رچرڈ شیر دل8 ستمبر 1157 عیسوی کو پیدا ہوا۔ رومن کیتھولک مذہب سے تعلق رکھنے والے انگلستان کے بادشاہ نے مغرب اور مسلم تہذیبوںکے اوّلین تصادم میں مسلم زمینوں پر زوردار چڑھائی کی۔ اس حملے کے ساتھ ہی غازی سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی تلوار نے تہذیبوںکے تصادم کی پہلی قسط کو عربستان کے ریگزاروں میںدفنا دیا۔
بادشاہ رچرڈ Lion Heartکے بعد چکن ہارٹ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش جونیئر نے نئے ملینیم میں مسلم تہذیب کے ساتھ مغرب کے تیسرے بڑے تصادم کا آغاز کیا۔ حملہ آور سے کوئی شکا یت نہیں ہو سکتی نہ استعماراورجارحیت دلیل یا معقولیت کی زبان سُنتے ہیں۔ ظاہر ہے جارج جیسی ذہنیت سے شکایت ایسے ہی ہے جیسے کوئی شیطان کے چیلے سے رہنمائی کی فرمائش کرڈالے۔ لیکن یہ طے شدہ تلخ حقیقت ہے کہ تہذیبوں کے نئے تصادم میں سوائے تین چارکے مسلم دنیامیں باقی حکمران''چُوزہ دِل‘‘ ثابت ہوئے۔ اپنی رعایا پر قہراورجبروت کا پہاڑ توڑنے والے یہ لیڈر بش کے بیٹے کی ایک فون کال پر اورکہیں اس کے ادنیٰ اہلکاروںکی دھمکی پرڈھیر ہوکر مسلم تہذیب کا مقدمہ لڑنے سے دستبردار ہوگئے۔ ان میں سے اکثر اپنی اُ مّہ کی عزت دے کر جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ جنہوں نے عالمی استعمار کے سامنے گیدڑوالی سو سالہ زندگی گزارنا پسند نہ کیا وہ حقیقی شیرکی طرح لڑکر قیامت تک اپنی قوم کے ہیرو بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی قبروںاورمقبروں پرجانے والے بے لوث عاشق، مقدمات اورگرفتاریوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ان مردانِ جفا کیش نے عالمی بارود کے سامنے کہیں چھاتیاں پیش کیں اورکہیں خاندان قربان کر دیئے۔ روایت اور بادشاہت کے باغی بُلھے شاہ نے ایسے ہی جری مردوں کے لیے کہہ رکھا ہے :
بُلھے شاہ، اساں مرناں ناہیں
گور پیا کوئی ہور۔۔۔۔۔
مغرب اور مشرق کی تہذیبوںکے درمیان تصادم کے کئی دور ہوئے، لیکن مسلم تہذیب کو بطور تہذیب خطرہ جان کر ایوبی کی فتوحات کے بعد دوسرا تصادم دوسری جنگِ عظیم کے بطن سے پیدا ہوا۔ اسی تصادم نے خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کیا اور تہذیبوں کے تیسرے تصادم کا بیج بویا جس کا نام اسرائیل ہے۔ مسلم فلسطین کو تب بلادالشام کہا جاتاتھا۔ وہاں کروڑوںسالوں سے اُگے ہوئے زیتون کے درختوںکا قتلِ عام کرکے ناجائز بستیاں بسانے کے بعد ''Sons of soil‘‘ یعنی فرزندانِ فلسطین کے روزانہ قتلِ عام کا بازار سجا یا گیا جو تازہ رمضان میں بھی ایک فلسطینی بچے کے خون سے سیراب ہوا۔ یہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے قبلۂ اوّل اور نبیٔ آخرالزمانﷺ کی شبِ اسراء کی اہم منزل بیت المقدس کو1967ء میں تل ابیب کے بجائے مقبوضہ شہر سے اسرائیل کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔کون نہیں جانتا جو شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے وہ اللہ کا کلام، قرآن پڑھتا ہے۔ اس میں معراج مصطفیﷺکے سفرکا تذکرہ مسجدِ اقصیٰ کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو سکتا، اس لیے مسلم تہذیب اور مغرب کے درمیان تصادم کی اصل بنیاد یہی ہے۔ اس جذباتی نہیں بلکہ مذہبی مسئلے کو پسِ پُشت ڈال کر مشرقِ وسطیٰ، عربی افریقہ یا پاک افغان سیاست کو تہذیبوں کے تیسرے تصادم کا محرک کسی طرح بھی نہیںکہا جاسکتا۔ ہاں البتہ اب کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہا کہ یہ علاقے اس تصادم کی پراکسی جنگ کے میدان ضروربن چکے ہیں۔
یہاں پاک بھارت تعلقات کا حوالہ ضروری نکتہ ہے۔ دودن پہلے بھارت کے مُوڈی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا۔کٹھ پتلی وزیراعلیٰ اور بھارتی وزیرِ اعظم کی ملاقات کی تصویر بھی جاری ہوئی۔ تصویر میں بھارتی وزیرِ اعظم ہاتھ جوڑے مگر اکڑ کرکھڑے ہیں جبکہ عمر عبد اللہ نے بھی پرنام کے انداز میں ہاتھ جوڑ رکھے ہیں لیکن اس کٹھ پتلی کی کمر اورگردن میں خم دیکھا جا سکتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے کہا وہ کشمیرکو بھارت میں ضم کرنے کا خواب پورا کرنے آئے ہیں۔ اس کا جواب انہیں آمد والے دن ہی مل گیا جب راجوڑی سے سری نگر تک کشمیرکی تاریخ کی مکمل ترین شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال ہوئی؛ حالانکہ ہر آمریت کی طرح بھارت نے کشمیر میں جاری رکھی ہوئی جمہوری نازی ازم کی پالیسی کے عین مطابق تمام کشمیری لیڈروں کو پہلے ہی نظر بند کر لیا تھا۔ اب اگر پاکستانی یا بھارتی وزیرِ اعظم مسئلہ کشمیر کے اصل فریق بھارت کے زیرِ قبضہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی رائے پسِ پشت ڈال کر مسئلہ کشمیر کا کوئی حل تراش رہے ہیں تو اس کا مستقبل بھی مغل شہنشاہ، شاہ جہان کے تاج محل جیسا ہوگا جس کی تعمیر میں شاہ جہان کے خواب شامل تھے لیکن اس پر بادشاہی اورنگزیب عالمگیر نے کی تھی۔
اسی طرح کا خواب لے کر مغرب کے جونیئر بش اور ٹونی بلیئر جیسے لیڈروں نے مسلم زمینوں کو تاراج کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی بنیاد دو اصولوں پر رکھی گئی۔۔۔۔اوّل، ایسے مسلم ممالک کو برباد کیا جائے جن کے پاس لڑنے والی مسلح فوج اور متحد قوم ہے۔ وہ مسلمان ملک جن میں بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں کو بینڈ باجے والاگارڈ آف آنر پیش کرنے والی نمائشی فوج تھی انہیں اس لسٹ سے باہر رکھا گیا۔ چنانچہ اسرائیل کے خلاف جنگِ رمضان جیتنے والی مصری فوج، اٹلی کے ڈکٹیٹر بن نیٹو مسولینی سے ٹریپولی اور بن غازی کو آزاد کرانے والی لیبیا کی فوج۔ جولان کی پہاڑیوں میں اسرائیل کا راستہ روکنے والی شامی فوج۔ فرانس سے مسلح جنگ کرکے الجزائرکو آزادی دلانے والی الجیری فوج اور حبیب بورقیبہ کی قیادت میں تیونس کو استعمار سے چھڑانے والی تیونسی فوج نشانے پر رکھی گئی۔ حکمرانوں اور بعض منیجروں کی بزدلی اورکاروباری سوچ کے باوجود اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاک فوج منظم اور ڈسپلن کی پابند ہے، اس لیے پاکستان میں تہذیبوں کے تیسرے عالمی تصادم کے لیے ایفروعرب قسم کی نقب نہیں لگائی جا سکی۔
آج تاریخ کا دھارا پلٹ رہا ہے۔ امریکہ میں سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے بجائے دماغ استعمال کرنے والے پالیسی ساز عرب سپرنگ اوراُم الحرب میں اپنی شکست کا فراخ دلی کے ساتھ کھلا اعتراف کر رہے ہیں، اس لیے امریکہ اور اتحادی اپنے جنگی ایڈونچرازم پر شرمندہ لگتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مسلم لیڈر جنہوں نے او آئی سی اور عرب لیگ کے رکن ملکوں کے خلاف مغرب کے اعلانِ جنگ کو جائز اور درست قرار دیا پھراچھے یا برے عرب سربراہوں کو ان کی اپنی زمینوں پر قتل کرنے اور پھانسی پر لٹکانے کی تعریف کی، آج ایک بار پھر امریکہ ، فرانس اور مغرب سے کرائے کے فوجی ڈھونڈھ رہے ہیں۔
قارئینِ وکالت نامہ ! اگر آپ اس ڈرامے کے سارے کرداروں کو چلتے پھرتے دیکھنا چاہتے ہیں، اس کے ڈائریکٹر، پروڈیوسر اوررائٹر سے تعارف چاہتے ہیں تو آپ''یارسلوو‘‘ کی کتاب ''Siege of Macca‘‘ضرور پڑھیں۔ کتاب 1979ء میں شروع ہونے والی ایک ادھوری بغاوت سے پردہ اُٹھاتی ہے جس کی قیادت عتیبی قبیلے کے نوجوان جُہیمان العتیبی نے کی تھی۔ عتیبی اوراُس کے ساتھیوںکو سعودی عرب میں موت کی سزا ملی، لیکن جس نظریے کو پروان چڑھانے کے لیے بعض عرب لیڈروں نے مخالفوںکے خیموںکو آگ لگاکر صحرا میں روشنی کا بندوبست کیا آج اس آگ سے ان کے اپنے خیموں کی طنابیں خاک ہو رہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں نئے ملکوں کے خد وخال واضح ہیں۔
تہذیبوںکے تصادم کا آخری منظر جتناخون آشام ہے اتنا ہی دل چسپ بھی ہے۔ اس منظرکو ٹالا نہیں جا سکتا نہ ہی اسے کسی کلی میں ڈالا جا سکتا ہے کیونکہ وہ خلافت جِسے دوسری جنگِ عظیم نے توڑا تھا تہذیبوںکے تصادم کی تیسری قسط نے اسے پھر جنم دیا ہے۔ مشہور عرب عسکری شاعر نے ایسی ہی المیہ داستان پر جوکہا اُس کا بہترین ترجمہ یہ ہے:
تم نے ہی کاٹے تھے میرے ہاتھ پچھلی جنگ میں
اب ترے بازو کٹیں تو میں مدد کیسے کروں