بھارت میں شُدّھی سنگھٹن کے بعد اب پچھلے مہینے ہندوتوا کی حکومت قائم ہو چکی ہے لیکن 28 مئی کو آبپارہ چوک میں جماعت الدعوۃ کے سیمینار کے ہزاروں شرکا سے میں نے یہ کہا ''جس طرح ہندوستان کا سیکولر آئین فرقہ پرست مودی کو جدید بھارت کا بادشاہ بننے سے نہیں روک سکا‘ اسی طرح آرٹیکل 370 کو تبدیل کرنے سے کشمیریوں کی آزادی کا سفر نہیں رُک سکت‘‘۔ میری تقریر کے رپورٹ شدہ اقتباس کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی ہندو انتہا پسندی کے ووٹ نے دو فوری نتیجے نکال دیے۔
پہلا نتیجہ: پُونے میں مسلم نوجوان کو ہندو انتہا پرست لشکریوں نے دو جرائم پر بازار میں سزائے موت دے ڈالی۔ جرائم یہ تھے کہ نوجوان نے سر پر ٹوپی اور چہرے پر داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انتہا پسندوں کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر بال ٹھاکرے کے کارٹون سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ دوسرا واقعہ سننے سے پہلے آئیے 1887ء کے تخت لاہور چلتے ہیں۔ یہ سفر رائے بہادر کنہیا لال ایگزیکٹو انجینئر لاہور کے ساتھ طے ہو گا‘ جو تاریخِ پنجاب شائع شدہ سال 1887ء کے مصنف ہیں۔ کتاب کے باب نمبر ایک صفحہ نمبر25 پر کنہیا لال نے لکھا ہے: ''جب محمود غزنوی پنجاب کے راستے ہند پر حملہ آور ہوا‘ تب لاہور کا حکمران راجہ جے پال تھا‘ جس نے سبکتگین اور محمود کے ساتھ دو لڑائیاں لڑیں مگر ہار گیا۔ تب سے چغتائی سلطنت کے آخر تک آٹھ سو سال پنجاب مسلمانوں کے زیرِ تسلط رہا۔ زیادہ تر دہلی کے ذریعے۔ احمد شاہ بادشاہ کابل نے لشکرِ جرّار سے سکھوں پر سات حملے کیے مگر پنجاب کو زیرِ انتظام نہ لا سکا۔ احمد شاہ کی موت کے بعد سکھ قوم کی مثلیں 12 قرار پائیں‘ جس کے بارہ حاکم اور بارہ حکومتیں تھیں۔ آخر سکر چکریوں کی نسل سے مہاراجہ رنجیت سنگھ ایسا صاحبِ نصیب پیدا ہوا کہ تمام پنجاب پر اس نے حکومت قائم کر لی۔ باقی سب مغلوب ہوئے۔ رنجیت سنگھ 1792ء میں بارہ سال کی عمر میں والد مہان سنگھ کی ریاست کا والی بنا‘‘۔
اب آئیے 6جون 2014ء دربار صاحب امرتسر میں ہونے والے واقعہ کی طرف جس کے نتیجے میں بین الاقوامی پریس نے ایک بار پھر خالصتان کی آزادی کی بحث چھیڑی۔ ایک رپورٹ کے مطابق تیس سال پہلے گولڈن ٹیمپل کے خلاف بھارت کے فوجی ایکشن میں مرنے والے سکھوں کی یاد منائی گئی۔ جمعرات کے روز Land of Pure 'آزاد خالصتان‘ کے حامیوں نے امرتسر کی شاہراہوں پر پریڈ نما جلوس نکالے۔
اسی روز گولڈن ٹیمپل میں 1984ء کے آپریشن "Blue Star" کے دوران بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے گئے سکھوں کی یاد میں جلسہ منعقد ہوا۔ بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق اکالی دل کے حامیوں نے 'آزاد خالصتان‘ کے حق میں نعرے لگائے، تقریر کی کوشش بھی کی‘ جس پر تلواریں نیام سے باہر آ گئیں۔ دس افراد زخمی ہوئے۔ خالصتان ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سُرخیوں میں آ گیا۔ خالصتان کے حامیوں کے چالیس سال پرانے زخم پھر سے تازہ ہو گئے۔
تاریخ بتاتی ہے جو تلوار کے زور پر جیتے ہیں‘ وہ تلوار سے ہی دفنائے جاتے ہیں۔ مودی حکومت کے قیام کے بعد بھارت کی دونوں بڑی اقلیتیں‘ 35 کروڑ مسلمان اور5 کروڑ سے زائد سکھ‘ اپنے تحفظ، شناخت اور بقا کے لیے فکرمند ہیں۔ بھارت پاکستان کے چند مہربانوں کے ذریعے پُرامن واہگہ کی خواہش کا ناٹک کرتا ہے۔ وہی بھارت افغانستان سے بموں کے کھلونے بلاناغہ ہماری سرزمین پر بھجواتا ہے۔ بھارتی یونین کے اندر تیس سے زائد علیحدگی یا آزادی کے لیے لڑنے والے مسلح گروہ برسرِ پیکار ہیں‘ لیکن گولڈن ٹیمپل نے 'آزاد خالصتان‘ کی مہم کے لیے مرکزی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اسی وجہ سے کل سے بھارت کا حکومتی میڈیا اور سرکاری دانش ور کہہ رہے ہیں کہ پنجاب 'لینڈ لاک‘ صوبہ ہے‘ اس لیے اپنی جغرافیائی اہمیت کے باوجود آزاد خالصتان خواب ہی رہے گا۔ دوسری جانب 1947ء میں سکھ لیڈروں نے جو غلطی کی اُس کی وجہ سے وہ آزاد وطن سے محروم رہ گئے اور پچھتاوا اُن کا مقدر بن گیا؛ چنانچہ اب سکھ تاریخ بدل گئی ہے مثلاً 31 اکتوبر 1984ء کو امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں بھارتی بوٹ گھسنے کے بعد محض دنوں کے اندر وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے دو باڈی گارڈز ستونت سنگھ اور بے انت سنگھ نے خالصتان کے لیے مرنے والوں کا بدلہ لیتے ہوئے انہیں نئی دہلی کی سرکاری رہائش گاہ کے اندر مار ڈالا تھا۔
پنجاب کے مرکز نواز وزیرِ اعلیٰ بے انت سنگھ کو سرکاری دفتر میں قتل کردیا گیا۔ اس قتل کا ملزم بلونت سنگھ رجوانہ اب بھی زندہ ہے اور تقریباً تیس سال سے پھانسی کی کوٹھڑی میں سزائے موت کا منتظر بھی۔ بھارتی عدلیہ نے افضل گرو کو محض اس لیے پھندے سے لٹکا دیا کہ وہ اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنا چاہتی تھی اور مشکوک شناخت والے اجمل قصاب کو اس لیے موت کی سزا سنا دی کہ رِٹ آف سٹیٹ کی بحالی ضروری تھی۔ وہی بھارتی عدلیہ اور انتظامیہ بلونت سنگھ رجوانہ کے بلیک وارنٹ آٹھ سے زیادہ مرتبہ جاری کرنے کے باوجود اُسے پھانسی گھاٹ تک نہ لے جا سکی۔ اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ جونہی بلونت سنگھ کی پھانسی کی تاریخ دی جاتی ہے‘ پورے بھارت کے سکھ احتجاج کے لیے نکل آتے ہیں۔ ایک حقیقت اور بھی ہے جس سے بھارت کی مودی سرکار نظریں نہیں چرا سکتی۔ وہ یہ کہ پنجاب لینڈ لاک نہیں۔ اگرچہ بھارت نے پنجاب کے چار ٹکڑے کر رکھے ہیں‘ اس کے باوجود اس کی سرحدیں بھارتی مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔
افغانستان خود مختار مُلک کی حیثیت سے تمام تر تلخیوں، وحشت گری اور مداخلتوں کے باوجود پاکستان سے ٹریڈ راہداری حاصل کر سکتا ہے تو ایسے میں اگر 'آزاد خالصتان‘ ایک خود مختار ریاست ہو تو اُس کے لیے راہداری حاصل کرنا کیسے مشکل ہو گا؟ ویسے بھی بھارت میں تقریباً دہلی تک پنجاب ہی ہے۔ پھر بھی یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کا سارا ٹریڈ وہیں سے چلتا ہے‘ جسے ہندوتوا والے 'آزاد خالصتان‘ کا نام سُن کر لینڈلاک پنجاب کہہ رہے ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس اور دوستی بس بھی اسی ''نام نہاد لینڈلاک‘‘ میں دونوں طرف کے پنجاب کے اندر ہی چلتی ہیں۔
امرتسر میں سَر یعنی پانی کو امرت کی بجائے سکھوں کے لہو میں تبدیل کرنے کا واقعہ سکھ کیسے بھلا سکتے ہیں‘ جو جلیانوالہ باغ کا سانحہ نہیں بھولے۔ جسے شک ہو وہ جنرل ڈائر کے مقدمہ قتل میں جلیانوالہ باغ کے مقتولوں کے ہیرو اودم سنگھ کا عدالتی بیان پڑھ لے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کہتی ہے کہ خالصتان تحریک برطانیہ، کینیڈا، یورپ اور امریکہ جیسے خِطّوں میں آج بھی منظم اور موجود ہے۔ ویسے بھی تحریکوں کو نہ کوئی فہرست مار سکتی ہے نہ کوئی بندوق۔ خاص طور پر وہ تحریکیں جن کی آبیاری خون سے کی جائے۔
اجنالہ اور کشمیر ایسے ہی ہیں جیسے پنڈی اور اسلام آباد۔ اگر مودی سرکار نے تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے اکھنڈ بھارت کا جغرافیہ ڈھونڈنا بند نہ کیا تو ہماری دوستی اور ساڑھی دونوں اس کے کام نہیں آ سکتے۔ بھارت کے آئین کا آرٹیکل 370 کٹھ پُتلی کشمیری لیڈروں اور رہنمائوں کو بھارت سے جوڑے رکھتا ہے۔ اگر یہ آرٹیکل ختم ہو گیا تو کٹھ پُتلیوں کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی آئینی پُتلی بھی ٹوٹ جائے گی۔ مِٹ جانے کا خوف اقلیتوں کو متحد تو کرتا ہے تقسیم نہیں۔ قانون و سیاست کے طالب علموں کے لیے یہ آرٹیکل نیچے درج ہے۔
370: Temporary provisions with respect to the State of Jammu and Kashmir
(1) those matters in the Union List and the Concurrent List which, in consultation with the Government of the State, are declared by the President to correspond to matters specified in the Instrument of Accession governing the accession of the State to the Dominian of India as the matters with respect to which the Dominian Legislature may make laws for that State.