کِیتی حد ہَنیراں دی

شیرِ پنجاب کے الفاظ پہلوانوں کے اکھاڑے میں دریافت ہوئے تھے۔ جس کی تاریخ بہت قدیم ہے لیکن 1970ء کے عشرے میں شیرِ پنجاب سیاسی اکھاڑے میں اُتر آیا۔ جن دنوں فیڈریشن کی سب سے بڑی پارٹی اپنی طاقت کے سر چشمہ یعنی عوام کے پاس دلیرانہ پہنچا کرتی تھی‘ تب امورِ داخلہ کے سابق وزیرِ مملکت تسنیم قریشی نے سرگودھا میں ایک زوردار جلسہ کرایا۔ آخری تقریر میری تھی‘ جس کے دوران سرگودھا سٹی کے پُر خلوص اور پُرجوش جیالوں نے شیرِ پنجاب کا نعرہ بلند کر دیا۔ میں نے ان کی محبت کا شکریہ ادا کرکے کہا‘ میں اشرف المخلوقات ہوں اور ویسے بھی کہاں سے خونخوار لگتا ہوں۔ ماڈل ٹائون لاہور کی سیاسی قتل گاہ‘ جلیانوالہ باغ امرتسر کے بعد پنجاب کا وہ دوسرا خونی میدان ہے جہاں نہتی اور پُرامن بیٹیوںکو سرکاری بندوق سے اُن کے محافظ شیر جوانوں نے قتل کر دیا۔ شفقت تنویرمرزا لکھتے ہیں ''جلیانوالہ باغ کا منظر دیکھ کر اقبال رو پڑے جبکہ ظفر علی خان نے دھاڑیں ماریں‘‘۔ 
امرتا پریتم نے بے گناہوں اور بے نوائوں کا خون دیکھ کر وارث شاہ کو یوں پکارا تھا:
اج آکھاں وارث شاہ نوں، کِتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا، کوئی اگلا ورقہ پھول
اِک روئی سی دِھی پنجاب دی، توں لِکھ لِکھ مارے وین
اَج لَکھّاں دِھیاں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کہن
اَج بِیلے لاشاں وچھیاں، تے لہو دی بھری چناب...
حبیب جالب کا نوحہ یہ ہے: 
جاگ مرے پنجاب کہ پاکستان چلا
ٹوٹ چلے سب خواب کہ پاکستان چلا
افسردہ غزلیں، گریاں افسانے ہیں
حدِ نظر تک پھیلے ہوئے ویرانے ہیں
دریا ہوئے سراب کہ پاکستان چلا 
تختِ لاہور کا سرکاری اعزاز یافتہ شیرِ لاہور گلو بٹ‘ تیسرے درجے کا سرکاری ملازم بھی ہے۔ اس کا دوسرا ہمراہی شیر وہ وردی والا ایس پی ہے جس نے ثابت کیا کہ پنجاب پولیس کی قیادت مشتاق سکھیرا کرے یا کوئی اور اصل اختیارات شیرِ لاہور کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ شیرِ لاہور نے دو بیٹیاں اور چھ بیٹے کھانے کے بعد وہی کیا جو مگر مچھ شکار منہ میں آ جانے کے بعد کرتا ہے۔ ''ڈانس آف ڈیتھ‘‘ موت کا رقص یا رقصِ ابلیس۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ڈانس پارٹنر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس ڈانس کا دوسرا پارٹنر وہ وردی والا شیر ہے جس نے رقصِ ابلیس کے بعد اسے سینے سے لگایا اور شاباش دی ۔ لاہور کے کرائم رپورٹروں اور اخباری ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق شیرِ لاہور کو 15000روپے نقد سکہ رائج الوقت کے انعام سے بھی نوازا گیا۔ پنجاب کی سرکار کہتی ہے انصاف ہوگا اور ضرور ہوگا۔ مجھے بھی یقین ہے کہ انصاف ضرور ہوگا اور انصاف ہونے میں صرف چند دن ہی لگیں گے۔ وکالت نامہ پڑھنے والے لکھ کر رکھ لیں۔ صرف چندروز بعد‘ اُس وقت انصاف ہوتا نظر آئے گا جب شیرِ لاہور باوردی شیر کی مدد سے جھوٹے الزامات سے رہا ہو کر کیمروں کے سامنے وکٹری کا نشان بنا رہا ہو گا۔ اس کا بندوبست گرفتاری سے پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اسی سرکار نے اپنی مُدعیت میں تین ہزار لاہوریوں پر دہشت گردی کا مقدمہ بنا کر نامزد اور نا معلوم شیروں کو ریلیف دے دیا ہے۔ کل رات سے شیر جوان‘ 56 ''اصلی تے وڈّے‘‘ ملزم پکڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ لاہوریوں کو مبارک ہو‘ اگر وہ اپنا کوئی حاسد‘ دشمن یا مخالف گرفتار کرانا چاہیں تو ابھی 2944ملزموں کی اسامیاں خالی ہیں۔ کسی کے خلاف بھی دہشت گردی کا مقدمہ محض چند سو یا چند ہزار کے عوض صرف شک کی بنا پربنایا جا سکتا ہے۔
لاہور کے وہ وکلاء جنہوں نے سانحہ ماڈل ٹائون پر غیرت مندی کے ساتھ مکمل ہڑتال کی‘ کہتے ہیں ہمیں یقین ہو گیا ہے‘ موجودہ جمہوریت عوام کی خادم ہے۔ جسے یقین نہ آئے وہ گلو بٹ یا اسے گلے لگانے والے ایس پی میں سے کسی ایک شیر سے پوچھ لے۔ اب تو لوگ اسحٰق ڈار صاحب کے بجٹ والے زخم چاٹنا بھول گئے ہیں۔ اس انسانی حقوق کی پاسداری اور تھانہ کلچر کی مکمل تبدیلی جیسے انقلابی اقدامات کے بعد پوری قوم کو عام طور پر اور لاہور کے رپورٹروں کو خاص طور پر معلوم ہے کہ یہ واردات کیسے ہوئی ۔ وہ انتہائی جرأت مندی سے واردات کے سارے پہلو اور ملزم سامنے لا رہے ہیں۔ مگر بارہ کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے کے برطانوی گورنر، افسانوی صدر اور عوامی وزیرِ اعظم سمیت پنجاب کے لیے دن رات جاگ کر حکومت کرنے والے خادمِ صاحب کو ابھی تک کچھ باتوں کا پتا ہی نہیں چل سکا۔ مثال کے طور پر: 
1۔ عدالتی کمیشن جو خود پنجاب سرکار نے بنایا اس کے پہلے اجلاس سے پہلے تین ہزار شہریوں کے خلاف پرچہ درج کر کے کمیشن پر کس نے عدم اعتماد کیا؟
2۔گولی چلانے کا حکم رقصِ ابلیس کرنے والے شیروں نے دیا اگر نہیں تو پھر کس نے؟
3۔آپریشن میں جدید ترین اسلحہ‘ بکتر بند گاڑیاں‘ ڈی آئی جی پولیس، تمام ڈویژنل ایس پیز‘ کوئک ریسپانس فورس‘ ایلیٹ کمانڈوز اور ماہر نشانہ بازسنائپرز جیسی انسدادِ دہشت گردی کی فورسز کو کس نے دس مرلہ کے گھر کی تجاوزات گرانے کے لیے جمع کیا؟
4۔مردانہ پولیس کے ذریعے حجاب اور دوپٹے کھینچ کر عفت مآب خواتین کو سڑکوں پر کون گھسیٹتا رہا؟
معصوم بچوں کو بے رحمی سے پیٹا گیا۔ ایک نوجوان بچہ شہید بھی ہوا۔مونچھوں والے داڑھی والوں کو تلاش کر کے رقصِ ابلیس کا شکار بناتے رہے۔ میڈیا کو سی سی پی او نے کہا‘ پولیس اہلکار مظاہرین کی فائرنگ سے مارے گئے۔ ان مارے گئے شیر جوانوں کی لا شیں اُٹھ کر کہاں بھاگ گئیں؟
سرکار کے خلاف عوام کی ہر جدوجہد میں پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹائون میں بیٹیوں، بیٹوں اور بزرگوں کے قتل سے پہلے سچ کا قتلِ عام کیا گیا۔ فیلڈ رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کو سلام‘ جنہوں نے جھوٹ بولنے والوں کا ہر مرحلے پر منہ کالا اور سچ کا بول بالا کیا۔ اس وقت ڈیڑھ پونے دو تجزیہ گردوں کو چھوڑ کر جوویلیو ایڈڈ سروس فراہم کرنے کے لیے مشہور ہیں اور آج کل مظاہرین کی جیبوں سے ہتھیار برآمد کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ باقی میڈیا کو سلام۔ دوسری جانب اگر صوبے کی ساری حکومت اور بلوچستان میں احترام کمانے والے مشتاق سکھیرا کو بھی معلوم نہیں کہ موت کا رقص کہاں پلان ہوا‘ کہاں سجایا گیا اور اس کے کردار کون ہیں تو پھر اس ملک کے عوام کا فقط اللہ ہی حافظ رہ گیا ہے۔ پولیس سیاسی، عسکری ونگ بن چکی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو موجودہ نظام کے دو بڑے شیر اپنی پنجرہ نما سرکاری رہائش گاہوں اور کنٹینر نما گاڑیوں کی حفاظت کے لیے اپنی ماتحت پولیس پر عدم اعتماد کر کے فوج کے کمانڈوز کا تحفظ نہ مانگتے۔
لاہور کے ایک دکھیا پنجابی شاعر نے اندھیر نگری اور چوپٹ راج پر کمال کر دیا ہے۔ آپ بھی سُنیئے۔
کہندے سن خوشحالی آسی،
ہر مُکھڑے تے لالی آسی،
رونق اُڈ گئی چہراں دی... 
گیس کوئی نیئں، بتی کوئی نئیں،
فکر انہاں نوں رَتّی کوئی نئیں،
کیتی حد ہنیراں دی...
ٹیکس روزانہ تُنی جاندے،
گنجے نُوں وی مُنّی جاندے،
جرأت ویکھ دلیراں دی...
ڈیزل تے پٹرول وی مہنگے،
آٹا چینی چَول وی مہنگے،
ماچس ہو گئی تیراں دی
جیوے جوڑی شیراں دی

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں