رمضان پیکج

عرب ملکوں سمیت مغرب میں جہاں جہاں لبنان کے تاجر دکانیں چلاتے ہیں‘ وہاں سارا سال ''لُوٹ سیل‘‘ کے بورڈ لگے رہتے ہیں ۔سوائے دبئی کے ۔مجھے 1979ء سے اس کا تجربہ تھا۔ جب میں عرب دنیا میں یونیورسٹی سٹوڈنٹ کی حیثیت سے رہتا تھا ۔ہر مہینے بعد ہارڈ بورڈ اور گتے پر دُکان بند کرنے کا اعلان اور لُوٹ سیل کا بورڈ تبدیل ہو جاتا ۔مگر اصل تبدیلی ہر چھ مہینے بعد تب رُونما ہوتی جب دکاندار سیلز مین کو چھٹی پر بھیجتا۔اُسی وقت نئے چہرے سامنے آتے۔ سستے بازار کی اصل خوبی یہ تھی کہ ان دکانوں میں ہر وہ چیز 100روپے میں ملتی جو عام دکانوں پر 35روپے میں فروخت ہوتی تھی ۔ ایسے ہی مناظر آپ آج کل اپنے ملک میں مفت دیکھ سکتے ہیں وہ بھی سستے رمضان بازاروں میں ۔جہاں سرکاری لیڈر یا اس کا رشتہ دار گرم آلو ہاتھ میں پکڑ کر رمضان پیکج کی مشہوری کرتا نظر آئے گا۔یوں تو رمضان پیکج سے پوری قوم متاثر ہو رہی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ڈینگی، لوڈشیڈنگ، سیلاب، مہنگائی، ڈکیتی، اغواء، بھتہ خوری اور بدمعاشی سے متاثر ہوتی ہے ۔لیکن میں ذاتی طور پر حالیہ رمضان پیکج کو کچھ زیاد ہ ہی متاثر کن سمجھتا ہوں۔ تقریباََ ہر روز سرکار کا کوئی نہ کوئی بڑا رمضان پیکج کو عوام پر احسان عظیم قرار دیتا ہے۔ کیا یہ میگا مہربانی متاثر ہونے کے لیے کافی نہیں ۔جو لوگ جان بوجھ کر اس تاریخی ''کرم نوازی‘‘ کو جھٹلاتے ہیں اُن کی طبیعت ٹھیک کرنے کے لیے ذرا تفصیل میں چلتے ہیں ۔ 
آج کے بین الاقوامی گائوں جسے ہم دھرتی ماں کہتے ہیں‘ میں مقابلہ اور تبدیلی ترقی کی بنیاد ہیں۔ مقابلہ کرنے والی قوم ہو یا معیشت‘ اس کے لیے نہ دن کی کوئی تفریق ہے اور نہ رات کی۔ انگریزی محاورے کے مطابق گلا کاٹنے والا یہ مقابلہ مسلسل چل رہا ہے اور دنیا انصاف سمیت ہر میدان میں متبادل ذرائع ڈھونڈھ نکالتی ہے۔ انتہائی ترقی یافتہ ملکوں میں عدل کا سب سے کامیاب انتظام غیر عدالتی ہے۔ اسے Alternate Dispute Resolutionکہا جاتا ہے۔ یعنی ہماری روایت کے مطابق یہ عدالت کو چھوڑ کر فیصلے کے لیے جرگے کی طرف رجوع کرنا ہے۔
رمضان کا وہ ریلیف جو عوام کو ملا‘ اسے کئی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ آئیے یہ ریلیف جس نے غریبوں کی ہائے ہائے کروا دی ہے ایک ایک کر کے دیکھ لیتے ہیں ۔پاکستانی قوم کو اس رمضان میں سب سے زیادہ ریلیف قرضوں کے میدان میں ملا۔ قرضوں کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ بیرونی قرضوں میں آئی ایم ایف نے عوام دشمن مہنگائی اور غریب کُش پرائس کنٹرول سے خوش ہو کر ہمیں اور قرضہ دے دیا ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شُکرہے کہ یہ قرضہ لیتے وقت طائرِ لاہوتی کا کشکول بالکل نہیں ٹُوٹا۔ نہ ہی پاکستان کی کوئی بے عزتی ہوئی ہے۔ اس سال ہم نے بینکوں سے حسبِ منشاء 18فیصد سود پر پیسے پکڑے اور اپنی عزیز ترین IPPکمپنیوں کو 550ارب روپے کا گردشی قرضہ جسے غصے میں آ کر عوام گشتی قرضہ بھی کہتے ہیں‘ واپس کر دیا۔ یہ قرضہ لینے والی کمپنیوں کا شکریہ کہ انہوں نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے بجلی تو نہ پیدا کی لیکن ہم پر کمال مہربانی کر کے اس گشتی قرضے کی گشت اتنی بڑھائی کہ گیارہ مہینوں میں پھر یہ قرضہ 500ارب روپے پر پہنچ گیا۔
رمضان کا دوسرا ریلیف وزارتِ دفاعِ لوڈ شیڈنگ نے عوام کو دیا۔ لوڈ شیڈنگ کے مارے ہوئے خاندانوں، ٹریڈرز، درزیوں، موچیوں، مکینکوں، پاور لوم والوں اور انڈسٹری لگانے والوں کو کہا گیا کہ ہم تین ماہ میں بجلی فراہم کرنے والا وعدہ پورا کر رہے ہیں۔ لیکن بجلی حاصل کرنے کی صرف ایک شرط ہے‘ وہ یہ کہ آپ اللہ کے حضور گِڑگِڑائیں۔ لوڈ شیڈنگ کی ماری ہوئی لال سُرخ آنکھوں سے آنسوئوں کا سیلاب نکالیں اور ہو سکے تو اپنے خرچ پر بارش بھی کروالیں تاکہ ڈیم بھر جائیں اور جمہوریت آپ کو بجلی دینا شروع کر دے۔ راوی کہتا ہے کہ اس عظیم ریلیف سے فیصل آباد والے خاص طور پر چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بجلی بھی سستی کر دی گئی ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بجلی مفت ہے۔ جی ہاںاُن کے لیے جو اسے چوری کرتے ہیں یا کرواتے ہیں۔ چونکہ وزارتِ دفاعِ لوڈ شیڈنگ نے بجلی کی چوری کا سارا بِل میرے اور آپ کے پتے پربھیج دیا ہے جس میں بجلی پیدا نہ کرنے والی کمپنیوں کے ترقیاتی اخراجات اور عیاشی والے اخراجات بھی شامل ہیں۔ اب بھی اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بجلی والوں نے اسے ریلیف نہیں دیا تو وہ میرے کالم کا نام بدل دے۔
آلو، ٹماٹر، دھنیا، پیاز، سبزی، گنڈے بیچنے کے لیے لگائے گئے ''سستا بازار‘‘ مقدس ماہِ رمضان کا سب سے بڑا ریلیف ہیں جس کو یقین نہ آئے وہ قریبی سستا بازار جا کر دیکھ لے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ابھی تک ملک کے بیشتر شہروں میں ٹریکٹر لگا کر سستا بازار سجانے کے لیے گرائونڈ ہموار ہو رہے ہیں۔ جہاں بازار لگ گئے وہاں قلندروں کے رُوپ میں مچھندروں نے ڈیرے لگالیے ہیں۔ان بازاروں میں ریلیف کا یہ عالم ہے کہ اگر یہاں سے خریدی ہوئی سبزی یا دال کوئی لیڈر کھا لے تو اسے اپنے معدے یا گیس ٹربل کا علاج کروانے کے لیے قطر، جدہ یا لندن جانا پڑے گا۔ ان بازاروں میں اکثر وہ سبزیاں، فروٹ اور مال بیچا جا رہا ہے جسے بلدیہ والے گندگی کے ڈھیروں پر بھی نہیں پھینکنے دیتے۔ کیونکہ ان ڈھیروں پر ڈینگی مچھروں کی سہ بارہ تشریف آوری ہو سکتی ہے۔ وزیروں کے ایک قافلے نے جو جلدی جلدی قوم کے سارے مسائل حل کر چکا ہے یہ تاریخی سچ بھی بولا ہے کہ ہم نے مہنگائی پر قابو پا لیا ہے۔ رمضان پیکج کے ریلیف سے عیاشی کرنے والے پاکستانی عوام ان سے صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کس ملک میں مہنگائی پر قابو پایا ہے اور کس چیز کی مہنگائی پر۔
اگر ان دو سادہ سے سوالوں کے جواب مل جائیں تو غریب عوام خوشی کے شادیانے بجائیں گے۔ شادیانے سے یاد آیا اسے پنجابی میں ڈھول باجہ کہتے ہیں اور یہ اکثر ان گھروں میں بجایا جاتا ہے جہاں نئی نئی شادیاں ہو رہی ہوں یا اولادیں۔ ایسے ہی ریلیف سے راضی ہو کر شاعر نے کہا تھا:
بھیک سے ملک بھی چلے ہیں کبھی؟
زندہ قوموں کا یہ شعار نہیں
اِک نظر اپنی زندگی پر ڈال
اِک نظر اپنے اردلی پر ڈال
فاصلہ خود ہی کر ذرا محسوس
یوں نہ اسلام کا نکال جلوس
یہ زمیں جب تلک نہ لیں گے ہم
اس سے اُگتے رہیں گے، یونہی غم
سُنا ہے رمضان میں دعائیں سیدھی عرش تک جاتی ہیں۔ اس لیے آج کل رمضان پیکج کے متاثرین یہ دُعا کرتے نظر آتے ہیں کہ یا خدا جس ریلیف کا مزا اس ملک کے بیس کروڑ عوام چکھ رہے ہیں وہ ریلیف اس ملک کے حکمرانوں کی قسمت کا حصہ بنا دے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں