹی، سستی ٹرانسپورٹ، سستی ہائوسنگ جیسے''نتیجہ خیز‘‘ پراجیکٹس کے پیٹ میں اُترگیا تو پھرکیا ہوگا ؟ خاطر جمع رکھیئے ،پھر وہی ہو گا جو ہر میگا پراجیکٹ مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے ، یعنی پچھلا جنگلہ ہٹائو، پُل گرائو، سڑک تُڑوائو اور نیا میگا پراجیکٹ ایکشن میں لائو۔ مگر پارلیمنٹ خزانہ لُٹتے دیکھ کرغریب عوام کے لئے کیوں نہیں بولتی؟پارلیمنٹ بولے بھی توکیا بولے؟ چاروں صوبوں میں اقتدارکے شیئر ہولڈرز موجود ہیں، ہم ایسے جمہوری نظام کی رعایا ہیں جہاں ساری کی ساری سیٹیں حکومتوںکے پاس ہیں ،اپوزیشن کے بینچ سرکار سے بھی زیادہ سرکاری ہیں۔
اگر پاکستان کی کرکٹ سے سیاست نکال دی جائے تو پھرکیا بچے گا ؟ ظاہر ہے سیاست بچے گی،کرکٹ نکل جائے گی۔ جب تک موجودہ جمہوریت کی قسط چل رہی ہے سیاست سے کرکٹ نہیں نکل سکتی۔ وجہ صاف ظاہر ہے، خود ہی سمجھ جائیں، مگر میں نہیں بتا سکتا۔ اگر سیاست سے کرکٹ نکل گئی توکرکٹ پنکچر ہو جائے گی اوراگرکرکٹ سے سیاست نکل گئی تو سیاست پنکچر۔ ویسے بھی یہ چین سے انجن اور ترکی سے بسیں منگوانے کا موسم ہے، دونوں نہ پنکچر ہوتے ہیں نہ ڈی ریل۔ ہاں، البتہ جہاں تھک جائیں وہاں سواریوںکوخدا حافظ کہہ کر لمبی تان لیتے ہیں۔ مگر ہمارا استنبول والا بڑا گھر لمبی تان کر آرام کرنے کی سب سے خوبصورت اور سکون آور جگہ ہے۔
اگر نون لیگ کو پتا چل ہی گیا ہے کہ موجودہ بحران کے ذمہ دار مشرف کے بالکے ہیں توانہیں چاہیے کہ وہ یہ بات ان وزیروںکو بھی بتا دیں جوکہتے ہیں مُلک میںکوئی بحران نہیں، یوں برسراقتدار نون لیگ اورمحرومِ اختیار نون لیگ کے دونوں دھڑے ایک پیج پر آجائیںگے۔ ویسے بر سبیلِ تذکرہ اگرکوئی پوچھ لے کہ مشرف ڈکٹیٹر شپ کے اَسّی فیصدکارندے کس پارٹی کے ٹکٹ پرآج کل دوبارہ برسراقتدار ہیں تواس کا جواب حکومت نہیں دے گی۔ مگر وہ نون لیگی کارکن جن کی پیٹھ پر ان لوگوں نے نو سال ڈنڈے برسائے وہ یہ شعرگنگناتے پھرتے ہیں جو لاہورکے جیالوں نے گزرے ہوئے پنج سال میں دریافت کیا تھا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ گزرے ایک سال کو دیکھ کر لوگ پانچ سال کو تیزی سے بھول رہے ہیں۔ شعر یہ ہے :
اَسی تے مر گئے، بُھکھے ننگے
ساڈے نالُوں، لوٹے چَنگے
اگر گُرو کے خالصے پارلیمنٹ ہائوس کا جنگلہ نہ توڑتے تو ساری قوم اسی غلط فہمی میں رہتی کہ اسلام آباد والے سیف سٹی کے باسی ہیں۔ اس سے بھی اہم انکشاف یہ ہوا کہ پارلیمنٹ کا جنگلہ ناکارہ اور بوسیدہ ہے جِسے دو بوڑھے سرداروں نے لات مُکّے مارکرگرا دیا۔گورے کہتے ہیں، ہر تباہی سے نیا چانس نکل آتا ہے۔ لوہے کی فائونڈری چلانے والوں کو اس اتفاقی حادثے پر مبارکباد ! اگر انتخابی دھاندلی پر احتجاج کرنے والے الیکشن کمیشن پہنچ جاتے تو جمہوریت خطرے میں پڑجاتی۔ ہماری جمہوریت میں پارلیمنٹ کی قدر اتنی ہے جتنی گندم اور مکئی اُگانے والے گائوں میں خلیفہ جی کی جن سے سال بھر حجامت بنوائی جاتی ہے، سال کے بعد فصل اُٹھاتے وقت کہا جاتا ہے: خلیفہ جی ڈیرے پر آنا وہیں آپ کی ''خدمت‘‘ کروں گا۔ مگر پارلیمنٹ تو پھر بھی بچ گئی۔ اگلی دفعہ کون کہاں سے آئے گا اورکس کس کو لے جائے گا اس کا فیصلہ شہراِقتدارکے درودیوار پر لکھا ہے۔ اگرکوئی دھاندلی ثابت کر دے تو ہماری اسمبلی سے کوئی بھی نہیں نکلے گا کیونکہ اسمبلی سے نکل جانے کے بعد ہو سکتا ہے اگلا الیکشن شفاف ہوجائے۔ اگر مڈ ٹرم میں آرٹیکل 62/63چھاگیا تو پھر اُن کا کیا بنے گا جو جھرلُو ٹھپّے کے بغیر الیکشن کو شفاف مانتے ہی نہیں۔ مگر بھارت کے الیکشن سے ثابت ہوگیا کہ الیکشن دھاندلی کے بغیر بھی ہو سکتاہے۔ اگر موجودہ جمہوریت اسی طرح لیپ ٹاپ بانٹتی، ای ـگورننس پر زور دیتی رہی تو یہ شدید خطرہ موجود ہے کہ لوگ ووٹرکی شناخت کے لئے بائیو میٹرک جبکہ الیکشن کی پرچی پر الیکٹرانک مشین سے نشان لگانے کا مطالبہ کردیں۔ کسی کو شک وَک نہیں ہونا چاہیے، ایسے مطالبات کا آئیڈیا دینے والے جمہوریت کے دشمن ہیں، وہ عوام کی ترقی نہیں چاہتے نہ ہی ملک کو ایشیئن ٹائیگرکے کاسٹیوم میں دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ اگر اسلام آباد کا ریڈ زون یعنی سرخ لائٹوں والا علاقہ نہ ہو تو پاکستان کے مالکان کس سیکٹر میں رہیں۔ ہر سیکٹر میں ہرکوئی رہتا ہے۔ ریڈ زون میں صرف وہی رہ سکتا ہے جس کا ہاتھ اور منہ سرخ ہو۔ جمہوریت کے دشمن سرخی کو خون کی پیدا وار سمجھتے ہیں مگر ہماری سب سے بڑی پیداوار سٹیٹ بینک کی ٹیکسال سے نکلتی ہے جہاں ایک تولہ سونا رکھ کر دو ٹرک نوٹ چھاپے جاتے ہیں۔ مگر ان نوٹوںکا تھیلا بھرکر بازار جائیں تو واپسی پرادرک، ٹماٹر،گھی اور مرچ کا تھیلا نوٹوں کے تھیلے سے ہلکا کیوں لگتا ہے؟ اگر ہم محبِ وطن ہیں تو آئو پاکستانی کرنسی سے پیار کریں ۔ جو زیادہ پیارکرتے ہیں وہ اسے برازیل، استنبول، لندن، دوبئی، قطر، سوئٹزرلینڈ، سعودی عرب، آئیل آف مین اور مشرقی یورپ لے جانا زیادہ پسند کرتے ہیں تاکہ اسے ڈالر، پائونڈ، یورو اور ریال کا چُغہ پہناکر جمہوری بنایا جا سکے۔ عوام کی ہر ''اگر‘‘ حکومت کی ہر ''مگر‘‘ کے سامنے ہار جاتی ہے۔ 'اگر‘ یقین نہ آئے تو 'مگر‘ پر یقین کرنے میں دن ہی کتنے باقی ہیں؟ مولا جٹ کا بڑا بھائی 'ب جٹ‘ عرف بجٹ آ رہا ہے، گنڈاسہ ساتھ لے کر! 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں