چیف جسٹس ناصر الملک کے خیالات اور آئین

سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کو خدا حافظ کہنے کے لیے منعقدہ ریفرنس میں چیف جسٹس ناصر الملک نے پتے کی بات کہی‘ جو یہ ہے۔ــ ''ملک میں آئین اور قانون کی بالا دستی کے لیے اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ گُڈ گورننس قانون پر عملدر آمد سے آئے گی۔آئین میں ریاستی ستونوں کے اختیارات واضح ہیں۔ ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہ کی جائے۔ آزاد عدلیہ وقت کی ضرورت ہے۔عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کے غیر آئینی اقدامات پر نظرِ ثانی کا اختیار رکھتی ہے۔ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ کو مضبوط بنانا ہو گا۔ادارے آئینی حدود میں نہ رہیں تو عدلیہ مداخلت کر سکتی ہے‘‘۔ 
چیف جسٹس ناصر الملک آئین کی زبان بولے۔ ان سے پہلے جسٹس جیلانی نے عدالتی نظام کو بڑی حد تک میڈیا ڈائیلاگ سے نکال کر نظر انداز شدہ سائلوں کے غم دور کرنے کی جانب موڑ دیا۔ عوام سے انصاف کی اس آزادی کے نتیجے میں فرمائشی پٹیشنوں والے مخصوص وکیل اور وکیلوں سے بھی پہلے صبح سویرے عدالتی کرسیوں پر قبضہ جمانے والے پیارے رپورٹرز کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ مل گئی۔
نئے چیف جسٹس ناصر الملک 17اگست1950ء کو مینگورہ میں ایک با اثر پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ سابق سینیٹر کامران خان کے بیٹے اور سابق سینیٹر شجاع الملک کے بھائی ہیں۔ انر ٹیمپل لندن سے 1976ء میں بار ایٹ لا کے بعد دو مرتبہ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر رہنا جسٹس ناصر الملک کا اعزاز ہے۔ 5اپریل 2005ء میں ناصر الملک نے سپریم کورٹ میں بطور جج کیریئر کاآغاز کیا۔ ناانصافیوں کے مارے ہوئے عام سائل اور سیاست سے دُکھے ہوئے پروفیشنل وکیل چیف جسٹس ناصر الملک جیسے پیشہ ور اور صاف ستھرے چیف جسٹس سے بہت امید لگائے بیٹھے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں دونوں کی امیدیں بالکل بجا ہیں۔ نئے چیف جسٹس نے جس آئین کی نشاندہی کی اس کے کچھ گوشے ایسے ہیں جن کو نامحرم سمجھ کر ان کا نام لینا پارلیمنٹ اور حکمران شجرِ ممنوعہ گردانتے ہیں۔ میں اُن سے اپنی قوم کا تعارف کرانا چاہتا ہوں کیونکہ آئین کا مطلب صرف وزیرِاعظم، صدر، وزیر، مشیر، گاڑی اور بیان بازی نہیں ۔ نہ ہی جمہوریت کا مطلب صرف حکمران ٹولہ یا سرمایہ دار اشرافیہ ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ 12اپریل 1973ء کے روز نافذ ہونے والے ہمارے آئین کا دیباچہ عوام کی طاقت کے گرد گھومتا ہے۔ اسی لیے دیباچہ میں ریاست نے اپنے شہریوں سے عمرانی معاہدہ کر رکھا ہے۔ ایسا معاہدہ جسے آئین کے جنرل آرڈر سپلائرز اور جمہوریت کے پرچون فروش دونوں بُھلا بیٹھے ہیں ۔ یہ واحد دستاویز ہے جو ریاست کو شہریوں کے حق میں بنیادی ضمانتوں کا پابند بناتی ہے۔ اس کے اہم نکات یہ ہیں۔
1۔ملک میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی۔
2۔ان حقوق میں Equality of Status ہوگی یعنی پاکستان کا ہر آدمی بحیثیت شہری برابر درجہ اور اہمیت رکھے گا۔
3۔سب کے لیے مواقع کی مساوات ہو گی۔
4۔قانون کی نظر میں تمام پاکستانی برابر ہیں۔
5۔سماجی طور پر سب ایک جیسے ہیں۔
6۔معاشی مساوات سب کا حق ہے۔
7۔کوئی شہری بھی سیاسی انصاف سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔
8۔سب کوFreedom of Thoughtیعنی سوچ کی آزادی ہو گی۔
9۔اظہارِ رائے کی آزادی بنیادی حق ہو گا۔
10۔Belief،عقیدہ، عبادت میں آزادی ہو گی۔
11۔اجتماع منعقد کرنے کا حق ہو گا۔ 
ایک لمحے کے لیے رُک کر سوچیں وہ طبقے جو عہدے، تنخواہ، مراعات اور مفادات مِل جانے کو ہی پاکستان کا آئینی نظام کہتے ہیں انہوں نے آئین کے ان حصوں کا کبھی ذکر کیوں نہیں کیا۔ کیا الیکشن لڑ کر اسمبلی کی سیٹ یا کابینہ کے عہدے پر چڑھ جانے سے جمہوریت مکمل ہو جاتی ہے۔ آپ کا آئین کہتا ہے جی نہیں۔ اسی آئین کے آرٹیکل 3میں پاکستان کی ریاست نے اپنے ذمے لے رکھا ہے کہ:
الف۔پاکستان میں ہر قسم کے Exploitationیعنی استحصال کا خاتمہ ہو گا۔
ب۔ہر کسی کو اس کی اہلیت کے مطابق ملازمت دی جائے گی۔
پ۔ہر شہری کو اس کے کام سے مطابقت رکھنے والا معاوضہ۔تنخواہ ملے گی۔
سوال تو یہاں بھی پیدا ہوتا ہے کہ آئین بننے کے چوتھے عشرے بعد بھی ،وہ کون سا ادارہ ہے جو عوام کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اگر کوئی نہیں اور حقیقت میں کوئی بھی نہیں تو پھر آئین کے اس حصے کو پامال کرنے کی ذمہ داری کس پرہے۔آئین میں درج ریاست اور شہریوں کے درمیان عمرانی معاہدہ توڑنے والے کا ٹرائل کون کرے گا۔
میں یہاں ایک اور اہم قومی ایشو پر سب کی توجہ چاہوں گا۔ وہ معاملہ بھی آئین کے دیباچے میں درج ہے۔ یعنی اقلیتوں، پسماندہ اور پست ترین طبقات کے جائز مفادات کے تحفظ کا انتظام۔ اس وقت پسماندہ علاقے پسماندگی کی دلدل میں گَل سڑ رہے ہیں‘ جبکہ سارا بجٹ ہر سال چھ شہروں کی مسلسل سلامی لیتا رہتا ہے۔ پست طبقے غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں‘ لیکن پاکستان کے موجودہ نظام میں ان کے لیے نہ کوئی حصہ ہے نہ کوئی آواز اور نہ ہی کوئی ذرا سی امید۔ کیا کوئی ان پسے ہوئے طبقوں کو اس صدی کا نام یا اُس کا وہ سال بتا سکتا ہے جب ان کی تقدیر بدل جائے گی‘ وہ بھی سرمایہ داروں کے نظامِ سرمایہ داری میں ۔ اقلیتوں کے ساتھ اس سے بڑا تماشہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ووٹ سے اپنا نمائندہ ہی منتخب نہیں کر سکتے۔ سفارش یا سخاوت کے نتیجے میں جو لوگ اقلیتی سیٹوں پر پارلیمنٹ میں آتے ہیں ان کی نمائندگی نہ بجٹ بنانے والی فنانس کمیٹی میں ہے، نہ جج لگانے والی جوڈیشل کمیٹی میں ، نہ ہی الیکشن کمیشن تشکیل دینے والی پارلیمانی کمیٹی میں۔ اس پر طُرفہ تماشہ یہ ہے ان دنوں پارلیمانی اصلاحات کے لیے جو نام سینیٹ سے بھجوائے گئے ان میں سِرے سے اقلیت کی نمائندگی ہی نہیں ۔ قومی اسمبلی کا حال اس سے بھی پتلا ہے۔
73ء کا آئین جمہوریت کس کو کہتا ہے‘ یہ جاننے کے لیے تحقیق کی ضرورت نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 37 اور38کے چیدہ چیدہ نکات آپ خود دیکھ لیں۔ 
ریاست پسماندہ طبقے کے تعلیمی و معاشی مفادات پر خصوصی توجہ دے گی۔ کم سے کم مدت میں ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی۔ مفت ، لازمی ثانوی تعلیم دے گی۔ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو عام کرے گی۔ سستا انصاف یقینی بنائے گی۔ بچوں ، عورتوں سے ایسا کام نہ لیا جائے جو نامناسب ہو۔ ہر علاقے کو تعلیم، تربیت اور زرعی و صنعتی ترقی سے اس قابل بنا دے گی کہ وہ قومی سرگرمیوں اور ملازمت پاکستان میں حصہ لے سکیں۔عصمت فروشی، قمار بازی اور ضرر رساں ادویات کے استعمال کو روکے گی۔
ریاست عام آدمی کے معیارِ زندگی کو بلند کر کے، دولت و وسائلِ پیداوار کی تقسیم کو چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے روکے گی۔ ایسے شہریوں کے لیے جو کمزوری، بیماری یا بیروزگاری کے باعث مستقل یا عارضی طور پر روزی نہ کما سکتے ہوں ضروریاتِ زندگی بشمول خوراک، لباس، رہائش، تعلیم اور طبی امداد مہیا کرے گی۔ ملازمت کے مختلف درجوں پر آمدنی اور کمائی میں عدم مساوات کو کم کرے گی۔
آج تک عوام کے ا س آئین کو پامال کیا گیا۔ حکمران طبقوں نے ہمیشہ اپنے مفاد کو آئین کا تحفظ اور جمہوریت کا تسلسل کہا۔ اسی لیے ہمارا نظام یہ منظر پیش کرتا ہے: 
بکھرے بکھرے تاش کے پتّے چند جواری کھیل رہے ہیں
فکر میں ہر اِک ڈوب رہا ہے، باری باری کھیل رہے ہیں
دائو پہ ہے ہر ایک کھلاڑی، ترساں ترساں، لرزاں لرزاں
ہارنے والے خنداں خنداں، جیتنے والے حیراں حیراں
جیتو ہارو، ہارو جیتو، اس ڈ یرے کی رِیت یہی ہے
اس سے چھینو، اُس پر جھپٹو، مِیت کے بھوکو پریت یہی ہے 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں